Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018

قربانی کی حقیقت

Urdu · 5 min

حج یا عید اضحی کے موقع پر جانور کی قربانی دی جاتی ہے۔ اس قربانی کے دو پہلو ہیں: ایک اس کی سپرٹ، اور دوسرے اس کی ظاہری صورت۔ سپرٹ کے اعتبار سے قربانی ایک قسم کا عہد، یعنی پلج ہے۔ قربانی کی صورت میں عہد کا مطلب ہے عملی عہد، یعنی پلج ان ایکشن۔

عہد کے اس طریقے کی اہمیت کو عمومی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، اس میں کسی کو بھی کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں اس نوعیت کی ایک مثال دی جاتی ہے جس سے اندازہ ہوگا کہ قربانی کا مطلب کیا ہے۔ نومبر 1962 کا واقعہ ہے: ہندوستان کی مشرقی سرحد پر ایک پڑوسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبردست خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔

اس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے، اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے 25,000 نوجوانوں نے مشترکہ طور پر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لیے لڑیں گے اور ملک کے خلاف باہر کے حملے کا مقابلہ کریں گے، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا، اور اس طرح 25,000 پیسے جمع ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ 25,000 پیسے ہم 25,000 نوجوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے کا نشان ہیں۔

To give ourselves to you. مذکورہ نوجوانوں نے اپنی قربانی کا علامتی اظہار 25,000 پیسوں کی شکل میں کیا۔ 25,000 پیسے خود اصل قربانی نہیں تھے، وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت، یعنی ٹوکن تھے۔ یہی معاملہ جانور کی قربانی کا ہے۔

قربانی کے عمل میں جانور کی حیثیت صرف علامتی ہے۔ جانور کی قربانی کے ذریعے ایک مومن علامتی طور پر اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اسی طرح اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں پوری طرح لگا دے گا۔ اسی لیے قربانی کے وقت یہ کہا جاتا ہے: اللهم منك ولك. سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2795۔

یعنی: اے خدا، یہ تو نے ہی دیا تھا، اب میں اس کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ حج کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ حاجی کا ذہن خدا رخی ذہن ہو جائے، اس کو خدا کی یاد آنے لگے، اس کا دماغ خدا کی باتوں سے بھر جائے۔ اب تک اس کی سوچ اگر اپنی ذات کی طرف چل رہی تھی تو اب اس کی سوچ خدا کی طرف چل پڑے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.