← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
حج کی اسپرٹ
Urdu · 7 min
قرآن میں حج کے تعلق سے دو آیتیں آئیں، ان کا ترجمہ یہ ہے: "لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس آئیں گے، پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر، جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے، تاکہ وہ اپنے فائدے کی جگہوں پر پہنچیں، اور چند معلوم دنوں میں ان چوپائیوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ " سورہ نمبر 22، آیت 27 تا 28۔ یہاں "منافع" سے مراد ایمانی منافع ہیں؛ حج کے موقع پر ان ایمانی منافع کا ذریعہ وہ چیزیں ہیں جن کو قرآن میں دوسرے مقام پر شاعر اللہ البقرہ سورہ نمبر 2 آیت 158 کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی یادگاریں۔ اللہ کی یادگاروں سے مراد توحید کے مشن کی وہ تاریخی یادگاریں ہیں جو پیغمبروں کے ذریعے اس علاقے میں قائم ہوئیں۔
حج کے موقع پر جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں، وہ سب اسی پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔ احرام کا مطلب یہ ہے کہ مادی کلچر سے نکل کر آدمی ربانی کلچر میں داخل ہو گیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر کے حاجی اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ ام اسماعیل کی طرح اپنے آپ کو دینِ توحید کے لیے وقف کرے گا۔ جمرات پر کنکریاں مار کر وہ علامتی زبان میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں اسی طرح شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگاؤں گا جس طرح پیغمبر ابراہیم نے شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگایا۔
قربانی کر کے حاجی یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مادہ پرستی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرے گا۔ عرفات کے میدان میں اکٹھا ہو کر تمام حاجی اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب میدانِ محشر میں اپنا حساب دینے کے لیے حاضر کیے جائیں گے۔ آخر میں حاجی پیغمبر اسلام کی اس پکار کو لے کر واپس ہوتا ہے جو پیغمبر اسلام نے 1400 سال پہلے کہا تھا: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً فَأَدُّوا عَنِّي المعجم الکبیر للطبرانی جلد 8 صفحہ 20۔ یعنی اللہ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، اس لیے تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام پہنچا دو۔
اس میں سبق کا پہلو یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم لوگ خدا کے دین کی عالمی پیغام رسانی میں سرگرم ہو جاؤ۔ تمہاری دوڑ دھوپ، تمہارا ٹھہرنا اور چلنا، تمہارا چپ ہونا اور بولنا، سب کچھ اسی مشن کے لیے وقف ہو جائے۔ حج کو افضل عبادت کہا گیا ہے، یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے۔
حج کی سالانہ عبادت کے دوران جو عمل کیے جاتے ہیں، ان پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حج اپنے کثیر فوائد کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو افضل عبادت کہا جائے۔ حج میں ساری دنیا کے مسلمان مختلف علاقوں سے چل کر کعبے کی سرزمین میں پہنچتے ہیں۔ یہ سفر پتھروں کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ زندہ انسانوں کا سفر ہوتا ہے۔ ایسے انسان جو دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس طرح جب یہ لوگ حج کے موسم میں دنیا کے مختلف علاقوں سے نکل کر حجاز کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عالمی ہلچل وجود میں آ جاتی ہے۔ اس اعتبار سے حج کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر انسانوں کا ایک عبادتی موبیلائزیشن ہے۔ تقریباً نصف کروڑ کی تعداد میں جب اہل ایمان اپنے گھروں سے نکل کر حج کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو اس دوران بار بار ان کا انٹریکشن دوسروں سے ہوتا ہے۔ اس انٹریکشن کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان اسلام کے تعارف کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
حاجی کو اس سفر کے دوران نئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس سے اس کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران اس کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اس طرح حج کا سفر اس کے لیے دینی سیاحت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
اس سفر کے دوران بار بار دوسرے حاجیوں سے اس کے اختلافات ہوتے ہیں، مگر قرآن کی آیت سورہ نمبر 2 آیت 197: وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ یعنی "حج میں لڑائی جھگڑا نہیں ہے" کے تحت وہ ان اختلافات پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس طرح حج اس کے لیے اختلاف کے باوجود اتحاد کی تربیت بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج ایک جامع عبادت ہے۔ حج کا عمل ایک ایسی تربیت ہے جس میں وہ تمام پہلو شامل ہو جاتے ہیں جو اسلام میں ہر فرد سے مطلوب ہیں۔
تاہم حج کے فائدے صرف اس انسان کو ملتے ہیں جو زندہ شعور کے ساتھ حج کرے۔