← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
عمومی انطباق
Urdu · 14 min
اوپر شریعت کا جو اصول(الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ) بیان کیا گیا، اس کا تعلق صرف یروشلم یا بیت المقدس سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام شرعی اصول ہے اور وہ زندگی کے ہر نزاعی مسئلہ پر چسپاں ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح اس شرعی اصول سے ناواقفیت کی بنا پر مسلمان مسلسل طور پر ایک عظیم نعمت(مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر وہاں نماز ادا کرنا) سے محروم ہو رہے ہیں۔ اسی طرح وسیع تر اجتماعی زندگی میں اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں زبردست نقصان سے دو چار ہو رہے ہیں۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لیے ہر جگہ دینی اور دعوتی سرگرمیوں کے مواقع کھول دیے ہیں۔ مگر مسلمان ان قیمتی مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ اس کا واحد سب سے بڑا سبب الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ کے شرعی اصول کو ملحوظ رکھنا ہے۔
اس اصول کا تقاضا تھا کہ مسلمان دینی پہلو اور سیاسی پہلو کو الگ الگ رکھتے۔ وہ سیاست کو اس کے مخصوص دائرہ میں رکھتے ہوئے دینی اور دعوتی امکانات کو بھرپور طور پر استعمال کرتے۔
مگر وہ ہر جگہ مکمل اسلامی انقلاب کے نام پر سیاسی حکمرانوں سے ٹکرا گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دور جدید کے بہترین امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے اور مسلمانوں کے حصہ میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ آیا۔
مسلمانوں کے ایک طبقہ میں آج کل ایک جملہ بہت دہرایا جا رہا ہے الْإِسْلَامُ دِیْنٌ و دَوْلَۃٌ (یعنی ،اسلام مذہب بھی ہے اور حکومت بھی)۔ اسی پس منظر میں ایک بیرونی سفر میں کچھ عرب نوجوانوں نے مجھ سے سوال کیا کہ مذہب اور حکومت کی علیحدگی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے(مَا رَأیُکَ عَنِ الْفَصْلِ بَیْنَ الدِّیْنِ وَالدَّوْلَۃِ )۔
میں نے کہا أَمَّا کَعَقِیْدَۃٍ فَلَا، وَأَمَّا کَضَرُوْرَۃٍ عَمَلِیَّۃٍ فَنَعَمْ ۔ یعنی، عقیدہ کے طور پر تو دونوں میں کوئی فصل نہیں، مگر عملی ضرورت کے طور پر یقینا دونوں میں فصل ہوتا ہے۔
عقیدہ یا نظریہ ہمیشہ آئیڈیلزم کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک عملی کورس کا تعلق ہے وہ ہمیشہ وقت کے حالات و ضروریات کے تابع ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے جو کسی استثنا کے بغیر زندگی کے تمام معاملات سے متعلق ہے۔ اور اسی طرح اس کا تعلق اسلام سے بھی ہے۔ اعتقادی طور پر بلاشبہ اسلام میں مذہب اور سیاست دونوں شامل ہیں۔ مگر جب عمل کا منصوبہ بنانا ہو تو وقت کے حقیقی حالات کو ملحوظ رکھنا لازمی طور پر ضروری ہوگا۔
عقیدہ اور عمل کے اسی فرق کی بنا پر اسلام میں کسی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیا گیا ہے، خواہ وہ حکومت بظاہر غیر اسلامی ہو، اور خواہ اس کے خلاف سیاسی اقدام کرنے والے بظاہر اسلام کے دعاوی کو لے کر اٹھے ہوں۔ کیوں کہ عملی نتیجہ کے اعتبار سے اس قسم کا اقدام فتنہ اور ظلم میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ وہ اس کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
یہ ناموافق عملی حالات مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ حکومت اتنی طاقت ور اور مستحکم ہو کہ دکھائی دیتا ہو کہ وہ اسلام کے علمبرداروں کو کچل ڈالے گی۔ حتیٰ کہ وہ ایسے انقلابیوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے مسجد، مدرسہ، صحافت، تعلیمی نظام اور دوسرے تمام اداروں پر اپنا سخت کنٹرول قائم کرکے ملے ہوئے مواقع کا بھی خاتمہ کر دے گی۔ اس کا جو ظلم پہلے مخصوص دائرہ تک محدود تھا، وہ عمومی طور پر پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اس نوعیت کے تباہ کن اقدامات کی مثالیں کشمیر، چیچنیا، بوسنیا، برما، فلپائن، مصر، الجزائر وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان علاقوں میں اسلام کے نام پر جو عملی اقدام کیا گیا وہ صرف تباہی میں اضافہ کا سبب بنا۔ وہ کسی بھی اسلامی نتیجہ تک پہنچانے والا ثابت نہیں ہوا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ معاشرہ میں قبولیت کا مادہ نہ پایا جاتا ہو۔ اس لیے بظاہر عملی کامیابی کے باوجود تمام قربانیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں۔ اس معاملہ کی مثالیں پاکستان اور افغانستان اور ایران میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان ملکوں میں ہنگامہ خیز اقدامات کے ذریعہ سیاسی تبدیلی لائی گئی۔ تاکہ مذہب اور حکومت کو ایک کیا جا سکے۔
مگر حقیقی نتیجہ کیا ہوا۔ جب سیاسی تبدیلی وقوع میں آ چکی تو معلوم ہوا کہ مذہب اور سیاست کی یکجائی والا مطلوب نظام بنانا ممکن ہی نہیں۔ کیوں کہ معاشرہ اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان اسی قسم کے نعرہ پر بنایا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو وہاں خود غرضی، مادہ پرستی اور باہمی جھگڑوں کا راج قائم ہوگیا نہ کہ اسلام کا راج۔ اسی طرح افغانستان میں بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ سیاسی حکمرانوں کو بدلا گیا۔ مگر جب سیاسی نشانہ حاصل ہو چکا تو اس کے بعد جو ہوا وہ یہ تھا کہ افغانستان کے مختلف قبائلی لیڈر آپس میں لڑ کر پورے ملک کو تباہ کرنے کا ذریعہ بن گئے۔ اسی طرح ایران میں عالمی شور وغل کے تحت سیاسی تبدیلی لائی گئی۔ اس تبدیلی کو ایک عرصہ تک پروپیگنڈے کے زور پر اسلامی ثابت کیا جاتا رہا۔ مگر جب پروپیگنڈے کا زور گھٹا تو معلوم ہوا کہ ایران میں چونکہ مطلوب انداز کا معاشرہ تیار نہ تھا اس لیے نام نہاد انقلاب نے ملک کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔
یہ مثالیں خلیفہ چہارم حضرت علی کے ایک قول کو یاد دلاتی ہے۔ ان کے زمانہ خلافت میں اسلامی دنیا میں زبردست خلفشار برپا ہوگیا۔ ان سے کسی نے کہا کہ ابو بکر و عمر کے زمانہ میں مسلم دنیا کے حالات درست تھے، آپ کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ حضرت علی نے جواب دیا أَنَّ أَبَابَکْرٍ وَ عُمَرَ کا نَاوَالِیَیْنَ عَلیٰ مِثْلی وَأَنَا وَالٍ عَلیٰ مِثْلِکُم (تاریخ ابن خلدون، جلد1، صفحہ 264)۔ یعنی، ابو بکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم تھے، میں تمہارے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ جیسے حکمراں ہوں تب بھی ضروری ہے کہ معاشرہ میں امثال علی بڑی تعداد میں موجود ہوں۔ اگر معاشرہ میں’’علی‘‘ جیسے افراد نہ ہوں تو صحابی کی حکومت کے باوجود حقیقی معنوں میں کوئی بہتر نظام قائم کرنا ممکن نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ دین اور حکومت دونوں اگرچہ اعتقادی طور پرایک ہیں مگر عملی تقاضے کے تحت دونوں کو الگ الگ دیکھنا ہوتا ہے۔ ایک حصہ دین کا وہ ہے جس کی تعمیل فرد کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ ایسے احکام ہر وقت ہر فرد پر فرض رہیں گے۔ افراد کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کریں۔
دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو عمل میں لانے کا انحصار اجتماعی حالات اور اجتماعی مرضی پر ہوتا ہے۔ احکام دین کے اس دوسرے حصہ میں پہلے اس کے موافق اجتماعی ارادہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
’’اسلام میں دین اور سیاست ایک ہیں‘‘ کا نعرہ لگا کر اگر کوئی شخص پہلے ہی مرحلہ میں اجتماعی قوانین کے نفاذ کی مہم چلائے۔ یا حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ وہ بااقتدار ہو کر اجتماعی قوانین کو نافذ کر سکے، تو ایسے اقدامات سراسر غیر اسلامی اور غیر مطلوب ہوں گے۔ ایسا ہر اقدام اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد پیدا کرنا ہے، نہ کہ احکام اسلامی کا نفاذ کرنا۔
عقیدہ اور عمل میں برائے ضرورت تفریق کا یہ معاملہ کسی نہ کسی اعتبار سے سارے اسلامی احکام میں پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ زکوٰۃ اور حج کو عقیدہ کے اعتبار سے فرض سمجھے۔ مگر ان کی عملی ادائیگی کی ذمہ داری صرف اس شخص کے اوپر ہے جو اس کی عملی شرطوں پر پورا اترتا ہو۔ اس لیے الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ کی حکمت سارے ہی دینی معاملات میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر جگہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں۔ وہ اس کی ذمہ داری دشمنان اسلام کے اوپر ڈال رہے ہیں جنھوں نے اپنی سازشوں کے ذریعہ انھیں اس حالت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ حتی کہ وہ خود اسلام کی تردید ہے۔ کیوں کہ قرآن و حدیث کے مطابق، خدا اہل ایمان کا مدد گار ہوتا ہے۔ پھر کیوں کر ایسا ممکن ہے کہ اہل کفر اہل اسلام کو اپنی سازشوں کا نشانہ بنائیں اور خدا اہل اسلام کی حمایت نہ کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان آج جن مشکل حالات میں گھر گئے ہیں وہ یقینی طور پر مصنوعی ہیں۔ یہ الفصل بین القضیتین کی سنت رسول کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے بطور خود یہ نظریہ بنایا کہ جب تک سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو اس وقت تک دین پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ اس غلط مفروضہ کی بنا پر ہر جگہ انھوں نے غیر ضروری طور پر سیاسی حکمرانوں سے لڑائی چھیڑ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہترین دینی امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ مسلمانوں کا ترقی کا سفر رک گیا ہے۔ مسلمان آج یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا راستہ ہر طرف سے بند ہے۔ مگر اس دنیا میں کبھی کسی گروہ کے لیے راستہ بند نہیں ہوتا۔ البتہ بعض اوقات وہ گروہ خود اپنی نادانی سے اپنا راستہ بند کر لیتا ہے۔
یہی آج مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ مسلمان مذکورہ سنت رسول پر عمل نہ کر سکے۔ انھوں نے دین کے معاملہ کو سیاسی اقتدار کے معاملہ سے الگ نہیں کیا۔ وہ ہر جگہ حکمراں طبقہ سے ٹکرا گئے۔ کیوں کہ انھوں نے غلط طور پر یہ سمجھ لیا کہ جب تک اقتدار پر قبضہ نہ ہو، دین کے اوپر مکمل طور پر عمل نہیں ہو سکتا۔
یہ بلاشبہ ایک وسوسہ ہے، نہ کہ کوئی دینی حقیقت۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی معاملہ کو سیاسی اقتدار کے سوال سے الگ کر دیں۔ اور اقتدار کی تبدیلی سے پہلے جو مواقع انھیں حاصل ہیں، ان کو بھرپور طور پر استعمال کریں۔ اس حکمت نبوی پر عمل کرتے ہی وہ دیکھیں گے کہ ان کے لیے تمام دروازے کھل گئے ہیں، زندگی کا کوئی بھی دروازہ ان کے اوپر بند نہیں۔