Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Aayaat-0-Ahaadees

Urdu · 18 min

آیات و احادیث: حج کی ادائیگی، یعنی بشرط استطاعت، تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ وہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک لازمی رکن ہے۔ یہاں حج کے فریضے سے متعلق کچھ آیتیں اور حدیثیں نقل کی جاتی ہیں۔ آیات: وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ.

آلِ عمران 97۔ اور لوگوں پر بیت اللہ کا حج اللہ کا حق ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور جو شخص انکار کرے تو اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ.

آلِ عمران 96۔ پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہ وہی ہے جو مکے میں ہے، برکت والا اور سارے جہاں کے لیے رہنما۔ وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ثُمَّ لِيَقْضُوا طَفَثَهُمْ وَلْيُوفُونَ ذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ. الحج 27 تا 29۔

اور لوگوں میں حج کے لیے پکار دو۔ وہ پیدل چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر چلے آئیں، دور کی راہوں سے، تاکہ وہ اپنے فائدے کی جگہوں پر پہنچیں۔ اور معلوم دنوں میں اللہ کا نام لیں، ان چوپائیوں پر جو اللہ نے انہیں دیے ہیں۔ پس تم اس میں سے کھاؤ اور محتاجوں کو کھلاؤ۔

پھر چاہیے کہ وہ اپنا میل دور کریں، اور اپنی نظریں پوری کریں، اور قدیم گھر کا طواف کریں۔ الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٍ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابَ. البقرہ 197۔ حج کے متعین مہینے ہیں۔

پس جس نے حج کا عزم کر لیا، تو پھر اس کو حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے، اور نہ گناہ کی، اور نہ لڑائی جھگڑے کی۔ اور جو نیک کام تم کرو گے، اللہ اس کو جان لے گا۔ اور تم زادِ راہ لو، بہتر زادِ راہ تقویٰ کا زادِ راہ ہے۔ اور اے عقل والو، مجھ سے ڈرو۔

احادیث: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَىٰ خَمْسٍ شَهَادَتِي اللَّهِ إِلَىٰ إِلَّا اللَّهِ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِي وَصَوْمِ رَمَضَانِ. متفق علیہ۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔

أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا مَن حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفَثْ وَلَمْ يَفْسُخْ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَالْعُمْرَةُ لِلْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ. متفق علیہ۔ اے لوگو! اللہ نے تمہارے اوپر حج فرض کیا ہے، تو تم حج کرو۔

جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر وہ نہ کوئی فحش بات کرے اور نہ کوئی گناہ کرے، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے کہ وہ اس دن تھا جب کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ اور ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے۔ اور حج مبرور کی جزا صرف جنت ہے۔ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سُئِلَ النبي صلى الله عليه وسلم: "أيُّ العمل أفضل؟

" قال: "إيمانٌ بالله ورسوله." قيل: ثم ماذا؟ قال: "الجهاد في سبيل الله." قيل: ثم ماذا؟ قال: "حجٌّ مبرورٌ." متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟

آپ نے فرمایا: "اللہ پر اور رسول پر ایمان۔ " پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: "کہ اللہ کے راستے میں جہاد۔ " پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟

فرمایا: "کہ حج مبرور۔ " یعنی وہ حج جس کے ساتھ گناہ شامل نہ ہو۔ عن أبي هريرة قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يقول: "وَافْضُلُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: الغَازِيُّ وَالحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ." نسائی، بیہقی۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "اللہ کے وفد تین ہیں: غازی، اور حاجی، اور عمرہ کرنے والا۔

" عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَّةٌ ظَاهِرَةٌ أو سُلْطَانٌ جَائِرٌ أو مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِن شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِن شَاءَ نَصْرَانِيًّا." دارمی۔ حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کہ جس شخص کو کوئی کھلی ہوئی ضرورت حج سے نہ روکے، اور نہ کوئی ظالم بادشاہ یا کوئی سخت مرض روکے، اور وہ حج کیے بغیر مر جائے، تو وہ چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے۔ " عن عبد الله بن عمر قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا رسول الله، ما يوجب الحج؟ " فقال: "الزاد والراحلة." ترمذی، ابن ماجہ۔

حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: "کہ اے اللہ کے رسول، کیا چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ " آپ نے فرمایا: "کہ زادِ راہ اور سواری۔ " عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من مَلَكَ زادًا وراحلةً تُبَلِّغُهُ إلى بيت الله ولم يحجَّ فلا عليه أن يموت يهوديًا أو نصرانيًا." ترمذی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کہ جس شخص کے پاس زادِ سفر اور سواری ہو جو اس کو بیت اللہ تک پہنچا دے، اور وہ حج نہ کرے، تو وہ خواہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔

" عن عبد الله بن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أراد الحج فليتعجل." ابو داؤد۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کہ جو شخص حج کرنا چاہتا ہو، وہ جلدی کرے۔ " عن عبد الله بن عمر قال: سَأَلَ رَجُلٌ: "يا رسول الله، ما الحج؟ " قال: "الشَّعَسُ التَّفِيلُ." فقام آخر فقال: "يا رسول الله، أيُّ الحج أفضل؟

" قال: "العجُّ والشُّحُّ." العجُّ والشجُّ. فقام آخر فقال: "يا رسول الله، ما السَّبيلُ؟ " قال: "الزاد والراحلة." ابن ماجہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: "حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کہ اے خدا کے رسول، حاجی کون ہے؟

" آپ نے فرمایا: "کہ پراگندہ بال اور بو دار۔ " دوسرا شخص اٹھا اور اس نے کہا: "کہ اے خدا کے رسول، کون سا حج افضل ہے؟ " آپ نے فرمایا: "کہ بلند آواز سے بلند لبیک کہنا اور جانور قربان کرنا۔ " پھر ایک اور شخص اٹھا اور اس نے کہا: "کہ اس کی سبیل کیا ہے؟

" آپ نے فرمایا: "کہ زادِ سفر اور سواری۔ " عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من خرج حاجًّا أو معتمرًا أو غازيًا ثم مات في طريقه كتب الله له أجر الغازي والحاج والمعتمر." البیہقی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کہ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے ارادے سے نکلے، پھر وہ راستے میں مر جائے، تو اللہ اس کے لیے غازی اور حاجی اور عمرہ کرنے والے کا اجر لکھ دے گا۔ " عن عائشة قالت: استأذنتُ النبي صلى الله عليه وسلم في الجهاد فقال: "جهادكن الحج." متفق علیہ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا: "کہ عورتوں کا جہاد حج ہے۔ " عن عبد الله بن عباس رضي الله عنه قال: كان أهل اليمين يحجون فلا يتزودون ويقولون: نحن المتوكلون. فإذا قدموا مكة سألوا الناس فأنزل الله تعالى: وتزودوا فإن خير الزاد التقوى. بخاری۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کے لوگ حج کرتے تھے اور زادِ سفر نہیں لیتے تھے۔ وہ کہتے تھے: "کہ ہم متوکل ہیں۔ " جب وہ مکہ آتے تو لوگوں سے سوال کرتے۔ چنانچہ اللہ نے یہ آیت اتاری: "کہ تم لوگ زادِ راہ لے لیا کرو۔

بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ " إنما جُعلَ الطَّوافُ بالبيتِ والسَّعيِّ بينَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ وَرَمْيُ الجمارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ تعالى. ابو داؤد۔ کعبے کا طواف کرنا، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا، اور جمرات پر کنکریاں مارنا، یہ سب صرف اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔

حج زندگی میں ایک بار ہے۔ الحجُّ مرةٌ فمن زادَ فهو تطوّعٌ. حج زندگی میں ایک بار ہے، پھر جو زیادہ کرے تو وہ تطوّع ہے۔ من قدِرَ على الحجِّ فتركه فلا عليه أن يموت يهوديًّا أو نصرانيًّا.

جو شخص حج کرنے پر قادر ہو، پھر بھی وہ اس کو چھوڑ دے، تو اس پر کچھ نہیں، خواہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر مرے۔ عن عائشة أنها قالت: يا رسول الله، هل على النساء من جهادٍ؟ قال: عليهن جهادٌ لا قتال فيه. الحج والعمره.

اخرجہ احمد و ابن ماجہ۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: "کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ " آپ نے فرمایا: "ہاں، ان پر ایسا جہاد ہے جس میں قتال نہیں، وہ ہے حج اور عمرہ۔ " عن عبد الله بن أوفى قال: سألتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجلِ لم يحجَّ: أيستغرزُ للحج؟

قال: لا. حضرت عبدالله ابن أوفى کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا: "جس نے حج نہیں کیا ہے، کیا وہ حج کے لیے قرض لے سکتا ہے؟ " آپ نے فرمایا: "نہیں۔ " إذا خرج الرجلُ حاجًّا بنفقةٍ طيبةٍ ووضعَ رجله في الغرز فنادى: لبیک اللہم لبیک، ناداه منادٍ من السماء: لبیک وسعدیک، زادُك حلالٌ وراحلتُك حلالٌ، وحجُّك مبرورٌ غير ماذورٍ.

وإذا خرج الرجلُ بالنفقةِ الخبيثةِ فوضعَ رجله في الغرز فنادى: لبیک اللہم لبیک، ناداه منادٍ من السماء: لا لبیک ولا سعدیک، زادُك حرامٌ ونفقتُك حرامٌ، وحجُّك غير مبرورٍ. الطبرانی۔ جب آدمی پاک مال کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے اور اپنا پاؤں رکاب میں رکھتا ہے، تو وہ کہتا ہے: "لبیک اللہم لبیک"۔ اس وقت آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے: "کہ لبیک، خوش آمدید، خوش آمدید!

تمہارا زادِ سفر حلال ہے، اور تمہاری سواری حلال ہے، اور تمہارا حج مبرور ہے۔ " اس میں گناہ شامل نہیں۔ اور جب آدمی ناپاک مال کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے، اور وہ اپنا پاؤں رکاب میں رکھتا ہے، اور کہتا ہے: "کہ لبیک اللہم لبیک"، اس وقت آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے: "کہ نہ لبیک اور نہ خوش آمدید! تمہارا زادِ سفر حرام ہے، تمہارا مال حرام ہے، اور تمہارا حج غیر مبرور ہے۔

" اللهم أنت الصاحب في السفر وأنت الخليفة في الأهل والمال، اللهم إنا نسألك في مسيرنا هذا البرّ والتقوى ومن العمل ما تحب وترضى. اے اللہ، تو ہی سفر میں ساتھی ہے، اور تو ہی گھر اور مال میں خبرگیری کرنے والا ہے۔ اے اللہ، ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں، اور وہ عمل جس کو تو پسند کرے، اور جس سے تو راضی ہو۔ لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک، لبیک إن الحمد والنعمة لک والملک لا شریک لک.

بخاری و مسلم۔ حاضر ہوں خدایا، میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے، اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔ اللهم اجعله حجًّا مبرورًا وذنبًا مغفورًا.

مسند احمد۔ خدایا، میرے اس حج کو تو حجِ مبرور بنا دے، اور اس کو میرے گناہوں کی بخشش بنا دے۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.