روزہ اسلام کے ارکان میں سے تیسرا رکن روزہ یعنی صوم ہے۔ روزے کا فارم یہ ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا اور پینا چھوڑ دے، وہ اپنے دن کو بھوک اور پیاس کی حالت میں گزارے۔ روزے کی سپرٹ صبر یعنی patience ہے۔ حدیث میں آیا ہے: «هُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ» صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 1887۔
یعنی رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ صبر کیا ہے؟ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں self-discipline کی زندگی گزارنے لگے، وہ اپنی خواہشوں پر روک لگائے، وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو، وہ اپنی انا کو گھمنڈ نہ بننے دے، وہ لوگوں کے درمیان no problem انسان بن کر رہے۔ سماجی زندگی میں جب اس کو کوئی شوق لگے تو وہ اس شوق کو اپنے اوپر سہے، وہ اس کو دوسروں تک پہنچنے نہ دے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.