عبادت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ ان میں سے 5 چیزیں بنیادی عبادت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ 5 چیزیں کیا ہیں؟ ان کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَىٰ خَمْسٍ شَهَادَتِي أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ.
صحیح البخاری، حدیث نمبر 8۔ یعنی اسلام کی بنیاد 5 چیزوں پر قائم ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج پورا کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔
یہ گویا کہ پانچ ستون، یعنی پلرز، ہیں جن کے اوپر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ عمارت ایک دکھائی دینے والی چیز ہے۔ اس حدیث میں عمارتی ڈھانچے کو بطور تمثیل استعمال کرتے ہوئے اسلام کی حقیقت کو بتایا گیا ہے: جس طرح ستونوں کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی، اسی طرح ان پانچ ارکان کے بغیر اسلام کا قیام بھی نہیں ہوتا۔ اسلام کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ ستونوں کو زندگی میں قائم کیا جائے۔
اسلام کے ان پانچ ارکان کی ایک اسپرٹ ہے، اور ایک اس کا فارم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اصل اہمیت ہمیشہ اسپرٹ کی ہوتی ہے، لیکن فارم بھی یقینی طور پر ضروری ہے۔ جس طرح جسم کے بغیر روح نہیں، اسی طرح فارم کے بغیر اسلام بھی نہیں۔ اس معاملے میں بھی اسپرٹ کا اہتمام بہت ضروری ہے، لیکن یہ اہتمام فارم کے ساتھ ہو سکتا ہے، فارم کے بغیر نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.