Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018

ذبحِ عظیم

Urdu · 4 min

اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کے مطابق حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے، لیکن یہ ایک تمثیلی خواب تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اب خدائی منصوبے کے مطابق اپنے بیٹے کو توحید کے مشن کے لیے وقف، یعنی ڈیڈیکیٹ کر دو۔ ایک ایسا مشن جو عرب کے بے آب و گیاہ صحرا میں شروع ہونے والا تھا۔

قرآن کی سورہ نمبر 37 میں حضرت ابراہیم کے واقعے کا ذکر ہے: آپ نے اپنے ایک خواب کے مطابق اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے نے بتایا کہ تمہاری قربانی قبول ہو گئی، اب تم بیٹے کے بدلے ایک دنبہ ذبح کر دو۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ اس موقع پر قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ سورہ نمبر 37، آیت 107۔

یعنی: ہم نے اسماعیل کو ایک عظیم قربانی کے ذریعے بچا لیا۔ اس آیت میں ذبحِ عظیم، یعنی عظیم قربانی کا لفظ، اسماعیل کے لیے آیا ہے، نہ کہ دنبے کے لیے۔ دنبے کو حضرت ابراہیم نے بطور فدیہ ذبح کیا، اور اسماعیل کو ایک عظیم تر قربانی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ یہ عظیم تر قربانی کیا تھی؟

وہ یہ تھی کہ اس کے بعد اسماعیل کو اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ مکے کے صحرا میں آباد کر دیا گیا، تاکہ ان کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ اس وقت یہ علاقہ صرف صحرا کی حیثیت رکھتا تھا، وہاں اسبابِ حیات میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی، اس لیے اس کو قرآن میں ذبحِ عظیم کا درجہ دیا گیا۔ یہ عظیم قربانی اللہ تعالیٰ کا ایک منصوبہ تھا، جس کو فرزندِ ابراہیم یعنی اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں عمل میں لایا گیا۔ قرآن سورہ ابراہیم، سورہ نمبر 14، آیت 37 میں اس واقعے کا ذکر مختصر اشارے کے طور پر آیا ہے، اور حدیث میں اس کا ذکر تفصیل کے ساتھ ملتا ہے۔

قرآن میں حضرت ابراہیم کے اس خواب کا ذکر سورہ نمبر 37 میں آیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے خواب کے بعد جب اپنے بیٹے کو قربان کرنا چاہا تو اس وقت خدا کے فرشتے نے آپ کو بتایا کہ آپ بیٹے کے فدیہ کے طور پر ایک دنبہ ذبح کر دیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا۔ الصافات، سورہ نمبر 37، آیت 107۔

اور جیسا کہ صحیح البخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے ایک صحرائی مقام میں آباد کر دیا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اسی مقام پر بعد کو حضرت ابراہیم اور آپ کے بیٹے اسماعیل نے کعبے کی تعمیر کی اور حج کا نظام قائم فرمایا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.