حج کا عاطفی پہلو: قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ الزاریات 56۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت کا جذبہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر شامل ہے۔ انسان کو نہ صرف یہ کہ ازروئے واقعہ خدا کی عبادت کرنا چاہیے، بلکہ اس کی فطرت کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ وہ ایسا کرے۔
خدا کی عبادت خود انسان کی اپنی فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی عبادت کے سوا کوئی چیز انسان کو حقیقی طور پر مطمئن نہیں کرتی۔ ألا بذكر الله تطمئن القلوب سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح ایک چھوٹا بچہ عین اپنے اندرونی جذبے کے تحت مجبور ہے کہ وہ اپنی ماں کی طرف لپکے، اسی طرح انسان عین اپنی اندرونی پکار کی بنا پر مجبور ہے کہ وہ خدا کی طرف دوڑے۔
انسان اپنی اندرونی شخصیت کو بدل نہیں سکتا، اس لیے وہ خدا کو بھی اپنے دل و دماغ سے نکال نہیں سکتا۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 71۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.