Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

تاریخی فرق

Urdu · 2 min

یروشلم پر مسلمانوں کا قبضہ پہلی بار638ء میں ہوا۔ اس کے بعد1099ء میں دوبارہ وہ مسیحیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔88 سال بعد1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے دوبارہ یروشلم پر مسلم قبضہ کو بحال کیا۔

اس طرح گیارھویں صدی اور بارھویں صدی کے درمیان تقریباً90 سال تک کا زمانہ ایسا گزرا ہے جب کہ یروشلم غیر مسلموں کے سیاسی قبضہ میں تھا۔ یہ تاریخ کا وہ زمانہ ہے جب کہ مذہبی آزادی کا دور ابھی نہیں آیا تھا۔ ہر طرف دنیا میں مذہبی جبر کا نظام رائج تھا۔ چنانچہ یروشلم پر مسیحی قبضہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کا وہاں داخلہ بھی عملاً بند ہوگیا۔ ایک عرصہ تک کے لیے مسلمان مسجد اقصیٰ کی زیارت سے محروم کر دیے گئے۔

مگر1967ء میں جب یروشلم یہودی قبضہ میں آیا تو زمانہ بالکل بدل چکا تھا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی کو ہر فرد کا ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا تھا۔ یہ زمانی فرق اتنا طاقت ور تھا کہ یروشلم کے نئے حکمرانوں کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی عائد کر سکیں۔

تاہم مسلمان اس جدید امکان کو استعمال نہ کر سکے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ وہ زمانی فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ چنانچہ سابقہ روایت کے زیر اثر وہ یروشلم جانے سے رک گئے۔ نئی حکمت نے کبھی انھیں یروشلم جانے سے نہیں روکا۔ بلکہ اپنے خود ساختہ تصور کے تحت انھوں نے بطور خود وہاں کا سفر کرنا ترک کر دیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.