Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018

حج کی تاریخ

Urdu · 12 min

حج ایک عالمی اجتماعی عبادت ہے، اس کی تاریخیں قمری مہینے کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر 5 دنوں کے اندر، 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک، ادا کیے جاتے ہیں۔ حج کی تاریخ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔ اللہ کا یہ منصوبہ تھا کہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے، مگر ان پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔

اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ سورہ نمبر 14، آیت 37۔ ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے، اور 175 سال کی عمر پا کر ان کی وفات ہوئی۔ انہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی، مگر شرک اور بت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا، مگر اس زمانے میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کر کے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہو چکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔

پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا، یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشن ہو جاتا تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدن شہروں سے باہر، غیر آباد صحرا میں، ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکے میں آباد کیا۔

اس صحرائی ماحول میں لمبی مدت تک توالد و تناسل کے ذریعے ایک جاندار قوم تیار ہوئی۔ اسی قوم کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ پھر اسی قوم کے اندر کام کر کے وہ ٹیم بنی جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت جو عظیم تاریخ بنی، وہ تمام تر منصوبہ الہی کے تحت بنی۔

پیغمبر اسلام سے پہلے ہزاروں سال کے درمیان خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے زمانے میں توحید کا اعلان تو ہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر کوئی اجتماعی انقلاب نہ آ سکا، جبکہ اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کر کے— آخر کار اللہ تعالیٰ کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے، اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عام منصوبے کے مطابق، اس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی۔

خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے۔ اللہ تعالیٰ کے اس خصوصی منصوبے کا آغاز 4000 سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم، اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا۔ اس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اس نسل کی اعلیٰ خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے ان کو ہیروں کی ایک قوم، یعنی "اے نیشن آف ہیروز" کا لقب دیا ہے۔

اسی خصوصی نسل میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب پیدا ہوئے۔ اس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے۔ یہ اپنے آغاز سے انجام تک ایک انتہائی اعلیٰ نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ دراصل اسی منصوبہ الہی کا نتیجہ تھی۔

قرآن میں اس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہ راست طور پر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمِّنُ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ سورہ نمبر 61، آیت 8 تا 9۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کر دے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکے میں داخل ہوئے تو احساس تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتیٰ کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھو رہی تھی۔ اس وقت کعبے کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جو خطبہ دیا، اس میں یہ الفاظ تھے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4547۔

یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اللہ نے اپنے بندے محمد کی نصرت کی، اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی۔ لبیک، یعنی حاضر ہوں کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں مکے میں رہنے کے لیے حاضر ہوں۔ یہ وطن چھوڑ کر آنے کا کلمہ نہیں، بلکہ روش چھوڑ کر آنے کا کلمہ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تیری فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں کہ تو جو حکم دے، اس پر میں دل و جان سے قائم ہو جاؤں۔ لبیک کا اقرار آدمی حج کے مقام پر کرتا ہے، مگر اس کی عملی تصدیق وہاں سے لوٹ کر اس کو اپنے وطن میں کرنی پڑتی ہے، جہاں اس کو روز و شب میں اپنی زندگی گزارنا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.