اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ دوسرے ارکان کی طرح نماز کا بھی ایک فارم ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ فارم قیام اور رکوع اور سجود پر مبنی ہے۔
اسی کے ساتھ نماز کی ایک سپرٹ ہے۔ وہ سپرٹ سرنڈر ہے، یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کر دینا۔ خدا کو کامل معنوں میں اپنا مرکز توجہ بنا لینا۔ پورے معنوں میں خدا رخی زندگی، یعنی گاڈ اورینٹڈ لائف، اختیار کر لینا۔
اسی سپرٹ کا دوسرا نام قرآن میں ذکر کثیر الاحزاب سورہ نمبر 33 آیت 41 ہے۔ یعنی خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ نماز کا مقصد بھی قرآن میں ذکر بتایا گیا ہے: طہ سورہ نمبر 20 آیت 14۔ ذکر کا مطلب رسمی طور پر صرف کسی قسم کی تسبیح خوانی نہیں، بلکہ ہر موقع پر سچے احساس کے ساتھ خدا کو یاد کرتے رہنا ہے۔
آدمی جب دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر وہ چیز پیدا ہونا چاہیے جس کو قرآن میں توسم الحجر سورہ نمبر 15 آیت 75 کہا گیا ہے۔ یعنی ہر دنیاوی تجربے کو خدائی تجربے میں کنورٹ کرتے رہنا۔ ہر چیز سے ربانی غذا حاصل کرتے رہنا۔
حقیقی نماز وہی ہے جو آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کر دے کہ وہ ہر چیز سے اپنے لیے توسم کی غذا حاصل کرتا رہے۔ نماز کے فارم کے ساتھ جب یہ سپرٹ شامل ہو جائے، تب کسی آدمی کی نماز حقیقی نماز بنے گی۔ ورنہ حدیث رسول کی زبان میں اس سے کہہ دیا جائے گا: "ارجع فصلی فإنك لم تصلي" ۔ صحیح البخاری حدیث نمبر 757۔
یعنی جاؤ، پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.