← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Khutba-e-Hajjatul vida
Urdu · 19 min
خطبۂ حجۃ الوداع: حجۃ الوداع کا خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری، اہم ترین تقریر ہے۔ یہ وہ خطبہ ہے جو آپ نے 9 ذی الحجہ، سن 10 ہجری کو، عرفات کے میدان میں دیا تھا۔ حجۃ الوداع گویا زمانۂ نبوت کا سب سے بڑا اسلامی اجتماع تھا۔ اس موقع پر تقریباً سوا لاکھ اصحابِ رسول جمع تھے۔
اس وقت اپنی وفات سے تقریباً 2 ماہ قبل آپ نے یہ خطبہ دیا۔ اس میں آپ نے ان تمام باتوں کا آخری اعلان فرمایا جس کے لیے آپ مبعوث کیے گئے تھے۔ حدیث کی کتابوں میں حجۃ الوداع کا نہایت تفصیلی تذکرہ ہے، مگر خطبۂ حجۃ الوداع کسی روایت میں ایک کامل متن کی صورت میں مذکور نہیں۔ مختلف روایتوں میں اس کے متفرق اجزا ملتے ہیں۔
متعدد اہلِ علم نے ان اجزا کو جوڑ کر ایک مجموعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ خطبہ، ایک لفظ میں، خدا کی عظمت اور انسان کی مساوات کا اعلان تھا۔ آپ نے بتایا کہ انسانوں کے درمیان صحیح تقسیم صرف ایک ہے، اور وہ خدا پرست ہونے اور خدا پرست نہ ہونے کی ہے۔ اس کے سوا دوسری تمام تقسیمات مصنوعی ہیں۔
آپ نے انہیں باطل ٹھہرایا اور امت کو ذمہ دار بنایا کہ وہ ہمیشہ اس کا اعلان کرتی رہے۔ اس اعلان کا ایک عملی اظہار یہ تھا کہ جس وقت سوا لاکھ انسانوں کے درمیان آپ نے عظمتِ خداوندی اور مساواتِ انسانی کا یہ خطبہ دیا، اس وقت آپ کے سب سے زیادہ قریب دو آزاد شدہ غلام تھے: ایک بلال حبشی، جو آپ کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے، اور دوسرے اسامہ بن زید، جو آپ کے سر پر کپڑے کا سایہ کیے ہوئے تھے۔ اگلے صفحات میں یہ اہم خطبہ شائع کیا جا رہا ہے: اولاً خطبۂ نبوی کا عربی متن، اور اس کے بعد اس کا اردو ترجمہ۔ نصّ الخطبة الّتي خطبها رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عرفة: إنّ دماءكم وأموالكم حرامٌ عليكم، كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا.
ألا كلّ شيءٍ من أمر الجاهلية تحت قدميّ موضوعٌ، ودماء الجاهلية موضوعةٌ، وإنّ أوّل دمٍ أضعُه من دمائنا دمُ ابنِ ربيعة بن الحارث. دم ابنِ ربيعة بن الحارث كان مسترضعاً في بني سعد، فقتلته هزيلٌ، وربا الجاهلية موضوعٌ، وأوّل ربا أضعُ من ربانا ربا العباس بن عبد المطلب، فإنه موضوعٌ كلّه. فاتقوا الله في النساء، فإنكم أخذتموهن بأمانة الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله، ولكم عليهن ألا يوطئن فرشكم أحداً تكرهونه. فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضرباً غير مبرّحٍ، ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف، وقد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده إن اعتصمتم به كتاب الله وسنة نبيه.
إن اعتصمتم به كتاب الله وسنة نبيه، وأنتم تسألون عني، فماذا أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأدّيت ونصحت. فقال بإصبعه السبابة يرفعها إلى السماء وينكبها إلى الناس: اللهم اشهد، ثلاث مرات. نصّ الخطبة الّتي خطبها رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق: يا أيها الناس، هل تدرون في أي شهرٍ أنتم، وفي أي يومٍ أنتم، وفي أي بلدٍ أنتم؟
فقالوا: في يومٍ حرامٍ، وبلدٍ حرامٍ، وشهرٍ حرامٍ. قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرامٌ، كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا وفي بلدكم هذا، إلى يومٍ تلقونه. ثم قال: اسمعوا مني تعيشوا: ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا. إنه لا يحلّ مالُ امرئٍ مسلمٍ إلا بطيب نفسٍ منه.
ألا وإن كلّ دمٍ، ألا وإن كلّ دمٍ ومالٍ ومأثرةٍ كانت في الجاهلية تحت قدميّ هذه إلى يوم القيامة. وإن أوّل دمٍ، وإن أوّل دمٍ يوضعُ دمُ ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب كان مسترضعاً في بني ليث، فقتلته هزيلٌ. ألا وإن كلّ ربا في الجاهلية موضوعٌ، وإن الله عز وجل قضى أن أوّل ربا يوضعُ ربا العباس بن عبد المطلب. لكم رؤوسُ وأموالكم، لا تظلمون ولا تظلمون.
ألا وإن الزمان قد استدار كهيئة يومٍ خلق السماوات والأرض. ثم قرأ: إن عدّة الشهور عند الله اثنا عشر شهراً في كتاب الله، في كتاب الله يوم خلق السماوات والأرض، منها أربعة حرم. ذلك الدين القيم، فلا تظلموا فيهن أنفسكم. ألا لا ترجعوا بعدي كفاراً يضرب بعضكم رقاب بعضٍ.
ألا إن الشيطان قد أئس أن يعبدَه المصلون، ولكنه في التحريش بينكم. واتقوا الله في النساء، فإنهن عندكم عوانٌ، لا يملكن لأنفسهن شيئاً. وإن لهن عليكم حقاً، ولكم عليهن حقاً، ألا يوطئن فرشكم أحداً غيركم، ولا يأذنّ في بيوتكم لأحدٍ تكرهونه. فإن خفتم نشوزهن، فعظوهن، واهجروهن في المضاجع، واضربوهن ضرباً غير مبرّح.
ولهن رزقهن وكسوتهن بالمعروف، وإنما أخذتموهن بأمانة الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله عز وجل. ألا ومن كانت عنده أمانة فليؤدّها إلى من ائتمنه عليها وبسط يديه. وقال: ألا هل بلغتُ، ألا هل بلغتُ؟ ثم قال: ليبلّغ الشاهد الغائب، فإنه رب مبلّغٍ أسعد من سامع.
ترجمہ: بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تمہارے اوپر حرام ہیں، جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرام ہے۔ سن لو کہ جاہلیت کے معاملے کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہے، اور جاہلیت کے تمام خون باطل کر دیے گئے۔ اور سب سے پہلا خون جو میں باطل کرتا ہوں، وہ ہمارا خون ربیعہ ابن حارث کا خون ہے۔ اس نے بنو سعد سے دودھ پلانے والی طلب کیا تھا، پھر اس کو ہزیل نے قتل کیا۔
اور جاہلیت کے تمام سود باطل ہیں، اور سب سے پہلا سود جو میں باطل کرتا ہوں، وہ ہمارے خاندان کا سود، عباس ابن عبدالمطلب کا سود ہے۔ وہ سب کا سب باطل ہے۔ تم لوگ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو، تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے، اور ان کی شرم گاہوں کو اللہ کے کلمے سے حلال کیا ہے۔ اور ان کے اوپر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو، جس کا آنا تمہیں پسند نہیں، نہ آنے دیں۔
اگر وہ ایسا کرے تو تم ان کو ایسی مار مار سکتے ہو جو ظاہر نہ ہو۔ اور تمہارے اوپر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کو معروف طریقے پر کھانا اور کپڑا دو۔ اور میں تمہارے درمیان ایک چیز چھوڑ رہا ہوں، اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑو گے تو تم گمراہ نہ ہو گے۔ وہ چیز خدا کی کتاب ہے۔
اور تم سے میری بابت پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پہنچایا، پہنچا دیا، اور ادا کر دیا، اور خیر خواہی کی۔ آپ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی، اور پھر اس کو لوگوں کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ دوسرا خطبہ: اے لوگو!
کیا تم جانتے ہو کہ تم کس مہینے میں ہو، اور تم کس دن میں ہو، اور تم کس شہر میں ہو؟ لوگوں نے کہا کہ حرام دن، اور حرام شہر، اور حرام مہینے میں۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے خون، اور تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں تمہارے اوپر اسی طرح قیامت تک کے لیے حرام ہیں، جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ، اور تمہارا یہ شہر حرام ہے۔ پھر فرمایا: میری بات سنو، اور اس کے مطابق زندگی گزارو۔
خبردار! ظلم نہ کرنا، خبردار! ظلم نہ کرنا۔ بے شک کسی مسلمان آدمی کا مال لینا جائز نہیں، الا یہ کہ وہ راضی ہو۔
سنو! جاہلیت کا ہر خون، اور مال، اور شرف قیامت تک کے لیے میرے دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ اور پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے، وہ ربیعہ ابن حارث ابن عبدالمطلب کا خون ہے۔ اس نے بنو سعد سے دودھ پلانے والی طلب کیا تھا، پھر ہزیل نے اس کو قتل کر دیا۔
جاہلیت کے تمام سود باطل کیے گئے۔ اور اللہ تعالی نے یہ فیصلہ فرمایا کہ پہلا سود جو باطل کیا جائے، وہ عباس ابن عبدالمطلب کا سود ہے۔ تمہارے لیے تمہارا راس المال ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو، اور نہ تمہارے اوپر کوئی ظلم کیا جائے۔
سنو! زمانہ گھوم گیا، پس وہ آج اسی نقطے پر ہے جس دن کہ خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: خدا کے نزدیک مہینوں کی گنتی 12 مہینے ہیں۔ خدا کی کتاب میں جس دن کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔
یہی سیدھا دین ہے۔ پس تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ سنو! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
سنو! شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں۔ لیکن آپس میں تم کو برانگیخت، لیکن آپس میں تم کو برانگیختہ کر کے وہ اپنا مقصد حاصل کرے گا۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ وہ تمہاری دست نگر ہیں۔
وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں، اور تمہارے اوپر ان کا حق ہے، اور ان کے اوپر تمہارا حق ہے۔ یہ کہ تمہارے بستر پر وہ تمہارے سوا کسی اور کو نہ آنے دیں، اور نہ ایسے شخص کو تمہارے گھر میں آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ پھر اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ محسوس کرو تو ان کو نصیحت کرو، اور ان کو خواب گاہوں میں چھوڑ دو، اور ان کو ہلکی مار مارو۔ اور انہی معروف طریقے پر کھانے اور کپڑے کا حق ہے۔
تم نے ان کو خدا کی امانت کے طور پر لیا ہے، اور ان کی شرم گاہوں کو اللہ کے کلمے سے حلال کیا ہے۔ سنو! جس کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو صاحب امانت کو واپس کر دے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا؟
کیا میں نے پہنچا دیا؟ پھر آپ نے کہا: جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچا دے، کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہنچایا جائے، وہ سننے والوں سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں۔ مسند احمد تشریح: اس پورے خطبے کا خلاصہ اس کے اس لفظ میں ہے: ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا۔ یعنی خبردار!
ظلم نہ کرنا، خبردار! ظلم نہ کرنا۔ اس خطبے کا مقصد ظلم کے ہر دروازے کو بند کرنا ہے، خواہ وہ جھوٹے توہمات کی وجہ سے پیدا ہوا ہو، یا غلط قوانین کی وجہ سے، یا غرور اور سرکشی کی وجہ سے۔ اس مقصد کے لیے اعلان کر دیا گیا کہ اصولی طور پر ہر آدمی کا خون، اس کا مال، اور اس کی ابرو دوسرے کے لیے حرام ہے، الا یہ کہ اللہ کے واضح قانون کی بنا پر اس کا جواز ثابت ہوتا ہو۔
جاہلی روایات اور انتقامی جذبات کے تحت ایک دوسرے کے خلاف جو کارروائیاں کی جاتی ہیں، وہ مطلق طور پر ممنوع قرار دے دی گئیں۔ سودی لین دین کو بالکل حرام قرار دے دیا گیا، جو کہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان معاشی ظلم پیدا کرتا ہے۔ نیز دوسرے بالواسطہ طریقوں سے سماجی انصاف میں زبردست رکاوٹ ہے۔ عورتوں کے حقوق کو واضح طور پر متعین کر دیا گیا، اور مردوں کو اس سے روک دیا گیا کہ وہ عورت کو کمزور پا کر انہیں اپنی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔
انسانوں کے درمیان باہمی معاملات کے لیے خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کو آخری معیار قرار دے دیا گیا۔ لوگوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنا ہر جھگڑا قرآن و سنت کے احکام کے ماتحت طے کریں، خواہ قرآن و سنت کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق ہو یا ان کی مرضی کے خلاف۔ مسلمانوں کو ان کی گمراہی کے واحد سب سے بڑے سبب سے روکا گیا، اور وہ آپس کی نزاع ہے۔ خدا نے آخری دین کو اتنا محفوظ اور مستحکم کر دیا ہے کہ اب دین میں بگاڑ کے لیے شیطان کوئی راستہ نہیں پا سکتا۔
البتہ مختلف قسم کے جھوٹے نزاع کھڑے کر کے وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائے گا۔ مسلمان اگر اس فتنے سے بچ گئے تو پھر کوئی دوسری چیز انہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر امانت کی ادائیگی کا احساس پیدا ہو۔ خدا کے دین کو دوسروں تک پہنچانا بھی ادائیگی امانت ہے۔
لوگوں کے اموال کو انہیں لوٹانا بھی ادائیگی امانت ہے۔ اہل شخص کی اہلیت کا اعتراف کر کے اس کے لیے جگہ خالی کر دینا بھی ادائیگی امانت ہے۔ اور مسلمان کو پابند کیا گیا، اور مسلمان کو پابند کیا گیا ہے کہ امانت کی ادائیگی کے ہر معاملے میں وہ پوری طرح امین اور ذمہ دار ثابت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطبہ گویا ایک زندہ پکار ہے۔
وہی حاجی حقیقی معنوں میں حاجی ہے جو حج کے دوران اس پکار، اس پکار کو سنے، اور وہاں سے اس حال میں لوٹے کہ یہ خطبہ اس کی پوری زندگی کا لائحہ عمل بن گیا ہو۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 33۔