Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Hajj ki Dawati Ahmiyat,Hajj ki Tareekh

Urdu · 10 min

حج کی دعوتی اہمیت: خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بیت المقدس پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز تھا۔ خاتم النبیین کے بعد بیت اللہ الحرام پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز ہے۔ البقرہ 144۔ حج ایک اعتبار سے دنیا بھر کے پیروان اسلام کا سالانہ دعوتی اجتماع ہے؛ وہ خاص دنوں میں حرم کے گرد جمع ہوتے ہیں تاکہ اس کی مقدس فضاؤں میں خدا سے اپنا تعلق استوار کریں، اپنے باہمی اتحاد کو مضبوط کریں، اور داعی اعظم حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کے مختلف مراحل کو علامتی طور پر دہرا کر اس بات کا عزم کریں کہ وہ ہر حال میں خدا کے دین کے داعی بنے رہیں گے۔

حج کی تاریخ: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو امامِ ہدایت بنایا۔ "إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا" یعنی آپ کو اس مستقل کام کے لیے چنا کہ آپ کے ذریعے نبوت کا علم لوگوں تک برابر پہنچتا رہے۔ ابتدائی 2000 سال تک اس خدائی فیصلے کا ظہور آپ کے صاحبزادے اسحاق کی شاخ میں ہوا۔ حضرت اسحاق سے لے کر حضرت مسیح تک اس نسل میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے، جنہوں نے فلسطین اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دعوتِ حق کا کام مسلسل انجام دیا۔

حضرت مسیح کے بعد یہ دینی امامت آپ کے دوسرے صاحبزادے اسماعیل کی نسل میں منتقل ہو گئی۔ ان کی اولاد میں آخری نبی پیدا ہوئے۔ آپ کو اللہ تعالی نے خصوصی طور پر غلبے کی نسبت دی، تاکہ آپ کے ذریعے کتابِ الہی کی حفاظت کا یقینی انتظام ہو سکے اور دین کے مٹنے کا اندیشہ نہ رہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں "اظہار دین" یعنی "لیظہرہ علی الدین کل" کہا گیا ہے۔

عام پیغمبروں سے اصلًا صرف تبلیغِ دین مطلوب تھی، اور پیغمبر آخر الزماں سے تبلیغِ دین کے ساتھ اظہارِ دین بھی۔ اس مقصد کے لیے انسانوں کی ایک معاون جماعت درکار تھی، جو تمام انسانی اوصاف سے متصف ہو۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اظہارِ دین کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچائے۔ اسی جماعت کی تیاری کے لیے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے لڑکے اسماعیل کو قدیم مکے کے غیر آباد اور خشک علاقے میں لا کر بسا دیا، تاکہ تمدن سے دور فطرت کے سادہ ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعے ایک ایسی قوم پیدا ہو جس کے اندر تمام اعلیٰ انسانی صلاحیتیں محفوظ ہوں، جو بے آمیز ڈھنگ سے سوچے، جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو، جو ایک نظری حق کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا سکے، جس کے اندر پہاڑوں کی صلابت، صحرا کی وسعت، اور آسمان کی بلندی ہو۔

اس طرح جب صحرائی ماحول میں پرورش پا کر ایک خیرِ امت وجود میں آ گئی (علی عمران 110)، تو عین وقت پر اس کے اندر وہ نبی پیدا کر دیے گئے جس کے لیے حضرت ابراہیم نے تعمیرِ کعبہ کے وقت دعا کی تھی (البقرہ 129)۔ حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ کے بطن سے خدا کو ایک پیغمبر پیدا کرنا تھا۔ یہ پیغمبر حضرت ابراہیم ہی کی زندگی میں پیدا ہو گیا، اور اس کا نام اسحاق رکھا گیا۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم نے مکے میں دعا کی کہ "میرے لڑکے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کر"، تو اس دعا کی تکمیل میں 2000 سال سے زیادہ مدت لگی۔

اس فرق کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ دونوں کے تاریخی کردار کا فرق تھا۔ پیغمبر آخر الزماں کو اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لیے ایک زندہ قوم درکار تھی۔ اس طرح کی قوم اسباب کے پردے میں بننے کے لیے 2000 سال سے زیادہ کی مدت لگ گئی۔

چنانچہ جب یہ قوم تیار ہو گئی، تو آپ خدائی منصوبے کے مطابق پیدا کر دیے گئے۔ تاہم یہ بھی ضروری تھا کہ تیاری کے اس طویل وقفے کے دوران پیغمبرانہ دعوت کے تسلسل کو باقی رکھا جائے۔ اس لیے دوسرا انتظام یہ کیا گیا کہ حضرت ابراہیم کی نسل کی اسرائیلی شاخ میں انبیاء کی پیدائش کا سلسلہ قائم کر دیا گیا، اور ایک کے بعد ایک پیغمبر آ کر لوگوں کو خدا پرستی کا پیغام دیتے رہے، تاکہ نبی آخر الزماں کے ظہور کا وقت آ جانے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔ اس منصوبے کے مطابق حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔

ایک طرف آپ نے فلسطین یعنی حبرون میں اپنی بیوی سارہ کو بسایا، جن سے اسحاق پیدا ہوئے۔ دوسری طرف آپ نے عرب یعنی مکے میں اپنی دوسری بیوی ہاجرہ اور ان کے لڑکے اسماعیل کو رکھا، اور یہاں کعبے کی تعمیر کی۔ گویا حضرت ابراہیم کے ذریعے ہدایتِ عالم کی جو منصوبہ بندی کی گئی، اس کے ابتدائی جز کا مرکز فلسطین تھا، اور اس کے آخری جز کا مرکز حجاز۔ حضرت ابراہیم کے بعد اولاً فلسطین ہدایتِ الہی کا مرکز بنا۔

اسی علاقے میں اس زمانے کے تمام انبیاء پیدا ہوئے: حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت یحیی، حضرت عیسیٰ وغیرہ۔ حضرت ابراہیم کے پوتے حضرت یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ انہی کی نسبت سے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد کو جب بنی اسرائیل پر زوال آ گیا اور پیغمبروں کی مسلسل فرمائش کے باوجود انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی، تو خدا نے ہدایتِ آسمانی کے حامل ہونے کی حیثیت سے انہیں معزول کر دیا، اور یہ مقدس منصب ابراہیمی نسل کی دوسری شاخ بنو اسماعیل کو دے دیا۔

یہ واقعہ عین اس وقت ہوا جب کہ 2000 سالہ عمل کے نتیجے میں ان کے اندر ایک ایسی زندہ قوم تیار ہو چکی تھی جو خدا کے دین کے حامل بن سکے۔ اس تبدیلی کی ایک ظاہری نشانی کے طور پر قبلہِ عبادت بدل دیا گیا۔ حضرت ابراہیم کے بعد تمام انبیاء بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے۔ اب قدیم قبلے کو منسوخ کر کے کعبے کو قبلہِ عبادت کی حیثیت دے دی گئی۔

حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 61۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.