Maulana Wahiduddin Khan
25 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Hajj ek Tareekh saaz Amal

Urdu · 25 min

حج ایک تاریخ ساز عمل ہے؛ کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کو اس میں تردد تھا کہ اسلامی عبادتوں میں کون سی عبادت افضل عبادت ہے۔ جب انہوں نے حج ادا کیا تو اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اب مجھے یقین ہو گیا کہ حج تمام عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ہے۔ حج کی اس فضیلت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ حج کا تعلق ایک عظیم خدائی منصوبے سے ہے۔ حج ایک ایسے خدائی منصوبے کی یادگار ہے جس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں ہوا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کی آخری تکمیل ہوئی۔

حج کے مختلف مناسک اسی خدائی منصوبے کے مختلف مراحل ہیں، جن کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے۔ حاجی اپنے گھر سے نکل کر حجاز کے لیے روانہ ہوتا ہے، جس طرح حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر حجاز آئے۔ وہ مکے کے قریب پہنچ کر سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے، اور اپنے جسم پر دو چادریں لپیٹ لیتا ہے۔ یہ اسی قسم کی سادہ پوشاک ہے جو اس زمانے میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی ہوتی تھی۔

حاجی مکہ پہنچتا ہے تو کعبے کے گرد گھوم کر اس کا چکر لگاتا ہے۔ یہ وہی طواف ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے عہدِ خداوندی کی توثیق کے لیے کیا تھا۔ حاجی صفا و مروہ کے درمیان 7 بار سعی کرتا ہے۔ یہ حضرت ہاجرہ کی اس دوڑ کی نقل ہے جو انہوں نے اس بیابان میں پانی کی تلاش کے لیے کی۔

حاجی منیٰ جا کر قربانی کرتا ہے۔ یہ اس قربانی کا علامتی اعادہ ہے جو حضرت ابراہیم نے اولاً بیٹے کے لیے، اور اس کے بعد خدا کے حکم سے مینڈھے کے لیے کی تھی۔ حاجی جمرات پر جا کر شیطان کو کنکریاں مارتا ہے۔ یہ اس عمل کی یادگار ہے جو حضرت اسماعیل نے شیطان کی طرف کنکریاں مار کر کیا تھا، جبکہ اس نے انہیں بہکانے کی کوشش کی۔

پھر تمام حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ اس عمل کی آخری صورت ہے جو لبیک اللہم لبیک کی صورت میں ہر حاجی کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ یہاں تمام حاجی کھلے میدان میں جمع ہو کر اپنے خدا سے اجتماعی عہد کرتے ہیں کہ وہ وہی کریں گے جس کا سبق انہیں حج کی صورت میں دیا گیا ہے۔ وہ اسی میں جییں گے جس میں وہ لوگ جیے جن کی یادگار میں حج کی عبادت ادا کی جاتی ہے۔

حج کے مناسک کو قرآن میں شاعر کہا گیا ہے، یعنی علامتی چیزیں۔ یہ سب دراصل حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزرنے والے واقعات ہیں، جو مذکورہ منصوبہ الہی کی تکمیل کے دوران پیش آئے۔ ان واقعات کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے، اور اس طرح یہ عہد کرتا ہے کہ وہ بھی اسی تاریخ کا جز بنے گا۔ حاجی گویا یہ عہد کرتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ اپنی دنیا کو اجاڑ کر حق کی طرف بڑھے گا۔

وہ آرام و راحت کو چھوڑ کر قناعت اور سادگی پر اپنے آپ کو راضی کرے گا۔ وہ خدا کے لیے دوڑے گا اور خدا کے گرد گھومے گا۔ وہ شیطانی بہکاؤں کو پتھر مار کر اپنے سے دور بھگائے گا۔ خدا کا دین اس کو جہاں لے جائے، وہاں وہ جائے گا، اور جس چیز کا تقاضا کرے گا، اس کو وہ اس کے حوالے کر دے گا۔

وہ عمل کی زبان میں خدا سے کہتا ہے کہ اگر دوبارہ دین کے لیے ضرورت پیش آئی تو وہ اس آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے کہ اپنی اولاد کو ذبح کر کے دین کی ضرورت پوری کرے۔ حضرت ابراہیم کا عراق سے چل کر مکہ آنا، اور یہاں مذکورہ واقعات کا پیش آنا، ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا جو ڈھائی ہزار سال میں بروئے کار لایا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب سے 5000 سال پہلے انسانی ذہنوں پر شرک کا اتنا غلبہ ہو گیا تھا کہ زندگی کا کوئی شعبہ شرک سے خالی نہ تھا۔ یہ صورتحال نسل در نسل جاری رہی۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہو گیا۔ اس زمانے کی آبادیوں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا، وہ شرک کا ذہن لے کر پیدا ہوتا، اور اسی پر اس کی پوری اٹھان ہوتی۔ اس بنا پر پیغمبروں کی توحید کی دعوت کسی طرح لوگوں کو اپیل نہیں کرتی تھی۔ اب خدا نے یہ منصوبہ بنایا کہ انسانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو مشرکانہ ماحول سے الگ ہو کر پرورش پائے، تاکہ وہ مشرکانہ تسلسل سے آزاد ہو کر سوچ سکے۔

اس کے لیے شہری آبادیوں سے دور ایک غیر آباد مقام ہی مناسب ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے عرب کے خشک علاقے کا انتخاب کیا گیا، جو اس زمانے میں آباد دنیا سے الگ تھلگ بالکل غیر آباد حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اب اس بے آب و گیاہ علاقے میں ایک نئی نسل تیار کرنے کے لیے وہ پہلا انسان درکار تھا جو موت کی قیمت پر وہاں بسنے کے لیے تیار ہو۔ اس نازک موقع پر حضرت ابراہیم کو خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے نوجوان بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔

یہ جسمانی ذبح حقیقتاً صحرائی ذبح کی تمثیل تھی۔ اس کے ذریعے یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کیا ابراہیم اس کے لیے تیار ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدائی منصوبے میں اس طرح شامل کریں کہ اپنی محبوب اولاد کو لے جا کر حجاز میں بسا دیں، جہاں خشک پہاڑوں اور رتیلی صحراؤں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس زمانے میں حجاز میں بسنا موت کی وادی میں بسنے کے ہم معنی تھا۔ قدیم زمانے میں حجاز اسی لیے غیر آباد پڑا رہا کہ وہاں پانی اور سبزہ نہ تھا۔

قدیم حجاز کا مشرکانہ تمدن سے پاک رہنا اسی لیے ممکن ہوا کہ وہ زندگی کے سامان سے خالی تھا۔ قدیم حجاز کی وہ خصوصیت، جس نے اس کو مشرک انسانوں سے خالی رکھا تھا، اسی نے اس کو اس قابل بنا دیا کہ وہاں موحدین کی ایک نئی نسل تیار کی جائے۔ حضرت ابراہیم کا اپنے نوجوان بیٹے یعنی اسماعیل کے گلے پر چھری رکھنا اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اس قربانی کے لیے آخری طور پر تیار ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو اس منصوبہ بندی کے لیے چن لیا گیا، اور ان کو قدیم حجاز کے الگ تھلگ علاقے میں بسا کر نئی نسل تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

حضرت ابراہیم نے اسماعیل کی نسل میں ایک پیغمبر پیدا ہونے کی دعا کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دعا کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، دعا اور اس کی قبولیت کے درمیان ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ اس تاخیر کا سبب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران وہ نسل تیار کی جا رہی تھی جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر سوچ سکے، اور صحرائی تربیت کے نتیجے میں جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیغمبر کا ساتھ دے کر اس مشکل مشن کو تکمیل تک پہنچا سکے۔

اسی لیے اس گروہ کو خیرِ امت کہا گیا۔ یہ امت تاریخ کی انوکھی امت ہے۔ ابتدا ضرور اس کی ایک تعداد پیغمبر کی دشمن ہو گئی، مگر جب اس کی سمجھ میں آ گیا تو اس نے بھرپور طور پر آپ کا ساتھ دیا۔ اس طرح جو نسل بنائی گئی، اس کے اندر اگرچہ بعد کو اطراف کی دنیا سے کچھ شرک کے اثرات آ گئے، مگر بنیادی طور پر وہ ایک محفوظ نسل تھی۔

کچھ ناقص افراد کو چھوڑ کر وہ لوگ صحیح فطرت پر قائم تھے۔ انہوں نے ابتدا پیغمبر کی مخالفت بھی کی، مگر اس کا سبب زیادہ تر ناسمجھی تھا۔ جب ان کی سمجھ میں آ گیا کہ واقعی یہ پیغمبر ہیں اور ان کا دین برحق ہے، تو ان کی مخالفت دوبارہ موافقت میں تبدیل ہو گئی۔ وہ بھرپور طور پر آپ کے ساتھی بن گئے۔

حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو ذبح کر کے جو نسل تیار کی، اس کا سب سے زیادہ نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ آزاد ذہن کے ساتھ حقیقت کو دیکھ سکتی تھی اور اس کا اعتراف کر سکتی تھی۔ حقیقتِ واقعے کو مان لینے کی صلاحیت اس کے اندر کامل درجے میں موجود تھی۔ یہاں اس سلسلے میں تین مختلف مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ ایک شخص وہ جس نے حق کو سنتے ہی اسے مان لیا۔

دوسرا وہ جس نے ابتدا انکار کیا، مگر جب بات سمجھ میں آ گئی تو اس نے اعتراف میں دیر نہیں کی۔ تیسرا وہ جس نے اگرچہ اپنی سرداری کی خاطر اعتراف نہیں کیا، مگر وہ بھی اس صفتِ عام سے خالی نہ تھا۔ نمبر ایک: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ابتدائی مرحلے میں ایمان لائے، ان میں سے ایک خالد ابن سعید ابن العاص تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے محمد!

آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اور یہ کہ تم پتھروں کی عبادت چھوڑ دو جو نہ سنتے اور نہ دیکھتے، اور نہ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کس نے ان کی عبادت کی اور کس نے ان کی عبادت نہیں کی۔ ولا یدری من عبدہ ممن لا یعبدہ۔

خالد نے یہ سن کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت خالد کے والد جو مشرک تھے، جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے اسلام قبول کر لیا ہے تو انہوں نے ان کو پکڑا اور انہیں مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ مارتے مارتے لکڑی ٹوٹ گئی۔ جب حضرت خالد اسلام سے پھرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو باپ نے کہا کہ میں تمہارا کھانا پینا بند کر دوں گا اور تجھے گھر سے نکال دوں گا۔ حضرت خالد نے جواب دیا: خدا کی قسم!

محمد نے جو کہا سچ کہا، اور میں ان کا پیرو ہوں۔ قد صدق واللہ واتبعتہ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ محمد جب ایک حق بات کہہ رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نہ مانوں؟ نمبر دو: دوسری مثال سہیل ابن عمر کی ہے۔

صلح حدیبیہ کے وقت وہ مخالفین اسلام کے نمائندہ تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو املاء کراتے ہوئے یہ الفاظ کہے: ھذا ما قاضی علیہ محمد رسول اللہ۔ سہیل ابن عمر نے ان الفاظ پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم!

اگر ہم جانتے کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑائی کرتے۔ واللہ لو کنّا نعلم انک رسول اللہ ما صددناک عن البیت ولا قاتلناک۔ بعد کی تاریخ نے بتایا کہ سہیل ابن عمر ان الفاظ میں پوری طرح صادق تھے۔ وہ واقعتا نہ سمجھنے کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے۔

چنانچہ بعد کو جب ان کی سمجھ میں آ گیا کہ آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہ ایمان لائے، اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اسلام کی حمایت اور تائید میں وقف کر دی۔ نمبر تین: تیسری مثال ابوجہل کی ہے۔ ابوجہل نے اگرچہ اسلام قبول نہیں کیا، مگر اس کے یہاں بھی اس عرب کردار کا ایسا نمونہ ملتا ہے۔ مگر اس کے یہاں بھی اس عرب کردار کا ایسا نمونہ ملتا ہے جس کی مثال مشکل سے کہیں دوسری جگہ ملے گی۔

مکی دور کا واقعہ ہے کہ ایک روز ابوجہل کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس نے آپ کو بہت برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہ واقعہ مکے کی ایک عورت دیکھ رہی تھی۔

اس نے آپ کے چچا حمزہ ابن عبدالمطلب سے کہا کہ آج ابوجہل نے آپ کے بھتیجے سے بہت نازیبہ انداز میں کلام کیا ہے۔ اس وقت حمزہ کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ وہ اس کو لیے ہوئے ابوجہل کے پاس آئے اور کمان سے اس کے سر پر اس طرح مارا کہ اس کا سر بری طرح زخمی ہو گیا۔ ابوجہل کے قبیلے یعنی بنو مخزوم کے کچھ لوگ حمزہ کو مارنے کے لیے دوڑے۔

ابوجہل نے اپنے آدمیوں کو روک دیا اور کہا کہ حمزہ کو چھوڑ دو، کیونکہ خدا کی قسم! میں نے ان کے بھتیجے کو آج بہت برا بھلا کہہ دیا تھا۔ دعو ابا عمارت فانی واللہ قد سببت ابن اخی سب قبیحا۔ دعو ابا عمارت فانی واللہ قد سببت ابن اخی سب قبیحا۔

ہرقل کے مشہور واقعے میں آتا ہے کہ اس نے ابو سفیان سے پوچھا کہ کیا نبوت کے اعلان سے پہلے تم لوگوں نے محمد کو کبھی جھوٹ بولتے ہوئے پایا ہے؟ ابو سفیان نے کہا کہ نہیں۔ یہ واقعہ نقل کر کے ابن کثیر لکھتے ہیں: وکان ابو سفیان ادا کا راس الکفرتی وزعیم المشرکین وماذا اعترف بالحق۔ تفسیر ابن کثیر الجز ثانی صفحہ 410۔

ابو سفیان اس وقت کافروں کے سردار اور مشرکوں کے لیڈر تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے حق کا اعتراف کیا۔ یہ تھی وہ انسانی نسل جو حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو ذبح کر کے بنائی، اور پھر اس کے منتخب افراد کے ذریعے وہ خیر امت بنی جس نے دل و جان سے توحید کو قبول کیا، اور پھر بے مثال قربانی کے ذریعے دور شرک کو ختم کر کے دور توحید کو برپا کیا۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد تک یہ ایک ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ تھا۔

اس کا مرکز عرب کا وہ علاقہ تھا جس کو حجاز کہا جاتا ہے اور جس میں مکہ واقع ہے۔ حج اسی تاریخ کا علامتی اعادہ ہے۔ حج کے ذریعے مسلمان دوبارہ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبہ خداوندی میں اپنے آپ کو شامل کریں گے۔ وہ لبیک اللہم لبیک یعنی ہم حاضر ہیں خدایا ہم حاضر ہیں کہتے ہوئے ابراہیم اور اسماعیل کی سرزمین میں جمع ہوتے ہیں۔

جو کچھ ان لوگوں پر حقیقی طور پر گزرا تھا، اس کو چند دن میں علامتی طور پر دہراتے ہیں۔ اس طرح وہ خدا سے کہتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو وہ دوبارہ اس تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار ہیں جو یہاں اس سے پہلے دہرائی گئی تھی۔ آج زمانہ گھوم کر دوبارہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں وہ حضرت ابراہیم کے زمانے میں تھا۔ اس وقت سارے عالم پر شرک کا غلبہ تھا۔

آج سارے عالم پر الحاد کا غلبہ ہے۔ قدیم زمانے کا انسان اگر مشرکانہ طرز پر سوچتا تھا تو آج کا انسان ملحدانہ طرز پر سوچتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے کا مسئلہ بھی وہی ہے جو قدیم زمانے کا مسئلہ تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ قدیم زمانے میں مشرکانہ شاکلہ لوگوں کے اوپر چھایا ہوا تھا، آج لوگوں کے اوپر الحادی شاکلہ چھایا ہوا ہے۔

اس شاکلہ یعنی ذہنی سانچے کو توڑنا ہی آج اسلام کا اصل کام ہے۔ آج بھی اسلامی مہم اسی نہج پر طے ہوگی جس نہج پر قدیم زمانے کی اسلامی مہم طے ہوئی تھی۔ اب دوبارہ کچھ لوگوں کو ذبح ہونا ہے۔ اب پھر کچھ لوگوں کو اپنی اولاد کو صحرا میں ڈالنا ہے تاکہ دین کی تاریخ دوبارہ زندہ ہو۔

ماضی میں دور شرک کو ختم کرنے کے لیے ایک نسل کی قربانی درکار تھی۔ آج دور الحاد کو ختم کرنے کے لیے دوبارہ ایک نسل کی قربانی درکار ہے۔ یہی حج کا سب سے بڑا سبق ہے۔ اسی کا حج، اسی کا حج آج حج مبرور ہے جو حج کے بعد یہ عزم لے کر وہاں سے واپس آئے۔

حقیقت یہ ہے کہ حج سے فراغت کے بعد حاجی کا کام ختم نہیں ہو جاتا۔ حج سے فراغت کے بعد حاجی کا اصل کام شروع ہوتا ہے۔ حج کے سفر سے واپسی ایک نئے اہم تر سفر کا آغاز ہے۔ حاجی مراسم حج کے دوران بار بار لبیک اللہم لبیک یعنی حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں کہتا ہے۔

یہ کیا ہے؟ یہ عہد نامے کے الفاظ ہیں۔ حج خدا اور بندے کے درمیان ایک عہد ہے۔ عہد ہمیشہ آغاز ہوتا ہے، وہ اختتام نہیں ہوتا۔

یہی حج کی عبادت کا معاملہ ہے۔ جو شخص مراسم حج کو ادا کر کے واپس آتا ہے، وہ گویا خدا سے ایک مقدس عہد کر کے واپس آتا ہے۔ واپس آنے کے بعد اسے مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جانا ہے، بلکہ اپنے حالات اور صلاحیت کے اعتبار سے وہ کام شروع کر دیتا ہے جس کا وہ اپنے رب سے عہد کر کے واپس آیا ہے۔ حج سے لوٹنا مقام عہد سے نکل کر مقام عمل کی طرف لوٹنا ہے۔

حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتی۔ حج کا عہد نامہ کیا ہے؟ یہ ایک تاریخ کو دہرانے کا عزم ہے۔

حج تاریخ ابراہیمی کو دوبارہ ظہور میں لانے کا اقرار ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ عراق کے متمدن لوگ توحید اور آخرت کو ماننے، حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ عراق کے متمدن لوگ توحید اور آخرت کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہوں نے اپنے عمل کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو سخت ترین قربانی کے مرحلے سے گزار کر ایک نئی زندہ نسل پیدا کی۔ انہوں نے دعوت کے عمل کو ایک عظیم منصوبے کا عمل بنا دیا۔

انہوں نے وہ سب کچھ کیا جو یہ مقصد ان سے کرنے کا تقاضا کر رہا تھا۔ اسی طرح آج حاجی کو وہ سب کچھ کرنا ہے جو آج کے حالات کا تقاضا ہو، اور اس وقت تک کرتے رہنا ہے جب کہ اس کی موت آئے یا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ حضرت ابراہیم کے زمانے میں جس طرح شرک کا عالمی غلبہ تھا، اسی طرح آج الحاد کا عالمی غلبہ ہے۔ اب حج سے لوٹنے والوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ دور الحاد کو ختم کر کے دوبارہ دور توحید کو لانے کے لیے ابراہیمی تاریخ کو دہرائیں۔

وہ ابراہیمی عمل کو اثر نو زندہ کریں۔ وہ اس مقصد کی راہ میں اپنا وہ سب کچھ لگا دیں جس کو لگانے کا آج کے حالات ان سے تقاضا کرتے ہوں۔ وہ علامتی قربانی کو حقیقی قربانی بنا دیں۔ حج ایک تاریخ کے اعادے کا عزم ہے۔

ایام حج میں علامتی مناسک کی صورت میں اور ایام حج کے بعد حقیقی زندگی میں منصوبہ بند عمل کی صورت میں۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.