ایک ضروری شرط: حج کے ادارے کو عالمی دعوتی ادارہ بنانے کی ایک ہی لازمی شرط ہے، اور وہ یہ کہ حج کے فریضے کو سیاست سے بالکل الگ رکھا جائے۔ راقم الحروف نے ستمبر 1982 میں حج کا فریضہ ادا کیا تھا، ایک روز جب کہ میں بیت اللہ کے اندر تھا، ایک خاص ملک کے کچھ لوگ وہاں آئے اور اپنے ملک کے لیڈر کا نام لے کر "زندہ باد، پائندہ باد" کے نعرے لگانے لگے۔ یہ سن کر بہت سے حاجی ان کے گرد جمع ہو گئے۔ آپس میں اختلافی بحثیں شروع ہو گئیں۔
یہ سلسلہ بہت دیر تک جاری رہا۔ بیت اللہ کا ماحول ذکر اور عبادت کا ماحول ہے، مگر مذکورہ نادانی کے نتیجے میں وہ سیاسی نزاع کا ماحول بن کر رہ گیا۔ یہی قصہ مدینے میں بھی پیش آیا۔ مدینے میں میں ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔
وہاں کچھ نوجوان میرے کمرے میں آئے۔ ان کے پاس بہت سے چھپے ہوئے پمفلٹ تھے، جو انگریزی اور عربی زبان میں تیار کیے گئے تھے۔ ان کتابچوں میں ایک خاص مسلم ملک کے حکمران کو نشانہ بنا کر اس کے بارے میں مخالفانہ باتیں لکھی گئی تھیں۔ ان نوجوانوں نے یہ کتابچے مجھے دیے، تو میں نے کہا کہ آپ اپنا قیمتی وقت بھی برباد کر رہے ہیں اور ایام حج کو بھی نہایت غلط طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
وہ نوجوان مجھ سے بحث کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ بگڑ کر چلے گئے۔ موجودہ زمانے میں یہ رجحان کافی بڑھا ہے۔ کچھ ادارے اور کچھ حکومتیں حج کو صرف اس نظر سے دیکھتی ہیں۔ یہاں بیک وقت ساری دنیا کے مسلمان جمع ہوتے ہیں، اس لیے ان کو اپنے محدود سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
مگر یہ طریقہ سراسر غلط اور حج کے مقاصد کے بالکل خلاف ہے۔ حج میں جمع ہونے والے مسلمانوں کو صرف اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ وہ حج کا فریضہ ادا کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اس عالمی اجتماع سے فائدہ اٹھانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دعوتی روح پیدا کی جائے، تاکہ وہ واپس جا کر اپنے اپنے علاقوں میں اللہ کے دین کا اعلان کرنے والے بنیں، نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے۔ حج ایک زبردست قوت ہے، اور اس کو نہایت مؤثر طور پر عالمی اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس کو آپس کے اختلاف کا میدان نہ بنایا جائے۔
حقیقت حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 69۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.