Maulana Wahiduddin Khan
23 min left
0:00

← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018

اصحابِ رسول

Urdu · 23 min

4000 سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ وہاں انہوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہو چکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔

اس منصوبے کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے، اور وہاں انہیں اس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔ اس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔

اصحابِ رسول دراصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان تھے۔ اصحابِ رسول کو قرآن میں "خیرِ امت" سورہ آل عمران، سورہ نمبر 3، آیت 110 کہا گیا ہے۔ اصحابِ رسول امتیازی اوصاف کے حامل تھے۔ ان کی صفتیں قرآن میں مختلف مقامات پر آئی ہیں۔

اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہاں نقل کی جاتی ہے: "مُحَمَّدُ الرَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَذَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الظُّرَّىٰ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارِ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا سورہ نمبر 48، آیت 29۔ یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں۔ جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدے میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔

ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدے کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تورات میں ہے، اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی: اس نے اپنا اکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹا ہوا، اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے تاکہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے ان کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔

قرآن کی اس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تورات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر ان الفاظ میں آیا ہے کہ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا۔ He came with ten thousand saints.

ڈیوٹرانومی چیپٹر نمبر 33، ورس نمبر 2۔ بائبل کے اس حوالے کے مطابق اصحابِ رسول قدسی کردار، یعنی سینٹلی کریکٹر، کے حامل تھے۔ اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق حسبِ ذیل ہیں: وَالَّذِينَ مَعَهُ ان صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف "معَہُ" کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے۔

یہ ساتھ انہوں نے کب دیا تھا؟ انہوں نے پیغمبر اسلام کا یہ ساتھ اس وقت دیا تھا جبکہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی تاریخی عظمت جمع نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے پیغمبر اسلام کو خالص جوہر، یعنی میرٹ کی بنیاد پر پہچانا۔ انہوں نے بظاہر ایک معمولی شخصیت کو غیر معمولی شخصیت کے روپ میں دریافت کیا۔

انہوں نے تاریخی اعتراف، یعنی ہسٹوریکل ریکگنیشن، کے درجے تک پہنچنے سے پہلے آپ کی حیثیت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے دورِ عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس وقت پہچانا جبکہ اس کی ذات ہر قسم کی ظاہری عظمت سے پوری طرح خالی تھی۔ انہوں نے محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب کو خدا کے نمائندے کی حیثیت سے دریافت کر کے اس کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرنڈر کر دیا۔ اصحابِ رسول نے ساعتِ عصرت سورہ توبہ، سورہ نمبر 9، آیت 117 میں پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا۔

یہ ساتھ دینا اسی وقت ممکن تھا جبکہ اصحابِ رسول مذکورہ امتیازی صفت کے حامل ہوں۔ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ اصحابِ رسول کی دوسری صفت کو قرآن میں "أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ" کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اہلِ کفر پر شدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل کے مقابلے میں غیر اثر پذیر، یعنی انیلڈنگ کردار کے حامل تھے۔ مروجہ افکار ان کو متزلزل نہیں کر سکتے تھے۔

وقت کی غالب تہذیب ان کو مرعوب کرنے والی نہ تھی۔ مفادات کا نظام ان کو اپنی راہ سے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت اتنی زیادہ گہری تھی کہ وہ ان کی پوری شخصیت کا واحد غالب عنصر بن گئی۔ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ اصحابِ رسول کی تیسری صفت کو قرآن میں "رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

یعنی آپس میں ایک دوسرے کے لیے آخری حد تک ہمدرد اور خیر خواہ ہونا۔ اس صفت کی غیر معمولی اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جبکہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اصحابِ رسول کے درمیان وہ تمام اختلافات، یعنی ڈفرنسز، موجود تھے جو ہر انسانی گروہ کے درمیان فطری طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ بنیانِ مرصوص سورہ الصف، سورہ نمبر 61، آیت 4 کی طرح باہم متحد رہے۔ انہوں نے اس صلاحیت کا ثبوت دیا کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں متحد ہو سکتے ہیں۔

وہ شکایتوں کے باوجود ایک دوسرے کے خیر خواہ بن سکتے ہیں۔ وہ منفی اسباب کے باوجود اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اصحابِ رسول کی یہی صفت تھی جس کی بنا پر وہ توحید پر مبنی وہ انقلاب لا سکے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا اصحابِ رسول کی چوتھی صفت کو "تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول کامل طور پر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے۔ ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہو گیا تھا۔ اللہ کی کبریائی کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی جبکہ انسان شعوری طور پر اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ادراک کر لیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجزِ مطلق ہونے کا شعور اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی۔

اس کا واحد کنسن، یعنی سول کنسن، "اللہ وحدہ لا شریک" بن جاتا ہے۔ یہی توحیدِ کامل ہے۔ اور اصحابِ رسول اس توحیدِ کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا اصحابِ رسول کی پانچویں صفت وہ ہے جس کو قرآن میں "يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی معرفت نے ان کے اندر اللہ کی ذات پر کامل یقین پیدا کر دیا تھا۔ وہ اللہ پر کامل اعتماد، یعنی کانفیڈنس والے بن گئے تھے۔ وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ دینے والا بھی اللہ ہے اور چھیننے والا بھی اللہ۔ کامیابی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ناکامی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں۔

وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے بن گئے تھے۔ ان کی امیدیں اور آرزوئیں تمام تر اللہ پر منحصر ہو گئی تھیں۔ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ اصحابِ رسول کی چھٹی صفت کو قرآن میں "سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت نے ان کے اندر آخری حد تک وہ صفات پیدا کر دی تھیں جن کو سنجیدگی، یعنی سنسیرٹی، اور تقویٰ اور تواضع کہا جاتا ہے۔

یہی کمالِ انسانیت کی پہچان ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان، یعنی مین، کو اعلیٰ انسان، یعنی سپر مین، بناتی ہیں۔ ان صفات کے حامل شخصیت کو ربانی شخصیت، یعنی ڈیوائن پرسنیلٹی، کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول بلاشبہ ان صفات میں کمال درجے پر تھے۔

اس کے بعد اصحابِ رسول کی اس خصوصیت کو بیان کیا گیا ہے جس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے ان الفاظ میں آیا ہے کہ اس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جس کو کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر وہ جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اس کی ڈالیوں پر بسیرہ کرتے ہیں۔ Another parable he put forth to them, saying, "The kingdom of heaven is like a mustard seed, which a man took and sowed in his field, which indeed is the least of all the seeds, but when it is grown, it is greater than the herbs and becomes a tree, so that the birds of the air come and nest in its branches. " Matthew 13:31-32 اصحابِ رسول کی جو صفت تورات میں مختصراً اور قرآن میں تفصیلاً بیان کی گئی ہے، اس کا تعلق اصحابِ رسول کی انفرادی خصوصیات سے ہے۔

یہ اعلیٰ خصوصیتیں ہر صحابی کے اندر کامل درجے میں پائی جاتی تھیں۔ ان خصوصیات نے ہر صحابی کو، ایک مستشرق کے الفاظ میں، ہیرو بنا دیا تھا۔ اصحابِ رسول کی دوسری صفت، جو انجیل اور قرآن دونوں میں آئی ہے، وہ تمثیل کی صورت میں اس اجتماعی انقلاب کو بتاتی ہے جو اصحابِ رسول کے ذریعے برپا ہوا تھا۔ یہ تمثیل ایک درخت کی صورت میں ہے۔

اس درخت کا بیج پیغمبر اسلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے صحرائے عرب میں لگایا گیا تھا۔ اس کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی قربانیوں کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ پودا نسل در نسل بڑھتا رہا۔ اصحابِ رسول اسی تاریخی نسل کا اگلا حصہ تھے۔

اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانی کے ذریعے یہ کیا کہ انہوں نے توحید کے نظریے کو فکری انقلاب کے دور تک پہنچا دیا۔ اس فکری انقلاب کے بعد تاریخِ بشری میں ایک نیا پراسیس جاری ہوا۔ بعد کی عالمی تبدیلیاں اسی انقلابی عمل کا نتیجہ تھیں۔ فرانسیسی مورخ ہنری پرین، وفات 1935، نے اس انقلابی واقعے کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے: "اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔

تاریخ کے روایتی دور کا کامل خاتمہ ہو گیا۔ " Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. يُعْجِبُ الظُّرَّاعُ یعجب الظراع کے لفظ میں ایک تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ ہے۔

رسول اور اصحابِ رسول کے پہلے کی جو دعوتی تاریخ ہے، اس میں بار بار ایسا ہوا کہ خدا کے داعیوں نے دعوت کا بیج ڈالا، لیکن وہ بڑھ کر ایک شاداب درخت نہ بن سکا۔ یہ واقعہ پہلی بار اصحابِ رسول کے ذریعے پیش آیا۔ دعوت کے عمل میں یہ ارتقاء سارے زمین و آسمان کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھا۔ جو دعوتِ توحید کو ایک شاداب باغ کی صورت میں دیکھنے کے لیے ہزاروں سال سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔

لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارُ لیغیض بہم الکفار کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل جو حق کا فروغ دیکھنا نہیں چاہتے تھے، ان کے لیے حق کے فروغ کا یہ عظیم واقعہ بے پناہ مایوسی کا سبب بن گیا۔ ان کی ہزاروں سال کی خوشیاں خاک میں مل کر رہ گئیں۔ ان کا یہ حوصلہ آخری طور پر ختم ہو گیا کہ وہ حق کو ہمیشہ مغلوب رکھیں گے اور اس کو کبھی ابھرنے کا موقع نہ دیں گے۔ اس مایوسی میں دونوں گروہ یکساں طور پر شریک تھے۔

باطل پرست انسان بھی اور ابلیس کا دشمنِ حق قافلہ بھی۔ حق کی یہ کامیابی دونوں ہی کے لیے ان کے منصوبوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گئی۔ ایمان اور عمل صالح مذکورہ آیت میں آخری بات یہ کہی گئی ہے کہ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بشارت براہ راست طور پر اصحابِ رسول کے لیے ہے اور بالواسطہ طور پر قیامت تک کے ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو اصحابِ رسول کے رول کو دریافت کریں اور بعد کے زمانوں میں اس کا تسلسل جاری رکھیں۔

تسلسل کو جاری رکھنے کا یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ اس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جن کے اندر تخلیقی فکر ہو اور جن کے اندر مجددانہ صلاحیت ہو۔ بعد کی نسلوں میں جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں گے، وہ سب مذکورہ قرآنی بشارت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ اس ابراہیمی منصوبے پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم کی قربانی قربانی برائے دعوت تھی۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ عراق کے تجربے کی روشنی میں عرب میں ایک نیا دعوتی منصوبہ بنایا جائے جو نتیجے کے اعتبار سے زیادہ مؤثر ثابت ہو۔ جانور کے ذبیحے کی صورت میں اس منصوبے میں شامل افراد کو پیشگی یہ بتایا گیا کہ تم کو اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے ایک ایسے پرمشقت کورس سے گزرنا ہوگا جو گویا ذبیحہ یعنی سلاٹر جیسے تجربے کے برابر ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان دوبارہ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ کو دہرائیں۔ موجودہ زمانے میں وہ دوبارہ یہ کریں کہ شکایت کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔

وہ رد عمل کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر اپنے کو بچائیں۔ وہ تشدد کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر پرامن دعوت کا منصوبہ بنائیں۔ وہ دوبارہ جذبات کی قربانی کا ثبوت دیں۔ موجودہ زمانے میں بھی بظاہر تمثیلی قربانی کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن سپرٹ کے اعتبار سے ان کو اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔

ابراہیم اور اسماعیل کے زمانے میں اگر ڈیزرٹ تھیراپی کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا تو اب مسلمانوں کو صبر تھیراپی کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.