Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Ek Sabaq

Urdu · 13 min

ایک صبح، حجۃ الوداع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح ادا فرمایا، اس میں ہمارے لیے بہت سے نہایت اہم سبق ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اجتماعی زندگی ہمیشہ روایات کے اوپر چلتی ہے؛ روایات کو توڑنا اجتماعی زندگی میں ناقابلِ تلافی خلل پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں جو کچھ کیا جائے، روایات کو توڑے بغیر کیا جائے۔ روایات کو توڑ کر کام کرنا پیغمبرانہ طریقے کے مطابق نہیں۔

عن جابر بن عبد الله، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مكث بالمدينة تسع سنين لم يحج، ثم أذن في الناس بالحج في العاشرة. أن رسول الله حاجٌ فقدم المدينة، بشرٌ كثيرٌ فخرجنا معه. مشکات: حضرت جابر ابن عبد الله کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں 9 سال رہے، مگر آپ نے حج ادا نہیں کیا۔ پھر ہجرت کے 10ویں سال اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے جانے والے ہیں۔

چنانچہ مدینے میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ پھر ہم آپ کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوے کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے 10 سال تک حج کیوں نہیں ادا فرمایا؟ ابتدائی سالوں میں بظاہر قریش کی طرف سے مزاحمت کا اندیشہ تھا، جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر انہوں نے آپ کو عمرہ کرنے سے روکا۔

مگر رمضان سن 8 ہجری میں جب مکہ فتح ہوا، تو اس کے بعد یہ رکاوٹ ختم ہو چکی تھی۔ فتح مکہ کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 8 ہجری اور سن 9 ہجری میں حج ادا نہیں کیا۔ آپ صرف سن 10 ہجری میں حج کے لیے تشریف لے گئے، اور اس کے 2 ماہ بعد آپ کی وفات ہو گئی۔ اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ آپ یہ چاہتے تھے کہ حج کے نظام میں مطلوبہ اصلاح روایات کو توڑے بغیر انجام دی جائے۔

اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ آپ یہ چاہتے تھے کہ حج کے نظام میں مطلوبہ اصلاح روایات کو توڑے بغیر انجام دی جائے۔ کیلنڈر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ کیلنڈر دو قسم کے ہیں: ایک قمری، دوسرے شمسی۔ قمری کیلنڈر چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کے اعتبار سے مقرر ہوتا ہے، جس کا ہر آدمی براہِ راست مشاہدہ کر رہا ہے۔

شمسی کیلنڈر علم الحساب کے ماہرین سورج کی گردش کا ریاضیاتی شمار کر کے بناتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر، قمری کیلنڈر فطری کیلنڈر ہے، اور شمسی کیلنڈر حسابی کیلنڈر۔ عبادات کے نظام کے لیے اللہ تعالیٰ نے قمری کیلنڈر کو پسند فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قمری کیلنڈر افضل یا مقدس ہے؛ جس خدا نے چاند کی گردش مقرر کی ہے، اسی خدا نے سورج کی گردش بھی مقرر کی ہے۔

پھر ایک مقدس اور دوسرا غیر مقدس کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کا سبب دراصل عملی ہے، نہ کہ اعتقادی۔ عبادات میں فطری سادگی کا لحاظ کیا جاتا ہے، اسی لیے عبادات کو قمری کیلنڈر کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنّا أمةٌ أُمِّيَّةٌ لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا".

إنّا أمةٌ أُمِّيَّةٌ لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا وهكذا. وعقد الإبهام في الثالثة، ثم قال: "الشهر هكذا وهكذا وهكذا"، یعنی تمام الثلاثين، یعنی مرةً تسعًا وعشرين ومرةً ثلاثين. متفق عليه. حضرت عبد الله بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہم ناخواندہ لوگ ہیں، ہم نہ لکھتے اور نہ حساب کرتے۔

مہینہ یوں ہے، اور یوں ہے، اور یوں ہے۔ " اور آپ نے تیسری بار انگوٹھے کو موڑا، پھر فرمایا کہ مہینہ یوں ہے، اور یوں ہے، اور یوں ہے۔ یعنی پورے 30، کسی بار 29 دن کا، اور کسی بار 30 دن کا۔ قمری مہینے کی بنیاد چاند کی روایت پر ہے، اس لیے وہ کبھی 29 دن کا ہوتا ہے اور کبھی 30 دن کا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سادہ طور پر اس طرح سمجھایا کہ آپ نے دونوں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر تین بار دکھائیں، یعنی 10، 10، 10، کل 30۔ پھر دوسری بار آپ نے دونوں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر تین بار دکھائیں، آخری بار ایک ہاتھ کا انگوٹھا سمیٹ لیا، یعنی 10، 10، 9، کل 29۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قمری مہینہ کوئی دینی مہینہ ہے اور تمام معاملات کا حساب قمری کیلنڈر کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کا تعلق دراصل عبادتی امور سے ہے۔

اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عبادات کے معاملے میں قمری تاریخوں کا لحاظ کیا جائے گا، تاکہ ہر آدمی باآسانی اس کا اتباع کر سکے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کا نظام بنایا تو اسی مصلحت کی بنا پر اس کو قمری مہینے کی بنیاد پر بنایا۔ مگر قریش مکہ، جو کعبے کے متولی تھے، انہوں نے بات کو اپنے تجارتی مفاد کی خاطر یہ چاہا کہ حج کا نظام شمسی، حج کا نظام شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر مقرر کریں، تاکہ حج کی تاریخیں ہمیشہ ایک ہی موسم میں پڑیں۔ اس کے لیے انہوں نے بعض دوسری قوموں سے کبیسہ، یعنی انٹرکلیشن، کا اصول لیا اور اس کو حج کے معاملے میں رائج کر دیا۔

شمسی سال 365 کا دن ہوتا ہے۔ شمسی سال 365 دن کا ہوتا ہے، اور قمری سال 354 دن کا، یعنی دونوں کے درمیان 11 دن کا فرق ہے۔ ہر 8 سال میں یہ فرق تقریباً 3 مہینے کا ہو جاتا ہے۔ اہلِ عرب یہ کرتے تھے کہ قمری مہینوں میں فرق کے بقدر دنوں کا اضافہ کرتے رہتے تھے، تاکہ دونوں مہینے ساتھ ساتھ چلتے رہیں۔

اس طرح قمری مہینے اپنی جگہ سے ہٹتے رہتے تھے۔ یہ چکر 33 سال میں پورا ہوتا تھا۔ چنانچہ 33 سال تک مسلسل ایسا ہوتا کہ حج اپنی اصل تاریخوں کے بجائے دوسری تاریخوں میں آتا تھا، اور 34ویں سال میں پہنچ کر وہ دوبارہ اصل ابراہیمی تاریخ یعنی ذوالحجہ میں پڑتا تھا۔ رمضان سن 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا، تو یہ 33 سالہ دور اپنے آخری مرحلے میں تھا۔

یعنی سن 8 ہجری اور سن 9 ہجری کا حج تو سابقہ طریقے پر ذیقعدہ کے مہینے میں پڑ رہا تھا، مگر سن 10 ہجری میں 33 سالہ دور پورا ہو کر حج عین اپنی اصل تاریخ میں آ رہا تھا، یعنی ذوالحجہ میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے دینِ ابراہیمی کے مجدد تھے۔ آپ اللہ کی طرف سے اس پر مامور تھے کہ حج کے نظام کو دوبارہ ابراہیمی بنیاد پر قائم کریں۔ سن 8 ہجری میں فاتح مکہ، سن 8 ہجری میں فاتح مکہ کی حیثیت سے آپ اس کا اعلان کر سکتے تھے، مگر آپ نے اس وقت ایسا نہیں کیا۔

اسی طرح سن 9 ہجری میں آپ کے لیے ممکن تھا کہ حج کو ابراہیمی تاریخوں میں ادا کیے جانے کی ہدایت جاری کر دیں، مگر اب بھی آپ خاموش رہے۔ یہ ضروری کام آپ نے سن 10 ہجری میں کیا، جبکہ حج کی تاریخ اپنے آپ ابراہیمی تاریخوں میں پہنچ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سن 8 ہجری اور سن 9 ہجری میں ایسا کرنے کے لیے صدیوں کی قائم شدہ روایات کو توڑنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سن 8 ہجری اور سن 9 ہجری میں ایسا کرنے کے لیے صدیوں کی قائم شدہ روایات کو توڑنا پڑتا، جبکہ سن 10 ہجری میں روایات کو توڑے بغیر یہ مقصد اپنے آپ حاصل ہو رہا تھا۔

سماجی زندگی میں روایات کی بے حد اہمیت ہوتی ہے، اس لیے پیغمبر کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ روایات کو توڑے بغیر اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ آپ نے سن 10 ہجری میں حسبِ قاعدہ ابراہیمی تاریخ پر حج ادا فرمایا، اور پھر یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ اب ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ یہی وہ حکمت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے خطبے میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: "أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ فَهُوَ الْيَوْمُ" "کَہَیْأَتِ يَوْمٍ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَإِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اِثْنَا عَشَرَ شَهْرًا" ابن جریر: اے لوگو! زمانہ گھوم گیا، پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا تھا، اور مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک 12 مہینے ہیں۔

یعنی 33 سالہ چکر پورا ہو کر آج 9 ذوالحجہ، دوبارہ 9 ذوالحجہ کو پڑ رہا ہے۔ یہی نظامِ قدرت کے مطابق ہے۔ اب سابقہ مصنوعی کیلنڈر ختم کیا جاتا ہے، آئندہ اسی قدرتی کیلنڈر کے مطابق ہر سال ذوالحجہ میں حج ادا کیا جاتا رہے گا۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.