Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Chand Pahlu

Urdu · 10 min

چند پہلو: اکثر حاجیوں کو دیکھا گیا ہے کہ ارکانِ حج کو ادا کرتے ہوئے وہ بس رٹی ہوئی دعائیں دہراتے ہیں، یا کتاب ہاتھ میں لے کر اس سے پڑھتے رہتے ہیں۔ حج کی فقہی ادائیگی اگرچہ اس سے ہو جاتی ہے، مگر حج کے دوران ذکر و دعا سے جو چیز مطلوب ہے، اس کا حق اس طرح ادا نہیں ہوتا۔ حج کے دوران آدمی پر وہ کیفیت گزرنی چاہیے جو حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزری تھی۔ مثلاً جب آدمی سعی کرتا ہے تو اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلنے چاہییں کہ "خدایا!

تو نے اس سعی کے بعد ہاجرہ کے لیے برکت کا ابدی چشمہ جاری کر دیا تھا، میری سعی کو بھی تو ایسی سعی بنا دے جس کے بعد میرے لیے خیر کے ایسے چشمے جاری ہو جائیں جو دنیا سے آخرت تک مجھے سیراب کرتے رہیں"۔ السید سابق نے اپنی مشہور کتاب "فقہ السنہ" میں بجا طور پر لکھا ہے: "ويستحب له أن يكثر من الذكر والدعاء ويتخير منهما ما ينشرح له صدره دون أن يتقيد بشيء أو يردد ما يقوله المطوفون؛ فليس في ذلك ذكرٌ محدود ألزمنا الشارع به وما يقوله الناس من أذكار وأدعية في الشوط الأول والثاني"۔ وهكذا فليس له أصلٌ، ولم يحفظ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء من ذلك؛ فلطائف أن يدعو نفسه ولإخوانه بما شاء من خير الدنيا والآخرة". (المجلد الأول، صفحة 694) "طواف کرنے والے کو چاہیے کہ طواف کے وقت خوب ذکر اور دعا کرے، اور ان میں سے جن پر اسے شرحِ صدر ہو، ان کو اختیار کرے بغیر اس کے کہ اپنے کو کسی سے مقید کرے۔

طواف کرنے والے کو چاہیے کہ طواف کے وقت خوب ذکر اور دعا کرے، اور ان میں سے جن پر اسے شرحِ صدر ہو، ان کو اختیار کر لے، بغیر اس کے کہ اپنے کو کسی سے مقید کرے یا معلمین کے کہے کو دہراتا رہے۔ کیونکہ طواف میں کوئی متعین ذکر نہیں ہے جس کا شارع نے ہم کو پابند کیا ہو، اور عوام جو اذکار اور دعائیں شوط اول، شوط ثانی وغیرہ میں پڑھتے ہیں، ان کی کوئی اصل نہیں۔ اور اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں۔ طواف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے اور اپنے بھائیوں کے لیے جس طرح چاہے دنیا اور آخرت کی بہتری مانگے۔

حج کے مسائل جو قرآن و حدیث میں ہیں، وہ اتنے کم ہیں کہ چند صفحات میں لکھے جا سکتے ہیں، مگر فقہاء نے دوسری عبادات کی طرح حج کے بے شمار مسائل وضع کر رکھے ہیں، جن کا احاطہ عام آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ اس اضافے کے حق میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ حجاج کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے، مگر اس استدلال میں کوئی وزن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محض فقہی مسائل پڑھ کر کوئی شخص نہ نماز پڑھ سکتا اور نہ حج کر سکتا۔ یہ کام ایسا ہے جو دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے مفصل احکام بتانے کے بجائے یہ فرمایا: "صلّوا كما رأيتموني أُصلّي" یعنی جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو، اسی طرح تم بھی نماز پڑھو۔ اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ لوگوں! مجھ کو دیکھ کر حج کے طریقے سیکھ لو، یعنی "خُذُوا عني مناسككم" یہی اصل طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر صحابہ نے نماز پڑھی، صحابہ کو دیکھ کر تابعین نے، تابعین کو دیکھ کر تبعِ تابعین نے۔

اسی طرح یہ سلسلہ آج تک چلا جا رہا ہے۔ اگر لوگوں کے پاس صرف فقہ کے نام نہاد تفصیلی مسائل ہوتے تو لوگ کبھی صحیح طور پر نماز نہ پڑھ سکتے۔ امام ابو حنیفہ اس فن کے سب سے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مگر وقیع کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے ان سے کہا کہ میں نے مناسک کی ادائیگی میں 5 غلطیاں کیں، پھر ایک حجام نے مجھے بتایا۔ قال وقیع: قال لي أبو حنيفة: أخطأت في خمسة أبواب من المناسك، فعلّمنيها حجامٌ، ذكره المحب الطبري بالتفصيل.

آج کل حاجیوں میں تقریباً 95% تعداد زیادہ عمر والوں کی ہوتی ہے۔ ان میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بے حد بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ مناسکِ حج کو ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنا حج بدل کرائیں۔ حج بدل جو موجودہ زمانے میں مردوں کے لیے عام ہو گیا ہے، وہ شریعت میں اصلًا ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔

حدیث میں آیا ہے: عن الفضل بن عباس أن امرأة من خثعم قالت: يا رسول الله، إن فريضة الله على عباده في الحج. أدركت أبي شيخًا كبيرًا لا يستطيع أن يثبت على الراحلة، أفأحج عنه؟ قال: نعم، وذلك في حجة الوداع. رواه الجماعہ۔

فضل بن عباس کہتے ہیں کہ بنو خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حج بندوں کے اوپر خدا کا فریضہ ہے۔ میرا ایک بوڑھا باپ ہے، وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا، کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ حج بدل کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مر گیا ہو اور یہ وصیت کی ہو کہ میری طرف سے حج ادا کر دینا۔

یہ صورت استنباطی طور پر نکلتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک مردے کی طرف سے حج بدل اسی وقت ہے جبکہ موت سے پہلے اس نے وصیت کی ہو۔ قال مالك: إنما يحج عنه إذا أوصى، أما إذا لم يوصِ فلا يحج عنه؛ لأن الحج عبادة غلب فيه جانب البدنية، فلا يقبل النيابة. (فقہ السنہ، المجلد الأول، صفحة 637) حج ہر صاحبِ استطاعت پر عمر میں ایک بار فرض ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔ الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة. بخاری و مسلم۔ حضرت عمرو بن العاص کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: لما جعل الله الإسلام في قلبي، أتيت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقلت: أبسط يدك فلا أبايعك.

قال: فبسطت، فقبضت يدي فقال مالك: ما لك يا عمر؟ قلت: أشترك. فقال: تشترك ماذا؟ قلت: أن يغفر لي.

قال: أما علمت أن الإسلام يهدم ما قبله؟ وأن الهجرة تهدم ما قبلها؟ وأن الحج يهدم ما قبله؟ رواه مسلم۔

جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈالا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ہاتھ پھیلایا، مگر میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ آپ نے کہا: اے عمر! ایسا کیوں؟

میں نے کہا کہ میری ایک شرط ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہاری کیا شرط ہے؟ میں نے کہا: یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، اور ہجرت پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، اور حج پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟

حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.