Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Ibaadaton ka Sardaar

Urdu · 4 min

عبادتوں کا سردار حج، حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ آدمی جب سفر کر کے مقاماتِ حج تک پہنچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی ربانی کیفیات طاری ہوتی ہیں؛ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنی دنیا سے نکل کر خدا کی دنیا میں پہنچ گیا ہے۔ وہ اپنے رب کو چھو رہا ہے، وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے، وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے، وہ اس کی خاطر سفر کر رہا ہے، وہ اس کے حضور اپنی قربانی پیش کر رہا ہے، وہ اس کے دشمن پر کنکریاں مار رہا ہے، وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ مانگنا چاہتا ہے، وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ اسے پانا چاہیے۔ کعبہ زمین کے اوپر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

وہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کو خدا کا آغوش دیا جاتا ہے۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تاہم سب کچھ اس شخص کے لیے ہے جو اس کی استعداد لے کر وہاں جائے۔

بے استعداد لوگوں کے لیے حج بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ صرف اس لیے وہاں جاتے ہیں تاکہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ "الحج عرفہ" یعنی عرفات کے میدان میں قیام حج ہے۔ اس سے عرفات کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

حج کے زمانے میں عرفات کا میدان گویا حشر کے میدان کا منظر پیش کرتا ہے: ایک خاص تاریخ کو خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے آتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ بڑا عجیب منظر ہوتا ہے۔ تمام لوگوں کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس یعنی احرام ہے۔ ہر ایک اپنی امتیازی صفت کو کھو چکا ہے۔

سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری ہے: لبیک اللہم لبیک، لبیک اللہم لبیک۔ دیکھنے والوں کو یہ دیکھ کر خدا کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن جب سور پھونکا جائے گا تو تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِنَ الْأَجْدَى فِي إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ یاسین 51 اور سور پھونکا جائے گا تو سب لوگ یکایک قبروں سے اپنے رب کی طرف چلنے لگیں گے۔ عرفات کی یہ حاضری اس لیے ہے کہ آدمی حشر میں خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے۔

جو کچھ کل عملاً بیتنے والا ہے، اس کو آج ہی تصوراتی طور پر اپنے اوپر طاری کر لے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردار ہے۔ کعبے کا جو درجہ دوسری مسجدوں کے درمیان ہے، وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان ہے۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.