← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Hajj ka Paighaam
Urdu · 12 min
حج کا پیغام: حج کیا ہے؟ یہ اللہ کے لیے سفر کرنا ہے، اپنا وقت اور اپنا مال خرچ کر کے ان مقامات تک پہنچنا ہے جہاں اللہ کی یادگاریں ہیں، جن سے اللہ کے سچے بندوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ حج کے تمام مراسم اس بات کا عملی اظہار ہیں کہ آدمی اللہ کے لیے سرگرم ہے: اس نے اپنی زندگی اللہ کے گرد گھما رکھی ہے، وہ اللہ کے دوستوں کا دوست اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن ہے۔ حشر کے میدان میں اللہ کے سامنے حاضری کی کیفیت کو آج ہی اس نے اپنے اوپر طاری کر لیا ہے۔
وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ اللہ کی یاد کرنے والا ہے۔ وہ اسلام کو ایک عالمی حقیقت بنانے اور اس کو بین الاقوامی سطح پر رواج دینے کے لیے بے قرار ہے۔ حج بظاہر ایک وقتی عبادت ہے، مگر دراصل وہ ایک مومن کی پوری مومنانہ زندگی کی تصویر ہے۔ وہ آخری سانس تک کے لیے عبدیت کا اقرار نامہ ہے۔
آدمی اس لیے جیتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کے لیے حج کرے، اور اس لیے حج کرتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کے لیے جیے۔ حج مومن کی زندگی کی تعبیر بھی ہے اور اس کی موت کی تعبیر بھی۔ حج گویا حق تعالیٰ کی زیارت ہے، وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔
کعبے کے سامنے کھڑا ہو کر آدمی محسوس کرتا ہے گویا وہ خود ربِ کعبہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے رب کو پا کر پروانہ وار اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ جب وہ ملتظم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے گویا اسے اپنے آقا کا دامن ہاتھ آ گیا ہے، جس سے وہ بے تابانہ لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ اس کے ادا کرنے کی جگہ ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیاتِ الہی کا نزول ہوتا ہے، جس کو خدا پرستانہ زندگی کے عظیم داعی سیدنا حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دعوت و عمل کا مرکز بنایا تھا، جہاں اسلام کی پوری تاریخ ثبت ہے، جس کے ہر طرف اس مثالی اسلامی قافلے کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں چھٹی صدی عیسوی میں ظہور میں آیا تھا، جہاں خدا کے دین کو پہلی بار ایک تاریخی واقعہ بنایا گیا۔
ان چیزوں نے حرم کے پورے علاقے کو ایک خصوصی اہمیت دے دی ہے۔ وہاں اسلام کے حق میں ایک خاص طرح کا تاریخی اور نفسیاتی ماحول بن گیا ہے۔ جو شخص بھی وہاں جاتا ہے، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ خدا کے رزق سے ایک ایسا حصہ لے کر لوٹتا ہے جو اس کی بقیہ پوری زندگی میں اس کی دینی توانائی کا ذریعہ بنا رہے۔
حج کو اسلامی عبادات میں ہمیشہ ایک غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک حدیث میں اس کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ وہ تمام عبادات کا مجموعہ ہے اور تمام عبادات میں زندگی پیدا کرتا ہے۔ تاہم اس کی جو کچھ اہمیت ہے، وہ اس کی حقیقی روح کے اعتبار سے ہے، نہ کہ محض ظاہری رسوم و آداب کے اعتبار سے۔
دوسرے لفظوں میں، حج صرف اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی دیارِ حرم میں جائے اور کچھ مخصوص مراسم دہرا کر واپس لوٹ آئے۔ لیکن حج ان کیفیات کے حصول کا نام ہے جن کے لیے یہ مراسم مقرر کیے گئے ہیں۔ کھانا بلاشبہ آدمی کو طاقت دیتا ہے، مگر کھانا اسی شخص کے لیے طاقت ہے جو اس کو قاعدے کے مطابق اپنے پیٹ میں ڈالے۔ اگر کوئی شخص اس کو محض دیکھے یا اپنے سر پر الٹ لے تو اس کے لیے انتہائی قیمتی غذا بھی بالکل بے فائدہ ثابت ہوگی۔
اسی طرح حج کا حقیقی فائدہ بھی اس شخص کو ملے گا جو حج کو اس طرح کرے جیسا کہ اس کو کرنا چاہیے۔ حج کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: «الحج أشهرٌ معلومات، فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج، وما تفعلوا من خير يعلمه الله، وتزودوا فإن خير الزاد التقوى، واتقون يا أولي الألباب». البقرہ 197 حج کے مہینے معلوم ہیں۔ جو شخص ان میں حج کو اپنے اوپر مقرر کرے تو حج میں نہ فحاشی ہے، نہ بے حکمی، اور نہ جھگڑا۔
اور تم جو بھلائی کرو گے، اللہ اس کو جان لے گا۔ اور زادِ راہ لے لیا کرو۔ سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے۔ اے عقل والو!
مجھ سے ڈرو۔ رفث کے معنی ہیں فحش کلامی کرنا۔ فسق کا لفظ تقریباً اسی مفہوم میں آتا ہے جس کے لیے اردو میں کہتے ہیں: اس نے انسانیت کا جامہ اتار پھینکا۔ جدال کے معنی ہیں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا۔
یہ تینوں الفاظ اس برائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو عام طور پر زبان سے سرزد ہوتی ہے۔ جب مختلف لوگ اکٹھا ہوتے ہیں تو کوئی ہوس پرست آدمی فحش باتیں کر کے سنجیدہ ماحول کو بگاڑ دیتا ہے۔ کبھی عام عادت کے خلاف کوئی بات پیش آتی ہے، اور آدمی اپنا ظاہری لبادہ اتار کر ناحق باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے، اور آدمی برداشت نہ کرتے ہوئے اس سے جھگڑنے لگتا ہے۔
حج کا اجتماع اس قسم کی تمام برائیوں سے بچنے کی ایک تربیت ہے۔ ایک ایسا مقام جس سے تقدس اور احترام کی یادیں وابستہ ہیں۔ وہاں لے جا کر آدمی کو خصوصی طور پر اس کی مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اجتماعی ماحول میں رہتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ وہ اپنے آپ کو فواحش اور سطحی دلچسپیوں سے ہٹا کر سنجیدہ چیزوں کی طرف راغب کرے۔
اس کے اندر ہر حال میں حق و صلاح کا پر قائم ہونے کا مزاج پیدا ہو۔ اجتماعی زندگی میں ناخوشگوار تجربات پیش آنے یا دل کو ٹھیس لگنے کے باوجود وہ اپنے بھائی سے لڑنے کے لیے نہ کھڑا ہو جائے۔ جب بھی چند آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں یا مل کر رہتے ہیں تو ایک کو دوسرے سے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال حج میں زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آتی ہے۔
کیونکہ حج کے موقع پر مختلف قسم کے لوگ بہت بڑی تعداد میں ایک مقام پر اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حج کے دوران بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اب اگر لوگ ذاتی شکایتوں کی بنا پر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں تو عبادت کی فضا ختم ہو جائے، اور حج کا مقصد حاصل نہ ہو سکے۔ اس لیے حج کے زمانے میں جھگڑنے اور غصہ کرنے کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا۔
اس طرح حج کو ایک بہت بڑی چیز کے لیے تربیت کا ذریعہ بنایا گیا۔ کیونکہ لڑائی جھگڑا جس طرح حج کو باطل کر دیتا ہے، اسی طرح وہ ایک مسلمان کی عام زندگی کو بھی اسلام سے دور کر دینے والا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی ظاہری چیز کو تقویٰ کی علامت سمجھ لیتا ہے، اور اس کو اختیار کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے متقیانہ زندگی حاصل کر لی۔ حالانکہ اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا دل تقویٰ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ حج کے سفر میں زادِ راہ نہ رکھنا تقویٰ کی علامت ہے۔ وہ اس کا خوب اہتمام کرنے لگے۔ مگر زادِ راہ کا تعلق ضرورت سے ہے، نہ کہ تقویٰ سے۔ اس قسم کی چیزوں میں آدمی کو اپنی ضرورت کے اعتبار سے تیاری کرنا چاہیے۔
مگر تقویٰ اس سے بالکل الگ چیز ہے۔ اس کا تعلق دل سے ہے۔ اللہ کے یہاں کوئی شخص محض اس لیے مقبول نہیں ہو جاتا کہ اس نے خواہ مخواہ زادِ راہ کے بغیر سفر کیا، اور اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالا۔ اللہ کو دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔
حج کے سفر کو تقویٰ کا زادِ راہ فراہم کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ زادِ راہ ہے جو آخرت کے سفر میں آدمی کے کام آئے گا۔ حج کے مسافر اور اسی طرح زندگی کے مسافر کے لیے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ وہ شہوانی باتوں سے بچے۔ وہ اللہ کی ناپسندیدہ حرکتوں اور لڑائی جھگڑے کی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔
حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 45۔