حج اور عیدِ اضحی کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مخصوص دن میں خدا کے نام پر جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی عام زندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں؛ اس کا تعلق انسان کی تمام زندگی سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کی اسپرٹ کے ساتھ دنیا میں رہیں۔ قربانی کی اسپرٹ تمام اسلامی اعمال کا خلاصہ ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ سورہ نمبر 51، آیت 56۔ یعنی: "اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ " عبادت کی حقیقت کیا ہے؟ اس کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرٰيهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرٰيهُ فَإِنَّهُ يَرٰيكَ صحیح البخاری، حدیث نمبر 50۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 8۔ یعنی: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو وہ تم کو دیکھتا ہے۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے تصورِ عبادت کے مطابق انسان کے لیے زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی کو اس طرح دریافت کرے کہ اس کو ہر لمحہ خدا کی موجودگی، یعنی پریزنس، کا احساس ہونے لگے۔
اس کا شعور اس معاملے میں اتنا بیدار ہو جائے کہ اس کو ایسا محسوس ہونے لگے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو خدائی رنگ میں رنگ دے۔ اس کے ہر قول اور ہر عمل سے ایسا محسوس ہونے لگے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے، جیسے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے خدا کی براہِ راست نگرانی کے تحت کر رہا ہے۔ اسی زندہ شعور کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام عبادت ہے۔
یہ درجہ کسی آدمی کو صرف اس وقت ملتا ہے جبکہ اس نے خدا کو اپنا واحد کنسن، یعنی سول کنسن، بنا لیا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.