Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018

حقیقی اہمیت

Urdu · 3 min

پیغمبر اسلام کے طریقے کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ کی نظر ہمیشہ حقائق پر ہوتی تھی، نہ کہ ظواہر پر۔ ظواہر میں اگر بے خبری کی بنا پر کوئی فرق ہو جائے تو اس کو آپ ناقابلِ لحاظ سمجھتے تھے۔ البتہ حقیقی اہمیت والی باتوں کے بارے میں آپ کا رویہ ہمیشہ بہت سخت ہوتا تھا۔ پیغمبر اسلام کے آخری حج کا ایک واقعہ البخاری، مسلم، ابو داؤد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ آیا ہے۔

یہ آپ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ آپ حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد منیٰ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ آپ کے پاس آتے اور حج کے مسائل دریافت کرتے۔ کوئی کہتا کہ مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا، چنانچہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے بال منڈوا لیا۔

کوئی کہتا کہ میں نے رمی سے پہلے نحر، یعنی قربانی کر لی، وغیرہ۔ آپ ہر ایک سے کہتے کہ کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح بار بار لوگ آتے رہے اور تقدیم اور تاخیر کی بابت سوال کرتے رہے۔ آپ ہر ایک سے یہی کہتے کہ کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، لا حرج، لا حرج۔

مسند احمد، حدیث نمبر 1857۔ ابو داؤد کی روایت نمبر 2015 میں مزید ان الفاظ کا اضافہ ہے: "کر لو، کوئی حرج نہیں"۔ حرج تو اس شخص کے لیے ہے جو ایک مسلمان کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔

یہی وہ شخص ہے جس نے حرج کیا اور ہلاک ہوا۔ دین میں اصل اہمیت معنی کی ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ ایک شخص ظاہری چیزوں کا زبردست اہتمام کرے، مگر معنوی پہلو کے معاملے میں وہ غافل ہو، تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں بے قیمت ہو جائے گا۔ اللہ ہمیشہ آدمی کی نیت کو دیکھتا ہے۔

نیت اگر اچھی ہے تو ظاہری چیزوں میں کمی یا فرق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آدمی کی نیت اچھی نہ ہو تو اللہ کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہیں، خواہ اس نے ظواہر کے معاملے میں کتنا ہی زیادہ اہتمام کر رکھا ہو۔ ظاہری خوشنمائی سے انسان فریب میں آ سکتا ہے، مگر ظاہری خوشنمائی کی خدا کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.