Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018

علامتی ذبیحہ

Urdu · 6 min

ہاجرہ اور اسماعیل کو صحرا میں اس طرح آباد کرنے کا مقصد کیا تھا؟ اس کا مقصد تھا ایک نئی نسل بنانا۔ اس زمانے کی شہری آبادیوں میں مشرکانہ کلچر مکمل طور پر چھا چکا تھا۔

اس ماحول میں جو بھی پیدا ہوتا، وہ مشرکانہ کنڈیشننگ کا شکار ہو جاتا۔ اس بنا پر اس کے لیے توحید کے پیغام کو سمجھنا ناممکن نہ رہتا۔ متمدن شہروں سے دور صحرا میں ہاجرہ اور اسماعیل کو اس لیے بسایا گیا تاکہ یہاں فطرت کے ماحول میں ان کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ ایک ایسی نسل جو مشرکانہ کنڈیشننگ سے پوری طرح پاک ہو۔

توالد و تناسل کے ذریعے یہ کام جاری رہا، یہاں تک کہ بنو اسماعیل کی قوم وجود میں آئی۔ اسی قوم کے اندر 570 عیسوی میں پیغمبر اسلام محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو 610 عیسوی میں اللہ تعالی نے نبی مقرر کیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید کے مشن کا آغاز کیا۔

بنو اسماعیل کے اندر سے آپ کو وہ قیمتی افراد ملے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو ساتھ لے کر آپ نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر انقلاب کے مرحلے تک پہنچایا۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے جو عظیم دعوتی منصوبہ زیر عمل آیا، حج کی عبادت گویا اسی کا ایک ریہرسل ہے۔ ذوالحجہ کے مہینے کی مخصوص تاریخوں میں ساری دنیا کے مسلمان اکٹھا ہو کر ریہرسل کے روپ میں اس تاریخ کو دہراتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کے ساتھ پیش آئی۔

اس طرح تمام دنیا کے مسلمان ہر سال اپنے اندر یہ عزم تازہ کرتے ہیں کہ وہ پیغمبر کے اس نمونے کو اپنے حالات کے مطابق مسلسل دہراتے رہیں گے۔ ہر زمانے میں وہ دعوت الی اللہ کے اس عمل کو مسلسل زندہ رکھیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ اس ابراہیمی عمل میں قربانی کو مرکزی درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک عظیم عمل ہے جس کی کامیاب ادائیگی کے لیے قربانی کی سپرٹ ناگزیر طور پر ضروری ہے۔

اس قربانی کی سپرٹ کو مسلسل طور پر زندہ رکھنے کے لیے حج کے زمانے میں منی میں اور عید اضحی کی صورت میں تمام دنیا کے مسلمان اپنے اپنے مقام پر جانور کی قربانی کرتے ہیں اور خدا کو گواہ بنا کر اس سپرٹ کو زندہ رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ حج اور عید اضحی کے موقع پر جانور کی جو قربانی کی جاتی ہے، وہ دراصل جسمانی قربانی کی صورت میں بامقصد قربانی کے عزم کے ہم معنی ہے۔ یہ دراصل داخلی سپرٹ کا خارجی مظاہرہ ہے۔ It is an external manifestation of an internal spirit.

آدمی کے اندر پانچ قسم کے حواس یعنی سینسز پائے جاتے ہیں۔ نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس میں انسان کے تمام حواس شامل ہوں تو وہ بات انسان کے دماغ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے۔ قربانی کی سپرٹ کو اگر آدمی صرف مجرد شکل میں سوچے تو وہ آدمی کے دماغ میں بہت زیادہ ذہن نشین نہیں ہوگی۔ قربانی اسی کمی کی تلافی ہے۔

جب آدمی اپنے آپ کو وقف کرنے کے تحت جانور کی قربانی کرتا ہے تو اس میں عملاً اس کے تمام حواس شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ دماغ سے سوچتا ہے، وہ آنکھ سے دیکھتا ہے، وہ کان سے سنتا ہے، وہ ہاتھ سے چھوتا ہے۔ وہ قربانی کے بعد اس کے ذائقے کا تجربہ بھی کرتا ہے۔ اس طرح اس معاملے میں اس کے تمام حواس شامل ہو جاتے ہیں۔

وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ قربانی کی سپرٹ کو محسوس کرتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ قربانی کی سپرٹ اس کے اندر بھرپور طور پر داخل ہو جائے۔ وہ اس کے گوشت کا اور اس کے خون کا حصہ بن جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.