خدا کی طرف سفر حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے، وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں، جبکہ حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ عام عبادت اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے، تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت ہے۔ حاجی جب کعبے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ایسا محسوس کرتا ہے گویا وہ خود ربِ کعبہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔
کعبے کا طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے رب کو پا کر پروانہ وار اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ جب وہ ملتظم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے گویا اس کو اپنے آقا کا دامن ہاتھ آ گیا ہے، جس سے وہ بے تابانہ لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ اس کے ادا کرنے کی جگہ ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیات الہی کا نزول ہوتا ہے، جس کو خدا نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا کہ وہ خدا پرستانہ زندگی کے عظیم داعی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دینی عمل کا مرکز بنے، جہاں اسلام کی بنیاد پر بننے والی تاریخ ثبت ہے، جس کے ہر طرف اس مثالی ربانی انقلاب کے آثار پھیلے ہوئے ہیں، جو خاتم النبیین کی رہنمائی میں 1400 سال پہلے واقع ہوا تھا۔ اس قسم کی روایات اور خصوصیات نے دیار حرم کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے؛ وہاں ایک خاص طرح کا روحانی اور تاریخی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی وہاں جاتا ہے، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آدمی حج ادا کرنے کے بعد اس طرح لوٹتا ہے جیسے کوئی گرد و غبار میں لپٹا ہوا آدمی دریا میں نہا کر واپس آئے۔ حج کو اسلامی عبادات میں ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایک حدیث میں اس کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔
تاہم حج کی یہ خصوصی اہمیت اپنی روح کے اعتبار سے ہے، نہ کہ محض اپنے ظاہر کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ محض دیار حرم میں جا کر واپس آ جانے کا نام حج نہیں ہے، بلکہ ان کیفیات کے حصول کا نام حج ہے جن کے لیے یہ فریضہ مقرر کیا گیا ہے۔ حج کے افضل عبادت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج کو اس کی سچی روح اور صحیح آداب کے ساتھ ادا کرے، اس کے لیے حج اس کی سب سے بڑی عبادت بن جائے گا۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 42۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.