ان ارکان میں سے پہلا رکن کلمۂ توحید ہے۔ اس کلمے کا ایک فارم ہے، اور اسی کے ساتھ اس کی ایک اسپرٹ ہے۔ اس کا فارم یہ ہے کہ آپ عربی کے مذکورہ الفاظ، یعنی کلمۂ شہادت، کو اپنی زبان سے ادا کریں۔ کلمے کی اسپرٹ معرفت ہے، یعنی خدا کو دریافت کے درجے میں پا لینا۔
کلمۂ توحید کی وہی ادائیگی معتبر ہے جو معرفت کی بنیاد پر ہو۔ معرفت کے بغیر کلمہ پڑھنا صرف کچھ عربی الفاظ کا تلفظ ہے، وہ حقیقی معنی میں کلمۂ توحید نہیں۔ یونان کے قدیم فلسفی، آرکامیڈیز، کو یہ جستجو تھی کہ کشتی پانی کے اوپر کیسے تیرتی ہے؛ وہ اس کی تلاش میں تھا۔ ایک دن وہ پانی کے حوض میں لیٹا ہوا نہا رہا تھا۔
اچانک اس کو فطرت کے اس قانون کی دریافت ہوئی جس کو بائنسی، یعنی Law of Biancy، کہا جاتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر احتزاز، یعنی thrill، کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ اچانک حوض سے نکلا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ "میں نے پا لیا، میں نے پا لیا! " یوریکا، یوریکا۔
اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کلمے کی ادائیگی کیا ہے۔ کلمۂ توحید کی ادائیگی دراصل داخلی معرفت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ یہ حکم بلاشبہ اسلام کے ارکان میں اولین اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ اہمیت اس کی داخلی معرفت کی بنا پر ہے، نہ کہ صرف لسانی تلفظ کی بنا پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.