Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Hajj ki Tanzeem-e-now

Urdu · 12 min

حج کی تنظیمِ نو—حج کو دوبارہ اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنا—یہ ہے کہ اس کو دعوتی ادارے کی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔ حج کو دعوتِ اسلامی کی عالمی منصوبہ بندی کا مرکز بنا دیا جائے۔ اس بین الاقوامی موقع پر، ہر ملک کے لوگ اپنے ملک کے دعوتی حالات پیش کریں؛ ایک جگہ کے لوگ دوسری جگہ کے تجربات کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ حج کے خطبات میں دعوت کی اہمیت اور اس کے جدید مواقع کی وضاحت کی جائے۔

حج کے ادارے کے تحت مختلف زبانوں میں مؤثر دعوتی لٹریچر تیار کرنے کا انتظام کیا جائے، اور اس کو عالمی سطح پر پھیلایا جائے وغیرہ۔ تاہم یہ بھی اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ حج کی نئی رخ بندی خود مسلمانوں کی زندگی کی نئی رخ بندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ مسلمانوں کی اصل ذمہ داری شہادت علی الناس ہے؛ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے، مگر مسلمان موجودہ زمانے میں اس حقیقت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ انہوں نے ساری دنیا میں غیر مسلم اقوام کو اپنا مادی حریف اور قومی فریخ بنا رکھا ہے۔

حج کو دعوتی ادارے کی حیثیت سے زندہ کرنے کے لیے سب سے پہلے مسلمانوں کو دعوتی گروہ کی حیثیت سے زندہ کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کو اس کے لیے آمادہ کرنا ہوگا کہ دنیا بھر میں وہ اپنی ان قومی سرگرمیوں کو ختم کر دیں جو ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کی فضا پیدا نہیں ہونے دیتیں۔ اگر آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان معتدل فضا نہ ہو تو آپ کس کو تبلیغ کریں گے، اور کون آپ کی تبلیغ کو سنے گا؟ پھر اس مقصد کے لیے ضرورت ہے کہ اعلیٰ درجے کی تبلیغی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں، جن کا نصاب اور نظام کامل طور پر دعوت رخی ہو۔

ایسے ادارے قائم کیے جائیں جہاں لوگوں کی تربیت داعیانہ انداز سے کی جائے۔ ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جو ایک طرف لوگوں کے اندر دعوتی ذہن بنائے، اور دوسری طرف ان کو دعوتی معلومات سے مسلح کرے۔ حتیٰ کہ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اسلام کا جدید بنیادی لٹریچر دوبارہ تیار کیا جائے، کیونکہ موجودہ زمانے میں تفسیر قرآن اور سیرت رسول پر جو کتابیں تیار ہوئی ہیں، وہ زیادہ تر ردعمل کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہیں؛ وہ غیر قوموں کے فکری اور عملی حملوں کے جواب کے طور پر وجود میں آئیں، نہ کہ دعوتِ اسلام کی مثبت وضاحت کے لیے۔ اب سے 1400 سال پہلے مکی دور میں چلے جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ اسلام کا پیغمبر تنہا کعبے کا طواف کر رہا ہے۔

اس وقت اسلام ایک فی دنیا کی تعداد کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج ہر دن کثرت سے لوگ کعبے کا طواف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور حج کے زمانے میں ساری دنیا کے لاکھوں انسان اس طرح ہجوم کر کے مکہ آتے ہیں کہ مسجد حرام کی مسلسل توسیع کے باوجود ہر سال اس کی عمارت ناکافی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تعداد کی یہ کثرت کیسے ممکن ہوئی؟ جواب یہ ہے کہ دعوت کے ذریعے۔

حقیقت یہ ہے کہ حج کا عالمی اجتماع اسلام کی دعوتی قوت کا ایک سالانہ مظاہرہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اسلام کی دعوتی قوت ہی میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام ترقیوں کا راز چھپا دیا ہے۔ اسی میں اہلِ اسلام کی دنیاوی نجات بھی ہے، اور اسی میں ان کی اخروی نجات بھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کی قوت ہمیشہ دعوت رہی ہے۔

ابتدائی دور میں اسلام اگرچہ مکے کے عوام کو متاثر نہ کر سکا، مگر وہ سارے قیمتی افراد مکے کے ابتدائی دور ہی میں ملے جو بعد کو اسلام کی تاریخ کے ستون قرار پائے۔ یہ صرف اسلامی دعوت کا نتیجہ تھا، کیونکہ اس وقت اسلام کے پاس کوئی دوسری قوت موجود ہی نہ تھی۔ بعد کو مکے کے جو لوگ اسلام لائے، وہ بھی اسلام کی نظریاتی برتری سے متاثر ہو کر اسلام لائے؛ مثلاً عمر ابن العاص اور خالد ابن الولید وغیرہ۔ دوسرے مرحلے میں مدینے میں اسلام کا مستحکم ہونا بھی دعوت ہی کے ذریعے عمل میں آیا۔

مدینے پر کبھی کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ صرف چند لوگ اسلام کے داعی بن کر مدینہ پہنچے، وہاں انہوں نے سادہ انداز میں اسلام کی دعوت شروع کی۔ اس کے نتیجے میں لوگ جوخ در جوخ مسلمان ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ نوبت آئی کہ مدینہ اسلام کا فکری اور عملی مرکز بن گیا۔ بعد کے دور میں مغلوں اور تاتاریوں کا مسئلہ اسلام کے لیے پیش آیا۔

یہ وحشی قومیں گھوڑوں پر سوار ہو کر، تیر اور تلوار لیے ہوئے، مسلم ملکوں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کے طاقتی مراکز کو زیر و زبر کر ڈالا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کی تاریخ اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح اس سے پہلے بہت سی تہذیبوں کی تاریخ پیدا ہوئی اور ختم ہو گئی۔ مگر عین اس وقت اسلام کی دعوتی طاقت ابھری، اور اس نے سارے مسئلے کو اس طرح حل کر دیا کہ خود فاتح قوموں کو اسلام کا جز بنا لیا۔ حج اور بیت اللہ ایک عظیم دعوتی منصوبہ بندی کی علامت ہیں۔

حضرت ابراہیم کی آواز جب عراق اور شام اور مصر کے متمدن علاقوں میں نہیں سنی گئی، تو آپ نے خدا کے حکم سے اپنی اولاد کو لا کر مکے میں بسایا اور یہاں کعبے کی تعمیر کی، تاکہ وہ ہدایتِ الہی کے مستقل مرکز کے طور پر کام دے۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ مُضْعَلٍ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ آلِ عمران 96: پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہ وہی ہے جو مکے میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لیے رہنما۔ عمر ابن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الدِّينَ لَيَعْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَعْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ مِنَ الْحِجَازِ مَعْقَلَ الْأُرْوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ فَتُوبَى لِلْغُرَبَاءِ وَهُمُ الَّذِينَ يُسْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ اخرجہ الترمذی۔ دین حجاز کی طرف سمٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے۔

اور دین حجاز کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، جس طرح بکرے کو پہاڑ کے تھان پر باندھ دیا جاتا ہے۔ دین شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا، تو اجنبیوں کو مبارک ہو۔ یہی لوگ ہیں جو اس وقت لوگوں کی اصلاح کریں گے جبکہ وہ بگڑ جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حجاز دعوتِ اسلامی کا مرکز بنا، اسی طرح آئندہ بھی جب دین لوگوں کے اندر سے گم ہوگا تو دوبارہ حجاز ہی خدا کے دین کو زندہ کرنے کا مرکز بنے گا۔

حج کا مقام خدا کی عبادت کا مقام بھی ہے، اور خدا کے دین کی دعوت و تجدید کا مرکز بھی۔ ضرورت ہے کہ آج حج اور حج کے مراکز کو دوبارہ اسی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب نے بہت سے نئے دعوتی امکانات کھول دیے ہیں۔ ان کے نتیجے میں آج یہ بات ہمیشہ سے زیادہ بڑے پیمانے پر ممکن ہو گئی ہے کہ حج کے عالمگیر اجتماع کو دعوتِ دین کی عالمی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جائے، اور اس طرح اسلام کے طرز فکر کو دنیا میں دوبارہ غالب طرز فکر بنا دیا جائے۔

جیسا کہ ماضی میں وہ غالب طرز فکر بنا ہوا تھا، یہی وہ مقصود ہے جس کو قرآن میں اظہار دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کہا گیا ہے۔ اور اس کو پانے کا راز بلاشبہ حج کی دعوتی اہمیت کو دوبارہ زندہ کرنے میں چھپا ہوا ہے۔ حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 66۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.