← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
عصر جدید کا مذہب
Urdu · 34 min
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں میں جو پیغمبر بھیجے وہ سب ان قوموں کی زبان میں کلام کرنے والے تھے جو کہ مخاطب کی زبان تھی تاکہ وہ ان سے اچھی طرح بیان کر دے وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ(14:4)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لسان کے لفظی معنی زبان کے ہیں۔ مگر یہ لفظ متعلقات زبان کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن میں حضرت ابراہیمؑ کی یہ دعا ہے کہ وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ (26:84)۔ یہاں’’لسان‘‘ سادہ طور پر زبان کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ذکر یا قول کے معنی میں ہے۔ یعنی میرا ذکر خیر اگلی نسلوں میں جاری رہے۔ بالفاظ دیگر، یہ اس کلمہ حق کے بقاء و استمرار کی دعا تھی جو اللہ کی توفیق سے آپ کے ذریعہ ظاہر ہوا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ آیت میں’’لسان‘‘ سے براہ راست طور پر زبان مراد ہے۔ مگر توسیعی مفہوم کے اعتبار سے اس میں اسلوب بھی شامل ہے۔ یعنی خدا کے پیغمبروں نے اپنی قوموں سے انھیں کی زبان میں اور انھیں کے مانوس اسلوب میں کلام کیا۔
مخاطب افراد تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ داعی اور مدعو کی زبان ایک ہو۔ دعوت کو موثر اور قابل فہم بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پیغام کو اس اسلوب میں ڈھال کر پیش کیا جائے جس سے مخاطب مانوس ہے۔ جس کو وہ اپنے نزدیک اہمیت دیتا ہے اور جس کو قابل لحاظ سمجھتا ہے۔
اسلام فطرت کے ماحول میں شروع ہوا۔ دور اول کے مخاطبین کے لیے فطری دلائل ہی اس کی صحت کے اعتراف کے لیے کافی تھے۔ لاکھوں لوگ صرف قرآن کو سن کر اسلام میں داخل ہوگئے۔
مگر عباسی خلافت تک پہنچنے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ اس زمانہ کی متمدن دنیا میں یونانی علوم کا رواج تھا۔ پھر یونانی فلسفہ اور یونانی منطق کی کتابیں ترجمہ ہو کر ہر طرف پھیل گئیں۔ اس کے بعد ایک نیا فکری چیلنج سامنے آیا۔ اب یہ کہا جانے لگا کہ فلسفہ اور منطق نے علمی غور و فکر کا جو معیار مقرر کیا ہے، اس پر اسلام کے عقائد پورے نہیں اترتے، اس وقت بڑے بڑے مسلم علما اٹھے۔ انھوں نے وقت کے علوم کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ الزام غلط ہے۔ انھوں نے دکھایا کہ اسلام ایک ابدی صداقت ہے، اور وہ فلسفہ اور منطق کے معیار پر بھی اپنی صداقت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ان کوششوں کے نتیجہ میں ایک نیا علم، علم کلام کے نام سے وجود میں آیا۔ آٹھویں اور دسویں صدی عیسوی کے درمیان اس کے تحت تین بڑے مدارس فکر بنے۔ معتزلہ، اشعریہ اور ماتریدیہ۔ اسلام کی اس علمی شاخ کی تفصیل اور اس کی تاریخ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب الکلام(دو جلد) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انیسویں صدی میں جدید سائنس کا غلبہ ہوا۔ اس کے بعد ایک نیا فکری چیلنج سامنے آیا۔ اب پھر یہ کہا جانے لگا کہ اسلام کی صداقت جدید سائنسی معیار پر پوری نہیں اترتی۔ دوبارہ کچھ اللہ کے بندے اٹھے جنہوں نے سائنسی دریافتوں کا گہرا مطالعہ کرکے بتایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور اسلام اپنی ابدی صداقت کو بدستور زمانہ حال میں بھی باقی رکھے ہوئے ہے۔ اس معاملہ کی تفصیل راقم الحروف کی کتابوں(مذہب اور جدید چیلنج،وغیرہ) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیسویں صدی کے آخر میں اب پھر اسلام ایک نئے چیلنج سے دو چار ہے۔ یہ چیلنج نہ منطقی ہے اور نہ سائنسی۔ یہ پچھلے تمام فکری چیلنجوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ چیلنج وہ ہے جو جدید جنگی ٹیکنالوجی کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔
جدید سائنس کے ظہور کے بعد عام طور پر انسان نے یہ سمجھا کہ اس نے تعمیر دنیا کا آخری نسخہ دریافت کر لیا ہے۔ اب سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ اس خوش حال اور پرامن دنیا کی تعمیر ممکن ہوگئی ہے جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھ رہا تھا۔
مگر سائنس کے عملی استعمال کے بعد سارا خواب بکھر گیا۔ سائنس ظاہری طور پر ترقیوں کا دور لے آئی۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے پہلے سے بھی زیادہ بڑے بڑے مسائل پیدا کر دیے۔ ان جدید مسائل نے پرسکون دنیا کی تعمیر کو ناممکن بنا دیا۔ مزید یہ کہ سائنس نے جنگ کی تخریب کاری کو ناقابل قیاس حد تک بڑھا دیا۔ پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ تمام تر جدید ٹیکنالوجی کی پیدا کردہ تھی جس نے ساری دنیا کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا جو دور قدیم کی ساری فوجیں مل کر بھی نہیں پہنچا سکتی تھیں۔
اس تلخ تجربہ کے بعد اب ساری دنیا میں’’مذہب کی طرف واپسی‘‘ کا ایک نیا عمل شروع ہوگیا ہے۔ لوگ عام طور پر ازسر نو مذہب کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں۔ تاہم وہ کسی امن پسند مذہب ہی کو قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ جنگ کی تعلیم دینے والا مذہب ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ کیوں کہ ایسا مذہب جدید حالات میں سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔
موجودہ زمانہ میں جنگ کا تصور کامل طور پر بدل گیا ہے۔ اب جدید ہتھیاروں نے اس کو ناممکن بنا دیا ہے کہ جنگ کا نتیجہ کسی کے حق میں مفید صورت میں برآمد ہو۔ اب جنگ طرفین کے لیے صرف کامل تباہی کے ہم معنی ہے۔ آج کا انسان اس کو خارج از بحث قرار دے چکا ہے کہ کسی مثبت مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ اور تشدد کا طریقہ استعمال کیا جائے۔
ہٹلر جدید تاریخ کا سب سے بڑا جنگ باز آدمی تھا۔ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے مل کر ساری دنیا کو بذریعہ طاقت مسخر کرنے کے لیے وہ عظیم جنگ چھیڑی جو سکنڈ ورلڈ وار کے نام سے مشہور ہے۔ اس طرح ہٹلر نے جنگ کے ذریعہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مشینی دور کا سب سے بڑا تجربہ کیا۔ مگر جیساکہ معلوم ہے کہ اس تجربہ کا آخری نتیجہ، دنیا کے حق میں اور خود ہٹلر کے حق میں کامل تباہی کے سوا کچھ اور نہ تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے تباہ کن انجام کو دیکھنے کے بعد ہٹلر کو ہوش آگیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ جدید مشینی انقلاب کے بعد کس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ کا طریقہ آخری حد تک بے فائدہ ہو چکا ہے۔ اس نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ جدید جنگ میں اب کوئی فاتح نہیں ہوگا۔ جو ہوگا وہ صرف یہ کہ کچھ لوگ مرنے سے بچ جائیں گے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
‘‘In a modern war there are no victors, only survivors.’’
The Book of Knowledge, vol 7, p.498
1917ء سے پہلے جب کمیونسٹ لیڈر اپنے نظام کو نافذ کرنے کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس وقت وہ جنگ اور ہتھیار کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اس زمانہ میں نوجوان اسٹالن نے اپنی تقریر میں کہا تھا اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول اسلحہ، دوم اسلحہ، سوم اسلحہ، اور آخر میں پھر اسلحہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چنانچہ سابق سوویت یونین میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے کمیونسٹ لیڈر شپ نے سب سے زیادہ طاقت اس پر صرف کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہتھیار اکٹھا کر لیں تاکہ اس کے زور پر ساری دنیا میں اپنا مطلوب اشتراکی نظام قائم کر سکیں۔1991ء جب سوویت یونین اپنے آخری عروج پر تھا، اس کے پاس 29 ہزار کی تعداد میں چھوٹے بڑے ایٹم بم موجود تھے۔ ان کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ سارے یورپ کو اور سارے امریکہ کو بیک وقت تباہ کر سکتے تھے۔
مگر عملاً یہ ہوا کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا، لیکن وہ اپنے ہتھیاروں کو اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال نہ کر سکا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ دوسروں کے پاس بھی اسی قسم کے مہلک بم موجود تھے۔ سوویت یونین جب اپنے ہتھیاروں کو استعمال کرکے اپنے دشمنوں کو مٹاتا تو عین اسی وقت اس کا دشمن بھی اس کے خلاف اپنے ہتھیاروں کو استعمال کرکے اس کے وجود کو مٹا چکے ہوتے۔ سوویت یونین کے لیڈر خوش قسمتی سے اتنے نادان نہ تھے کہ ایسا جنگی اقدام کریں جس کا نتیجہ صرف دو طرفہ خودکشی کے ہم معنی ثابت ہو۔
اس نئی صورت حال نے سارے معاملہ کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب اسلام کو فکری سطح پر جو چیلنج درپیش ہے وہ حقیقتاً نہ منطقی ہے اور نہ سائنسی۔ آج کا فکری چیلنج یہ ہے کہ کیا اسلام کو ایک بے تشدد مذہب ثابت کیا جا سکتا ہے، کیا اسلام پرامن آئیڈیالوجی کے جدید معیار پر پورا اترتا ہے۔
جدید انسان ہر چیز سے مایوس ہو کر مذہب کی طرف واپس آ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے تمام مذاہب کا علمی اور تاریخی جائزہ لیا۔ مگر اس نے پایا کہ بڑے بڑے مذاہب تاریخ کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ان کے بارے میں کوئی بات بھی علمی طور پر ثابت شدہ نہیں۔ اس طرح یہ مذاہب اپنا تاریخی اعتبار کھو چکے ہیں۔
اب میدان میں صرف ایک مذہب ہے، اور وہ اسلام ہے۔ اسلام مکمل طور پر تاریخ کے معیار پر پورا اترتا ہے وہ ہر پہلو سے ایک معتبر مذہب ہے، مگر انسان جب اسلام کی طرف آتا ہے تو وہ ایک بات سے سخت الرجک ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اسللام کے پیروؤں نے اسلام کو ایک جنگی مذہب کا روپ دے رکھا ہے۔ آج کا انسان اسلام کو چاہتا ہے، مگر وہ ایسے اسلام کو قبول نہیں کر سکتا جو اس کو دوبارہ اسی جنگ کی تعلیم دے جس سے وہ آخری حد تک بیزار ہو چکا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام اور انسان دونوں کی تاریخ اٹکی ہوئی ہے۔ آج دونوں کا مستقبل اسی ایک سوال سے وابستہ ہوگیا ہے۔
فلسفہ اور سائنس کے معیار پر اسلام کا پورا اترنا اب ایک ایسی کھلی حقیقت بن چکی ہے کہ اس اعتبار سے اب اسلام کو کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش نہیں۔ جدید انسان کو یہ ماننے میں کوئی تامّل نہیں کہ جہاں تک فلسفیانہ معیار یا سائنسی حقائق کا تعلق ہے، اسلام کی صداقت غیر مشتبہ طور پر ثابت شدہ ہے۔
تاہم پچھلی صدیوں میں اسلام کے نام پر جو لڑائیاں ہوئیں، نیز موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں اسلام کے نام پر جو پرتشدد تحریکیں چل رہی ہیں، انھوں نے جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بنائی ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے مقصد کو تشدد اور جنگ کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ ہر طرف یہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلام ایک ملٹنٹ مذہب ہے، اور ملٹنٹ مذہب موجودہ زمانہ میں سرے سے قابل عمل ہی نہیں، اس لیے وہ قابل قبول بھی نہیں ہو سکتا۔
گویا پچھلے دور کا انسان اگر یہ کہتا تھا کہ اسلام کو ہم اس وقت مانیں گے جب کہ تم اس کو فلسفہ اور سائنس کے معیار پر ثابت کرکے دکھاؤ، تو آج کا انسان یہ کہہ رہا ہے کہ اسلام ہمارے لیے اس وقت قابل قبول ہو سکتا ہے جب کہ تم یہ ثابت کرو کہ اسلام کا مل معنوں میں ایک امن پسند مذہب ہے، وہ جنگ کے بغیر انسانی تعمیر کا نقشہ پیش کر سکتا ہے۔
میں کہوں گا کہ یہاں بھی اسلام کی پوزیشن وہی ہے جو سائنسی چیلنج کے مقابلہ میں تھی۔ اسلام پیشگی طور پر سائنسی معیار کے مطابق تھا، چنانچہ جب سائنس کا دور آیا تو علماءِ اسلام کو صرف یہ کرنا پڑا کہ وہ ازسرنو اسلام کے مقدس متن کا مطالعہ کرکے ان پہلوؤں کی نشان دہی کر دیں جو جدید سائنسی معیار کی تصدیق کرنے والے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام پیشگی طور پر ہی ایک پرامن مذہب ہے۔ وہ کلی طور پر جنگ کا مخالف ہے۔ اسلام میں جنگ کی ایک ہی صورت رکھی گئی ہے، اور وہ دفاع ہے۔ اب جبکہ موجودہ زمانہ میں تمام قومیں جنگی اقدام کو اپنے لیے خارج از بحث قرار دے چکی ہے۔ مشترکہ طور پر تمام قوموں نے اپنے اوپر اقوام متحدہ کی صورت میں ایک عالمی نگراں بھی مقرر کر دیا ہے تاکہ کوئی قوم کسی قوم کے اوپر جارحیت نہ کرنے پائے۔ جدید حالات جنگ کے لیے ایک مانع عامل(deterrent factor) کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب یہاں نہ کوئی کسی کے خلاف جنگی اقدام کرنے والا ہے اور نہ کسی کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہونے والا ہے کہ وہ دفاع کی ضرورت کے تحت کسی سے لڑائی کرے۔
شرعی اعمال کی مطلوبیت کے بارے میں فقہا نے دو تقسیمیں کی ہیں۔ ایک وہ جو حسن لذاتہ ہیں۔ اور دوسرے وہ جو حسن لغیرہ ہیں۔ اول الذکر سے مراد وہ اعمال ہیں جو خود اپنی ذات میں مطلوب ہوتے ہیں، اور ثانی الذکر سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی اور سبب سے مطلوب بن جاتے ہیں۔ پہلی قسم کے اعمال کی مطلوبیت دائمی ہے، اور دوسری قسم کے اعمال کی مطلوبیت وقتی یا اضافی۔
قتال یا جنگ شریعت میں حسن لذاتہ نہیں ہے بلکہ وہ حسن لغیرہ ہے۔ یعنی اگر جنگ کا متعین سبب پایا جائے تو اس وقت جنگ کی جائے گی۔ اور اگر سبب نہ پایا جائے تو ہر گز جنگ نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجئے۔
قرآن میں ایک آیت معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو جگہ آئی ہے۔ سورہ البقرہ (2:193)، اور سورہ الانفال(398)۔ آخر الذکر آیت یہاں نقل کی جاتی ہے
’’وَقاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللهَ بِما يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ‘‘۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فتنہ کے لفظی معنی آزمائش اور ابتلاء ہیں(لسان العرب، جلد 13، صفحہ 317)۔ صحیح بخاری (کتاب النکاح) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 5096)۔ یعنی، میں نے اپنے بعد کوئی آزمائش نہیں چھوڑی جو مردوں کے اوپر عورتوں سے زیادہ ضرر رساں ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ آیت میں فتنہ کا لفظ بھی اسی معنی میں ہے۔ امام حسن بصری تابعی (21-110ھ) نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ کا مطلب ہے حَتَّی لَایَکُوْنَ بَلَاءٌ (تفسیرطبری، جلد9، صفحہ 248) ۔یعنی، ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ آزمائش کی حالت باقی نہ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں فتنہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے پوری تاریخ میں مذہب کی آزادی نہ تھی۔ جو طبقہ برسراقتدار ہوتا وہ اپنے سوا دوسرے مذہب کے لوگوں کو اس کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ اس سے الگ کسی اور مذہب کو مانیں، یا کسی اور مذہبی طریقہ پر عمل کریں۔
ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں اسلام جب عرب میں شروع ہوا تو اس وقت وہاں شرک اور مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا۔ کیوں کہ ان کا عقیدہ مشرکین کے عقیدہ سے مختلف تھا۔ وہ ان کے طریقہ کو چھوڑ کر دوسرے طریقہ پر خدا کی عبادت کرتے تھے۔ یہ ظلم و ستم آخر کار جنگ تک پہنچا۔ اس وقت اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں سے لڑو، یہاں تک کہ مذہبی جبر کا خاتمہ ہو جائے۔ ہر آدمی اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کے لیے آزاد ہو جائے۔
آیت کا دوسرا حصہ وَيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ہے۔ یہ پہلے حصہ کی مزید وضاحت ہے۔ آیت کے پہلے حصہ میں جو بات سلبی انداز میں کہی گئی ہے، اسی بات کو دوسرے حصہ میں ایجابی انداز میں دہرایا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ__فتنہ کو ختم کر دو، تاکہ عدم ِفتنہ کی حالت دنیا میں پوری طرح قائم ہو جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں دین کا لفظ دین شرعی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ دین فطری کے معنی میں ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ دین نہیں ہے جو الفاظ کی صورت میں ہمیں عطا کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ قانون فطرت ہے جو غیر ملفوظ طور پر براہ راست خدا کی طرف سے سارے عالم میں نافذ ہے۔
قرآن میں دین کا لفظ اس دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے مثلاً فرمایا وَلَهُ مَا فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ واصِباً أَفَغَيْرَ اللهِ تَتَّقُونَ (16:52)۔یعنی، خدا ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اسی کے لیے دین ہے(ساری کائنات میں) ہمیشہ، پھر کیا تم اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرتے ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سورہ نحل کی اس آیت میں دین سے مراد وہ دین فطری یا قانون فطری ہے جو بالفعل ساری کائنات میں مستقل طور پر ہر آن قائم ہے۔ اس معلوم واقعہ کو بطور شہادت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ کی قدرت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ساری کائنات کو ہرآن ابدی طور پرمسخر کیے ہوئے ہے تو تم کو اسی سے ڈرنا چاہیے، اور اپنی آزادی کو اسی کی ماتحتی کے دائرہ میں استعمال کرنا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں انسان کے لیے ہدایت کا کامل سامان موجود ہے۔ ایک طرف انسان کی نفسیاتی ساخت میں توحید کا شعور پیوست کر دیا گیا ہے۔ پھر کائنات میں ہر طرف حق کی نشانیاں بکھیر دی گئی ہیں، اسی کے ساتھ پیغمبروں کے ذریعہ لفظی اعلان کی صورت میں بھی اس کا براہ راست اہتمام کیا گیا ہے۔ تاہم امتحان کی مصلحت کی بنا پر انسان کو قبولیت پر مجبور نہیں کیا گیا۔ انسان کے لیے کامل آزادی ہے کہ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے
إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبِيلَ إِمَّا شاكِراً وَإِمَّا كَفُوراً (76:3)۔ یعنی، اللہ نے انسان کو راستہ دکھا دیا ہے۔ اب وہ شکر کرنے والا بنے یا انکار کرنے والا بنے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری جگہ فرمایا
وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شاءَ فَلْيَكْفُرْ (18:29)۔ یعنی، کہو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ پس جو شخص چاہے اسے مانے اور جو شخص چاہے انکار کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ خدا کا منصوبہ تخلیق ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق لازماً ایسا ہونا چاہیے کہ دنیا میں لوگوں کو انتخاب کی پوری آزادی ملی ہوئی ہو۔ مگر قدیم بادشاہی دور میں جو مذہبی جبر رائج ہوا وہ خدا کے اس نقشہ میں مداخلت کے ہم معنی تھا۔ خدا چاہتا ہے کہ انسان کو آزادی دے کر اس کا امتحان لے۔ لیکن مذہبی جبر کے ماحول نے انسان سے انتخاب(چوائس) کی یہ آزادی چھین لی۔ اس نظام کے تحت وہ صرف حکمراں کے مذہب کو اختیار کر سکتا تھا، کسی اور مذہب کو نہیں۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اس جبری حالت (فتنہ) کو ختم کر دو، تاکہ فطری دین(بالفاظ دیگر، خدا کا فطری انتظام) اپنی اصل حالت پر قائم ہو جائے۔
رسول اور اصحابِ رسول نے قدیم عرب میں یہی کام کیا۔ انھوں نے جہاد کرکے فتنہ کو ختم کیا۔ اس کے بعد وسیع تر سطح پر جو سماجی اور سیاسی اور فکری انقلاب آیا وہ ایک مسلسل عمل(پراسس) کے طور پر انسانی تاریخ میں شامل ہوگیا۔ یہ تاریخی عمل چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں آ کر وہ اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔ اب اقوام متحدہ کے تحت قوموں نے باضابطہ طور پر یہ عہد کیا کہ ہر ایک اپنے علاقہ میں بسنے والے لوگوں کو کامل مذہبی آزادی دے گا۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ دوسرے کے مذہب کے اوپر پابندی لگائے۔
یہ صورت حال اب ساری دنیا میں عملاً قائم ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر ہندستان جو اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس نے اپنے دستور کی دفعہ25 میں ہر ہندستانی شہری کا یہ بنیادی حق قرار دیا ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے، اس پر عمل کرے اوراس کی تبلیغ کرے۔
اب جب کہ مذہبی آزادی کا حق مل چکا تو اس کے بعد قتالِ فتنہ کے حکم پر عمل کرنا اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک مذہبی آزادی کا یہ حق ہمیں حاصل ہے۔ اب ہمارا اصل کام اس ملی ہوئی آزادی کو استعمال کرکے اصلاح و تعلیم اور دعوت و تبلیغ جیسے تعمیری میدانوں میں سرگرم عمل ہونا ہے، نہ کہ بے فائدہ طورپر لوگوں سے جنگ چھیڑ کر دوبارہ اپنے لیے مواقع کار کو مسدود کر لینا۔
مسٹر جیم موراں امریکہ کی خارجی امور کی اعلیٰ کمیٹی کے ممبر ہیں۔ ان سے استاذ احمد منصور نے واشنگٹن میں ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو کویت کے عربی مجلہ المجتمع (1-15مارچ 1996ء) میں چار صفحات پر شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے القَرْنُ القَادِمُ هُوَ قَرْنُ الإِسْلَامِ ۔ یہ عنوان ان کے ان الفاظ سے لیا گیا ہے کہ میرا یقین ہے کہ اکیسویں صدی اسلام کی صدی اور اسلامی ثقافت کی صدی ہوگی(فَإِنِّي أَعْتَقِدُ أَنَّ الْقَرْنَ الْحَادِيَ وَالْعِشْرِينَ سَيَكُونُ قَرْنَ الإِسْلَامِ وَقَرْنَ الثَّقَافَةِ الإِسْلَامِيَّةِ)صفحہ23۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ ایک حقیقت ہے کہ عصر جدید امکانی طور پر عصر اسلام ہے۔ تاریخ کا دھارا جس طرف جا رہا ہے وہ بلاشبہ یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں بیک وقت کئی ایسے انقلابات ہوئے ہیں جو آخری حد تک اسلامی دعوت کے موافق ہیں۔ ان جدید امکانات کو استعمال کرکے اسلام کی عمومی اشاعت کا وہ مقصد کامیابی کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی بابت حدیث میں ان الفاظ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ روئے زمین کے ہر گھر میں اسلام کا کلمہ (كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ) داخل ہو جائے گا(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی نے اسلام کی دعوت و اشاعت کے تمام راستے پوری طرح کھول دیے ہیں۔ اب اسلام کے دعوتی عمل کو ہر قوم میں اور ہر ملک میں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری کیا جا سکتا ہے۔
کلمہ اسلام کو دنیا کے ہر حصہ میں پہنچانے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے مطابق مواصلاتی ذرائع حاصل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سائنسی انقلاب کے ذریعہ اس کا اعلیٰ انتظام فرمایا۔ جدید مواصلات(کمیونکیشن) نے ربط و اتصال کو بالکل آسان بنا دیا۔ تیز رفتار سواریاں وجود میں آگئیں۔
اسی طرح پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی صورت میں پیغام رسانی کے اعلیٰ ترین ذرائع ہماری دسترس میں دے دیے گئے۔
اسی کے ساتھ ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ جدید مطالعہ نے اسلام کی صداقت کو علمی اعتبار سے انتہائی حد تک ثابت شدہ بنا دیا۔ تمام سائنسی اور تاریخی دلائل اسلام کی تائید پر اکٹھا ہوگئے۔ کمیونزم کے انہدام کے بعد اب اسلام بلاشبہ جدید دنیا میں آئیڈیا لاجیکل سپر پاور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ان انقلابات نے اسلام کے فکری غلبہ کے حق میں تمام امکانات کھول دیے ہیں۔ اب اہل اسلام کا کام صرف یہ ہے کہ ان جدید امکانات کو استعمال کرکے وہ اسلام کی نئی تاریخ بنائیں۔ جدید انسانی نسلوں کے سامنے اسلام کو پیش کرکے وہ خدا کے منصوبہ کو پورا کر دیں۔
اس قیمتی امکان کو استعمال کرنے کے لیے آج صرف ایک حکمت کی ضرورت ہے۔ وہ ہے—اسلام کو جنگ کے بجائے دعوت کا موضوع بنانا۔ ضرورت ہے کہ مسلمان اب ان تمام بے فائدہ لڑائیوں کو ختم کر دیں جو وہ اسلام کے نام پر جگہ جگہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ اس کے بجائے وہ اپنی پوری طاقت کو دعوتی میدان میں لگا دیں۔ اور پھر ان شاء اللہ مستقبل صرف اسلام کے لیے ہوگا۔
بیک کور ٹیکسٹ
موجودہ زمانہ ہر اعتبار سے ایک نیا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں دنیا روایتی دور سے نکل کر سائنٹفک دور میں داخل ہوئی۔ اب ضرورت ہے کہ اسلام کے ابدی اصولوں کو جدید حالات پر ازسرِ نو منطبق کیا جائے۔ اسی ازسرِ نو انطباق کا شرعی نام اجتہاد ہے۔ زیرِ نظر کتب وقت کے اِسی اہم ترین مسئلے کا ایک علمی اور تاریخی مطالعہ ہے۔