Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018

انا کی قربانی

Urdu · 4 min

قرآن کی سورہ الزخرف میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا سورہ نمبر 43، آیت 32۔ یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے۔ قرآن کی اس آیت میں سادہ طور پر طبقاتی تفاوت یا طبقاتی امتیاز کی بات نہیں کہی گئی ہے، بلکہ اس آیت میں طبقاتی حکمت کی بات کہی گئی ہے: اس دنیا میں کوئی بڑا کام صرف اجتماعی کوشش سے ہو سکتا ہے، اور اجتماعی کوشش مفید طور پر صرف اس وقت وجود میں آتی ہے جبکہ افرادِ اجتماع کسی ایک شخص کو اپنا لیڈر بنانے پر پوری طرح راضی ہو جائیں۔

اجتماعی کوشش نام ہے لیڈر کا ماتحت بن کر کوشش کرنے کا۔ جو لوگ اس اصول پر راضی نہ ہوں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ قرآن کی اس آیت سے سیکنڈری رول کی اہمیت معلوم ہوتی ہے: اگر 100 آدمیوں کا اجتماع ہے تو اس میں 99 لوگوں کو سیکنڈری رول پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص لیڈر بن کر اپنا قائدانہ رول ادا کر سکے۔

اس اصول کا مظاہرہ روزانہ نماز باجماعت کی شکل میں کیا جاتا ہے۔ نماز باجماعت یہ پیغام دیتی ہے کہ اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کھڑا کر کے سب کے سب بیک سیٹ پر چلے جاؤ۔ ایک شخص کو امام بنا کر سب کے سب اس کے مقتدی بننے پر راضی ہو جاؤ۔ سیکنڈری رول کا معاملہ صرف ایک عملی بندوبست کا معاملہ ہے۔

جہاں تک اہمیت کی بات ہے، سیکنڈری رول کی اہمیت قائدانہ رول سے بھی زیادہ ہے۔ قائدانہ رول ادا کرنے والے کو اگر ایک کریڈٹ ملے گا تو سیکنڈری رول ادا کرنے والے کو ڈبل کریڈٹ دیا جائے گا، کیونکہ سیکنڈری رول ادا کرنے والا شخص اپنا رول ادا کرنے کے ساتھ مزید یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی انا کو قربان کر دیتا ہے۔ انا کی قربانی کے بغیر سیکنڈری رول کی ادائیگی ممکن نہیں، اور انا کی قربانی بلاشبہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.