← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Rasulullah ka Hajj
Urdu · 35 min
رسول اللہ کا حج۔ حج کی عبادت کا نظام حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے قائم فرمایا تھا۔ اس کے بعد اگرچہ اس نظام میں بہت سے بگاڑ پیدا ہوئے، تاہم اس کا رواج برابر باقی رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکے میں پیدا ہوئے تو حج جاہلی رسوم کی آمیزش کے باوجود پوری طرح زندہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج ادا فرمایا؟ تاریخی اعتبار سے اس سوال کے دو حصے ہیں: ایک ہجرت سے پہلے، دوسرا ہجرت کے بعد۔ ثانی ذکر حصے کے بارے میں ہم کو مکمل معلومات حاصل ہیں، مگر جہاں تک اول الذکر حصے کا معاملہ ہے، اس کی بابت قطعی معلومات حاصل نہیں۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک بار حج کا فریضہ ادا کیا، جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔
ہجرت سے پہلے آپ مکے میں مقیم تھے۔ روایات سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مکے کے زمانۂ قیام میں بھی آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا، مگر اس کی قطعی تفصیل نہیں ملتی۔ سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ آپ نے ہجرت سے پہلے 2 حج ادا کیے۔ صحیح مسلم میں صرف 1 حج کا ذکر موجود ہے۔
بعض محدثین کا قول ہے کہ آپ اہل مکہ کی عادت کے مطابق ہر سال حج ادا کرتے تھے۔ طبقات ابن سعد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کے بعد آپ نے 1 حج کے سوا اور کوئی حج ادا نہیں کیا۔ ایک طرف ہجرت سے قبل حج کے بارے میں اتنی کم معلومات ہیں، اور دوسری طرف حجۃ الوداع کے بارے میں اتنی تفصیلی روایات ملتی ہیں کہ اس کے متعلق اول سے آخر تک مکمل ڈائری مرتب کی جا سکتی ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے؟
اس کی وجہ زمانے کا فرق ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ کی حیثیت ایک ناقابلِ ذکر شخصیت کی تھی۔ لوگوں کی نظر میں آپ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ مگر حجۃ الوداع آپ کی آخری عمر میں اس وقت پیش آیا جبکہ آپ کی حیثیت عرب کے فاتح کی ہو چکی تھی۔
آپ کی زندگی کے دو دوروں کا یہی فرق ہے، جس کی بنا پر آپ کے ابتدائی حج کے واقعات کو تاریخ نے باقاعدہ ریکارڈ نہیں کیا۔ اور آپ کے آخری حج کو تاریخ نے اتنی تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کیا کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا جز بھی غیر مذکور نہیں۔ روایات کے ذخیرے میں حجۃ الوداع کی جو تفصیلات بکھری ہوئی ہیں، ان کو بعض مؤلفین نے یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں چند کتابوں کے نام یہ ہیں: السیرت النبویہ، امام ابو الفدا اسماعیل ابن کثیر، زاد المعاد علامہ شمس الدین ابن قیم الجوزیہ، شرح المواہب الدنیہ، علامہ محمد ابن عبدالباقی الزرقانی۔
حجۃ الوداع و جزء عمرات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الشیخ محمد زکریا الکاندہلوی۔ ذیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حج کا بیان مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے۔ حجۃ الوداع سن 10 ہجری میں پیش آیا۔ اس کے تقریباً 2 ماہ بعد مدینے میں آپ کی وفات ہو گئی۔
آپ کے اس حج کو حجۃ الوداع اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ نے منی میں اور عرفے کے خطبے میں اس وقت کے اہلِ ایمان کو وداع کہا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ اس سال کے بعد آئندہ اس جگہ تم سے میری ملاقات نہ ہو سکے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حج مختلف پہلوؤں سے اہمیت رکھتا تھا، اسی لیے اس کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ مثلاً حجۃ الوداع، حجۃ الاسلام، حجۃ البلاغ، حجۃ الکمال، حجۃ التمام۔
مکہ رمضان سن 8 ہجری میں فتح ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن 8 اور سن 9 ہجری میں حج کے لیے تشریف نہیں لے گئے۔ البتہ آپ کی ہدایت کے مطابق سن 9 ہجری میں 300 مسلمانوں کی ایک جماعت نے مدینے سے مکہ جا کر حج ادا کیا۔ اس جماعت کے امیر حضرت ابوبکر صدیق تھے۔
اس حج میں عرب کے مشرکین بھی شریک تھے، مگر سورۃ توبہ میں نازل شدہ حکم کے مطابق سن 9 ہجری کے حج میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ آئندہ سے کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ اعلان حضرت علی نے کیا۔ بخاری۔ اگلے سال سن 10 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔
اسی کے ساتھ تمام قبائل میں اہتمام کے ساتھ اطلاعات بھیج دی گئیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کے ساتھ شریک ہو سکیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے بعد حج کی عبادت اگرچہ جاری تھی، مگر اس میں بہت سی جاہلی رسمیں شامل ہو گئی تھیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ آپ کو حج کے اعمال کرتے ہوئے دیکھ لیں، اور آئندہ اسی کے مطابق حج ادا کرتے رہیں۔ اس قسم کے اعمال ہمیشہ دیکھ کر ہی سمجھ میں آتے ہیں، لفظوں میں بتانے سے سمجھ میں نہیں آتے۔
حضرت جابر ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ اپنی سواری پر تھے اور رمی جمار کر رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! حج کے طریقے مجھ سے سیکھ لو، شاید اس سال کے بعد میں دوبارہ حج نہ کر سکوں گا۔
شاید اس سال کے بعد میں دوبارہ حج نہ کر سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کی خبر اطراف ملک میں پھیلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کی خبر اطراف ملک میں پھیلی تو لوگ آنا شروع ہوئے، یہاں تک کہ مدینے میں تقریباً 100000 آدمیوں کا مجمع اکٹھا ہو گیا۔ آپ 25 ذیقعدہ سن 10 ہجری کو مدینے سے روانہ ہوئے۔
راستے میں بھی لوگ اس قافلے میں شریک ہوتے رہے۔ آپ اس طرح مکے کی طرف جا رہے تھے کہ آپ کے چاروں طرف آدمیوں کا ہجوم تھا۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ میری نگاہ جہاں تک جاتی تھی، مجھے ہر طرف انسان ہی انسان دکھائی دیتے تھے۔ مکہ پہنچ کر یہ مجمع تقریباً 12500 ہو گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس اونٹنی پر سوار تھے جس کا نام قصواٰ تھا۔ یہ ایک غیر معمولی قسم کی تیز رفتار اونٹنی تھی، تاہم اس وقت اس کے اوپر جو کجاوا بندھا ہوا تھا، اس کی قیمت 4 درہم سے زیادہ نہ تھی۔ گویا ضرورت کی حد تک اعلیٰ معیار، اور جہاں ضرورت کی حد ختم ہو جائے وہاں صرف سادگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی سے پہلے ظہر کی 4 رکعتیں لوگوں کے ساتھ پڑھیں۔
آپ نے ایک تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ احرام باندھنے کے فرائض و آداب کیا ہیں۔ اس کے بعد آپ مدینے سے روانہ ہوئے۔ مدینے سے 5 میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ ایک مقام ہے جو اہلِ مدینہ کی میقات ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے رات گزاری۔
اگلے دن آپ نے غسل کیا، ظہر کی نماز 2 رکعت ادا کی، اور حج و عمرہ یعنی قران کا احرام باندھا۔ پھر تلبیہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے: لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمت لک والملک لا شریک لک۔ یعنی: حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں، حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں، تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہیں، اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔
اس طرح آپ مدینے سے مکے کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں کوئی ٹیلہ ملتا تو اس پر چڑھ کر آپ بلند آواز سے اللہ اکبر، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے، کہتے۔ گویا کہ یہاں سے آپ سارے عالم کے سامنے اللہ کی بڑائی کا اعلان کر رہے ہوں۔ آپ 4 ذی الحجہ کو مکہ پہنچے۔
مدینے سے مکے کا سفر 9 دن میں طے ہوا۔ یہ سہ پہر کا وقت تھا۔ آپ چلتے ہوئے حرم میں داخل ہوئے۔ بیت اللہ پر نظر پڑی تو آپ کی زبانِ مبارک سے نکلا: اللہم زد بیتک ھذا تشریفاً وتعظيماً وتکریماً ومهابةً۔
اے اللہ! تو اپنے اس گھر کے شرف اور عظمت اور بزرگی اور ہیبت میں اضافہ فرما۔ آپ اپنے ہاتھ کو اٹھا کر تکبیر کہتے اور فرماتے: اللہم أنت السلام ومنك السلام، حيّنا ربنا بالسلام۔ اے اللہ!
تو سلامتی ہے، تجھ ہی سے سلامتی ہے۔ اے ہمارے رب! ہم کو سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ۔ حرم میں داخل ہو کر آپ نے تحیۃ المسجد کا دوگانہ نہیں پڑھا، بلکہ طوافِ قدوم شروع کر دیا۔
آپ حجرِ اسود کے پاس آئے اور بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ کر اس کا استلام کیا۔ پھر دائیں طرف سے چل کر 7 بار اس کا طواف اس طرح کیا کہ کعبہ آپ کے بائیں طرف تھا۔ طواف کے پہلے 3 شوط یعنی پھیرے میں آپ تیز تیز چلے، جس کو رمل کہا جاتا ہے۔ باقی 4 پھیروں میں آپ معمول کی چال چلے۔
آپ کے بائیں شانے پر احرام کی چادر پڑی ہوئی تھی، اور دایاں شانہ کھلا ہوا تھا۔ اس طریقے کو ازتباع کہا جاتا ہے۔ طواف کے دوران جب آپ حجرِ اسود کے سامنے سے گزرتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے اپنی چھڑی سے استلام کرتے۔ حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے درمیان یہ دعا معصور ہے: ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرة حسنۃ وقنا عذاب النار۔
یعنی: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے، اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اسی طرح طواف میں آپ سے بعض اور دعائیں بھی منقول ہیں۔ طوافِ کعبے سے فراغت کے بعد آپ مقامِ ابراہیم کے پاس آئے اور قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَاتَّخَذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى۔
البقرہ 125۔ مقامِ ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر آپ نے 2 رکعت نماز ادا کی۔ اس کے بعد حجرِ اسود کے پاس گئے اور اس کا بوسہ لیا۔ پھر صفا کی طرف روانہ ہوئے۔
قریب آئے تو فرمایا: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ، أَبْدَأُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ۔ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔ پھر آپ صفا پر چڑھے، یہاں تک کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔
آپ نے قبلے کی طرف متوجہ ہو کر یہ الفاظ کہے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير۔ لا إله إلا الله وحده، أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، وہ اکیلا ہے۔
اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور تمام گروہوں کو تنہا شکست دی۔ پھر آپ صفا سے اتر کر مروہ کی طرف روانہ ہوئے۔ دونوں پہاڑیوں کے درمیان آپ نے اس طرح سعی فرمائی کہ جب آپ نشیب میں یعنی میلین اخزرین کے درمیان پہنچے تو دوڑنے لگے۔ نشیب ختم ہوا تو آہستہ چلنے لگے۔
مروہ پہنچ کر آپ اس کے اوپر اتنا چڑھے کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔ یہاں بھی آپ نے تکبیر و تحلیل کی اور دعا مانگی۔ اسی طرح آپ نے صفا و مروہ کے درمیان 7 پھیرے کیے۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے ابتدائی چند پھیرے پیروں پر کیے، اور بقیہ پھیرے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر۔
آپ نے ایسا غالباً اس لیے کیا کہ دور تک پھیلا ہوا مجمع آپ کے عمل کو بخوبی طور پر دیکھ سکے۔ آپ کا ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 4 ذی الحجہ کو مکے میں مقامِ ابطح میں اترے تھے۔ یہاں آپ 8 ذی الحجہ تک یعنی 4 دن رہے، اور وہیں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ قصر کر کے نماز پڑھتے رہے۔
8 ذی الحجہ کو آپ اپنے تمام اصحاب کے ساتھ منیٰ گئے۔ جاتے وقت کوئی طواف نہیں کیا۔ اس دن ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نمازیں آپ نے منیٰ میں پڑھیں، اور رات کو یہیں قیام کیا۔ صبح 9 ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد آپ عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔
آپ نمیرہ یعنی وادی عرفہ کے ایک خیمے میں اترے۔ صحابہ میں سے کوئی لبیک پکارتا تھا، اور کوئی تکبیر کہتا تھا، کوئی ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔ جب زوال کا وقت آیا تو آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے، اور میدانِ عرفہ کے بیچ میں ٹھہرے۔ یہاں موجودہ مسجد نمرہ کی جگہ اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے آپ نے وہ خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔
یہ خطبہ اور دوسرا خطبہ جو آپ نے منیٰ میں دیا، وہ متفرق طور پر حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا مجموعہ اگلے صفحات میں نقل کیا جا رہا ہے۔ یہ جمعہ یعنی 9 ذی الحجہ کا دن تھا۔ جب آپ خطبہ دے چکے تو آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔
انہوں نے اذان دی۔ آپ نے ایک اذان اور دو اقامت سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے دو دو رکعت پڑھیں۔ یہ جمعہ کی نماز نہیں بلکہ ظہر کی قصر نماز تھی، کیونکہ آپ نے اس میں قرأت بالجہر نہیں کی۔ فرض کے علاوہ اس موقع پر کوئی سنت یا نفل آپ نے نہیں پڑھی۔
نماز سے فارغ ہو کر آپ عرفات کے اس مقام پر آئے جس کو وقوف کی جگہ کہا جاتا ہے۔ یہاں آپ نے اپنے اونٹ پر بیٹھے بیٹھے سورج ڈوبنے تک دعا کی۔ آپ نے فرمایا کہ اس دن کی دعا بہترین دعا ہے۔ اس وقت آپ کس قسم کے ربانی احساسات سے بھرے ہوئے تھے، اس کا اندازہ ان کلمات سے ہوتا ہے جو اس وقت آپ کی زبان سے نکل رہے تھے۔
ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: اللہم إنك تسمع كلامي وترى مكاني وتعلم سري وعلانيتي، لا يخفى عليك شيء من أمري، أنا البائس الفقير، المغيث المستجير، الوجل المشفق المقر، المعترف بذنبي. أسألك مسألة المسكين، وابتہل إليك ابتهال المذنب الذليل، وأدعوك دعاء الخائف الضرير، من خضعت لك رقبته وفاضت لك عيناه، وذل جسده ورغم أنفه لك. اللہم لا تجعلني بدعائك رب شقیا، وكن لي رؤوفا رحيما، یا خیر المسئولین ویا خیر المعطين۔ اے اللہ!
تو میری بات سن رہا ہے، اور تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے۔ تو میرے چھپے اور کھلے کو جانتا ہے۔ میری کوئی بات تجھ سے چھپی ہوئی نہیں۔ میں مصیبت زدہ ہوں، محتاج ہوں، تجھ سے فریادی ہوں، تیری پناہ چاہتا ہوں۔
پریشان ہوں، خوفزدہ ہوں، اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کر رہا ہوں۔ تجھ سے بے کس آدمی کی طرح سوال کر رہا ہوں، اور گنہگار اور حقیر انسان کی طرح تیرے سامنے گڑگڑا رہا ہوں، اور تجھ سے خوفزدہ اور آفت رسیدہ آدمی کی مانند سوال کرتا ہوں، جیسے وہ شخص جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہو، اور اس کی آنکھیں تیرے لیے بہہ پڑی ہوں، اور اس کا جسم تیرے آگے فروتنی کیے ہوئے ہو، اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا ہو، اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا ہو۔ اے اللہ! تو مجھے اپنے سے دعا مانگنے میں ناکام نہ رکھ، اور تو میرے حق میں بڑا مہربان، نہایت رحم والا بن جا۔
اے تمام مانگے جانے والوں سے بہتر، اور اے سب دینے والوں سے اچھا۔ اس اسناء میں لوگ حج کے مسائل پوچھنے آتے تھے۔ کچھ نجدیوں نے پوچھا کہ حج کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ الحج عرفہ یعنی حج عرفات میں ٹھہرنے کا نام ہے۔
جو شخص یوم النحر سے پہلے یہاں آ جائے، اس کا حج ہو گیا۔ قرآن کی آیت: الیوم أكملت لکم دینكم وأتممت علیکم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا۔ المائدہ 3۔ یہی عرفہ میں خطبہ حجۃ الوداع کے بعد نازل ہوئی۔
سورج ڈوبنے کے بعد آپ عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ راستہ بھر آپ تلبیہ کرتے رہے۔ مزدلفہ پہنچنے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
آپ نے لوگوں کو تیز چلنے سے منع فرمایا۔ آپ نے کہا: السکینہ ایہا الناس، السکینہ ایہا الناس، فإن البرّ ليس بالإيضاء۔ لوگوں! سکون اور اطمینان کے ساتھ چلو، دوڑنا کوئی ثواب کی بات نہیں۔
مزدلفہ میں آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔ اذان کے بعد آپ کھڑے ہوئے، اور اونٹوں کو بٹھانے اور سامان اتارنے سے پہلے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد جب لوگوں نے سامان اتار لیا تو آپ نے عشاء کی نماز دو رکعت ادا فرمائی۔ یہاں بھی آپ نے ایک اذان اور دو اقامت سے دونوں نمازیں ادا کیں۔
فرض کے علاوہ آپ نے کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد آپ لیٹ گئے اور صبح تک سوئے۔ صبح اٹھ کر فجر کی نماز آپ نے اول وقت پڑھی۔ یہ ذی الحجہ کی 10 تاریخ تھی۔
پھر آپ سواری پر بیٹھے اور مشرق حرام آئے۔ یہاں قبلے کی طرف رخ کر کے دعا اور تضرع کرتے رہے، یہاں تک کہ پوری طرح اجالا ہو گیا۔ سورج نکلنے سے پہلے آپ مزدلفہ سے روانہ ہوئے۔ آپ برابر تلبیہ کرتے رہے۔
فضل ابن عباس آپ کے پیچھے سوار تھے۔ آپ نے ان کو حکم دیا کہ رمی جمار کے لیے یہاں سے 7 کنکریاں چن لیں۔ جب آپ وادی محسر میں پہنچے تو لوگوں سے کہا کہ یہاں سے تیزی سے گزر جاؤ۔ اپنی اونٹنی بھی آپ نے تیز کر دی۔
وادی محسر وہ جگہ ہے جہاں اصحاب فیل پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا۔ آپ چلتے رہے یہاں تک کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔ پھر آپ جمرۃ العقبہ آئے۔ یہاں آپ اس طرح کھڑے ہوئے کہ مکہ آپ کے بائیں طرف تھا اور منیٰ داہنی طرف۔
آپ نے سواری پر بیٹھے ہوئے سورج نکلنے کے بعد ایک کے بعد ایک 7 کنکریاں ماریں، جس کو رمی کہا جاتا ہے۔ ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہتے جاتے تھے۔ رمی جمار کے بعد آپ نے تلبیہ موقوف کیا۔ اس کے بعد آپ منیٰ واپس ہوئے۔
آپ نے دین کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان فرمایا: اعبدوا ربکم وصلوا خمسکم، قسوموا شہرکم، واطیعوا ذا امرکم، تدخلوا جنت ربکم۔ اپنے رب کی عبادت کرو اور پانچ وقت کی نماز پڑھو، اور رمضان کے مہینے کا روزہ رکھو، اور اپنے صاحبِ امر کی اطاعت کرو، اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔ منیٰ میں آپ نے ایک خطبہ دیا۔ یہ اہم خطبہ عرفہ کے خطبے سے مشابہ تھا۔
یہ تکرار غالباً اس لیے تھی کہ جس نے وہاں نہ سنا ہو، وہ یہاں سن لے اور اچھی طرح یاد کر لے۔ یہاں آپ نے جن باتوں کا اعلان فرمایا، ان میں سے یہ بھی تھا: لا فضل لعربین علی عجمی، ولا لعجمین علی عربی، ولا لاسود علی احمر، ولا لاحمر علی اسود، الا بالتقویٰ۔ مسند احمد، عن ابی نضرت۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں، اور کسی کالے کو کسی سرخ پر فضیلت نہیں، اور کسی سرخ کو کسی کالے پر فضیلت نہیں۔
فضیلت کا مدار صرف تقویٰ پر ہے۔ نیز آپ نے فرمایا: ألا إن الشيطان قد أَعِس أن يُعْبَدَ في بلدكم هذا أبدًا، ولكن ستكون له طاعة فيما تحقرون من أعمالكم فيرضى به۔ ترمذی۔ سن لو!
شیطان اس سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں قیامت تک اس کی پرستش کی جائے، مگر تم ایسے کاموں میں اس کی پیروی کرو گے جس کی تمہاری نظر میں اہمیت نہ ہوگی، اور وہ اس سے راضی ہو جائے گا۔ اس کے بعد آپ منیٰ میں مقامِ نحر یعنی قربانی کی جگہ پر گئے۔ یہاں آپ نے 63 اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے۔ آپ کی عمر بھی 63 سال تھی۔
آپ کی عمر بھی 63 سال ہوئی۔ اس کے بعد آپ رکے اور حضرت علی سے کہا کہ سو اونٹ میں جو تعداد باقی ہے، اس کو تم پورا کر دو۔ قربانی سے فارغ ہو کر آپ نے معمر ابن عبداللہ حجام کو بلایا اور اپنے بال منڈوائے، جس کو حلق کہا جاتا ہے، اور ناخن کتروائے۔ عورتوں کو آپ نے صرف تخصیر یعنی بال کتروانے کا حکم دیا، مونڈنے سے منع فرمایا۔
اس کے بعد آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر مکے کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ قربانی مقامِ نحر کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی کی جا سکتی ہے۔ قربانی کا گوشت آپ نے تھوڑا سا پکوا کر کھایا، اور بقیہ سب خیرات کر دیا۔ آپ نے لوگوں سے کہا کہ قربانی کا گوشت کھاؤ اور کھلاؤ، اور جب تک چاہے اس کو سکھا کر رکھو۔
10 ذی الحجہ کو آپ مکہ پہنچے۔ یہاں آپ نے ظہر سے پہلے طوافِ افاضہ کیا، جس کو طوافِ زیارت بھی کہا جاتا ہے۔ اس طواف میں آپ نے رمل اور استباع نہیں کیا، اور نہ سعی کی۔ اس کے بعد آپ زمزم کے کنویں کے پاس آئے اور کھڑے ہو کر زمزم پیا۔
اس وقت حسبِ دستور خاندانِ عبدالمطلب کے لوگ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے۔ اس کے بعد آپ اس روز منیٰ کے لیے واپس ہو گئے۔ رات آپ نے منیٰ میں گزاری۔ اگلے روز 11 ذی الحجہ کو آپ منیٰ میں سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے رہے۔
جب زوال کا وقت آیا تو آپ سواری سے اتر کر رمی جمار کے لیے گئے۔ پہلے آپ نے جمرہ اولیٰ پر ایک کے بعد ایک 7 کنکریاں ماریں۔ اس کے بعد کچھ دیر تک دعا کرتے رہے، اور پھر جمرہ وسطیٰ پر اسی طرح کنکریاں ماریں۔ اس کے بعد پھر کچھ دیر تک دعا کرتے رہے۔
ہر کنکری پر آپ اللہ اکبر فرماتے رہے۔ اس کے بعد جمرۃ العقبہ کے قریب جا کر اس کو 7 کنکریاں مار دیں۔ پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے۔ اس کے بعد 12 ذی الحجہ اور 13 ذی الحجہ یعنی ایامِ تشریق کے تینوں دن تک آپ منیٰ ہی میں رہے۔
منیٰ میں آپ نمازِ قصر بغیر جمع پڑھاتے رہے۔ 13 ذی الحجہ کو زوال کے بعد مکے کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ نے وادی محصب یعنی ابطح کے ایک خیمے میں قیام کیا۔ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نمازیں یہیں پڑھیں۔
رات کو یہیں آرام کیا۔ رات کو پچھلے پہر اٹھ کر حرم گئے اور کعبے کا طواف یعنی طواف الوداع کیا، اور وہیں فجر کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد قافلے کو سفر کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنے اپنے مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔
آپ مہاجرین اور انصار کے ساتھ مدینے کی طرف روانہ ہوئے۔ مکے میں داخل ہونے سے لے کر نکلنے تک آپ کا قیام کل 10 دن رہا۔ جب ذوالحلیفہ یعنی مدینے کے قریب پہنچے تو آپ ٹھہر گئے، اور رات یہاں گزری۔ صبح کو طلوعِ آفتاب کے وقت مدینے میں داخل ہوئے۔
جب آپ کی نظر سوادِ مدینے پر پڑی تو آپ نے تین بار تکبیر کہی اور فرمایا: اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شی قدیر۔ عائبون، تائبون، عابدون، ساجدون، لربنا حامدون، صدق اللہ وعدہ، ونصر عبدہ، وهزم الاحزاب وحدہ۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، وہ اکیلا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹ رہے ہیں، توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے، سجدہ کرتے ہوئے، اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے۔
اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا، اور اس نے اپنے بندے کی مدد کی، اور اس نے تمام گروہوں کو تنہا شکست دی۔ حضرت اسامہ بن شریح کہتے ہیں کہ منیٰ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی۔
کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کرا لیا۔ کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد رمی کیا۔ اسی طرح لوگ مختلف مسائل پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے: افعل ولا حرج، افعل ولا حرج، کر لو، کوئی حرج نہیں، کر لو، کوئی حرج نہیں۔
حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے، ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اسی نے حرج والا کام کیا اور ہلاک ہوا۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد۔ عن اسلمۃ ابن شریق رضی اللہ عنہ قال: خرجت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجاً، فكان الناس یأتونه فمن قائل: یا رسول اللہ!
سعیت قبل أن أطوف، وأخرت شيئاً، وقدمت شيئاً، وأخرت شيئاً، وقدمت شيئاً، فكان یقول: لا حرج إلا على رجل افترض عرض رجل مسلم وهو ظالم، فذلك الذي حرج وهلك. اخرجہ ابو داؤد۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔