قابلِ غور ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحاجُّ في ضمانِ اللهِ مُقْبِلًا وَ مُدْبِرًا» یعنی حاجی اللہ کی نگرانی میں رہتا ہے، حج کے پہلے بھی اور حج کے بعد بھی۔ حاجی کے بارے میں یہ بات کسی پراسرار معنی میں نہیں ہے، بلکہ معلوم نفسیاتی معنی میں ہے۔ حج کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسے خصوصی اسباب مہیا کر رکھے ہیں کہ اس کا ارادہ پیدا ہوتے ہی آدمی کے اندر خدا کی یاد آنے لگتی ہے، اور خدا کی طرف خصوصی رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کو نیویارک کا سفر پیش آئے تو نیویارک کی نسبت سے اس کی نفسیات بننے لگتی ہے، اور لوٹنے کے بعد اس کے اوپر نیویارک کا ذہن غالب رہتا ہے۔
اسی طرح جو شخص حج کا سفر کرے تو وہاں جانے سے پہلے اور وہاں سے لوٹنے کے بعد وہ اپنے اندر خاص طرح کی ربانی نفسیات محسوس کرے گا۔ تاہم حج کا یہ فائدہ کوئی مشینی انداز کا نہیں ہے جو لازماً اپنے آپ حاجیوں کو ملتا رہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حاجی کے اندر اس کے موافق استعداد موجود ہو۔ اس طرح کے تمام فائدوں کا انحصار ہمیشہ آدمی کی اپنی استعداد پر ہوتا ہے۔
استعداد موجود ہو تو فائدہ ملے گا، اور اگر استعداد موجود نہ ہو تو فوائد کے سرچشمے کے درمیان بھی آدمی بے فیض ہو کر رہ جائے گا۔ حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک روایت جو ان الفاظ میں آئی ہے: «يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَحُجُّ أَغْنِيَاءَ النَّاسِ لِلنَّزَاهَةِ وَأَوْسَاطُهُمْ لِالتِجَارَةِ وَقُرَّاءُهُمْ لِلرِّيَاءِ وَالصُّمْعَةِ وَفُقَرَاءُهُمْ لِلْمَسْأَلَةِ» لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ مالدار لوگ تفریح کے لیے حج کریں گے، اور ان کے درمیانی درجے کے لوگ تجارت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے علماء دکھاوے اور شہرت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے حج کریں گے۔ حضرت انس کی یہ روایت بہت ڈرا دینے والی ہے۔ اس کی روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو خاص طور پر اپنا احتساب کرنا چاہیے۔
انہیں غور کرنا چاہیے کہ ان کا حج اس روایت کا مصداق تو نہیں بن گیا ہے؟ مالدار حضرات سوچیں کہ ان کے حج میں تقویٰ کی روح ہے یا سیر و تفریح کی روح۔ عام لوگ یہ سوچیں کہ وہ دینی فائدے کے لیے حج کرنے جاتے یا تجارتی فائدے کے لیے؟ علماء غور کریں کہ وہ عبدیت کا سبق لینے کے لیے بیت اللہ جاتے ہیں یا اپنی پیشوائیانہ حیثیت کو بلند کرنے کے لیے؟
اسی طرح غریب لوگ سوچیں کہ حج کو انہوں نے خدا سے مانگنے کا ذریعہ بنایا ہے یا انسانوں سے مانگنے کا ذریعہ؟ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 51۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.