ہے۔ ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُحُجُّ أَغْنِيَاءُ النَّاسِ لِلنَّزَاهَةِ، وَأَوْصَاتُهُمْ لِالتِجَارَةِ، وَقُرَّاءُهُمْ لِلرِّيَاءِ وَالصُّمَعِ، وَفُقَرَاءُهُمْ لِلْمَسْأَلَةِ». کنز العمال، حدیث نمبر 12363۔ یعنی لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جبکہ مالدار لوگ تفریح کے لیے حج کریں گے، اور ان کے درمیانی درجے کے لوگ تجارت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے علما دکھاوے اور شہرت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے حج کریں گے۔
یہ حدیث بہت ڈرا دینے والی ہے۔ اس کی روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو خاص طور پر اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ انہیں غور کرنا چاہیے کہ ان کا حج اس حدیث رسول کا مصداق تو نہیں بن گیا ہے؟ مالدار لوگ سوچیں کہ ان کے حج میں تقویٰ کی سپرٹ ہے یا سیر و تفریح یعنی آؤٹنگ کی سپرٹ؟
عام لوگ یہ سوچیں کہ وہ دینی فائدے کے لیے حج کرنے جاتے ہیں یا تجارتی فائدے کے لیے؟ علما غور کریں کہ وہ عبدیت کا سبق لینے کے لیے بیت اللہ جاتے ہیں یا اپنی پیشوائیانہ حیثیت کو بلند کرنے کے لیے؟ اسی طرح غریب لوگ سوچیں کہ حج کو انہوں نے خدا سے مانگنے کا ذریعہ بنایا ہے یا انسانوں سے مانگنے کا ذریعہ؟ اس حدیث رسول میں پیشن گوئی کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ امت پر جب زوال آئے گا تو اس وقت لوگوں کا حال کیا ہوگا؟
دور عروج میں امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ دین کا روحانی پہلو غالب رہتا ہے اور اس کا مادی پہلو دبا ہوا ہوتا ہے۔ دور زوال میں برعکس طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دین کا روحانی پہلو دب جاتا ہے اور اس کا مادی پہلو ہر طرف نمایاں ہو جاتا ہے۔ پہلے دور میں تقویٰ کی حیثیت اصل کی ہوتی ہے اور مادی چیزیں صرف ضرورت کے درجے میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس دور زوال میں مادی چیزیں اصل بن جاتی ہیں اور کچھ ظاہری اور نمائشی چیزوں کا نام تقویٰ بن جاتا ہے۔
یہی معاملہ حج اور عمرے کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور اسلام کی دوسری عبادات کے ساتھ بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.