Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

ایک شبہ کا ازالہ

Urdu · 2 min

مذکورہ شرعی اصول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شریعت اہل اسلام کو قانع حال (status-quoist) بنا دینا چاہتی ہے۔ شریعت کے اس حکم کا مقصد دراصل نازک صورت حال میں اپنے عمل کے لیے نقطہ آغاز(starting point) حاصل کرنا ہے۔ نزاعی صورت حال میں اگر ردّعمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ البتہ عملی طور پر ٹھہراؤ (status-quoism) کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں اہل اسلام سامنے کی چٹان سے ٹکراتے رہیں گے۔ وہ آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ نہ پا سکیں گے۔

اس لیے شریعت نے اہل اسلام کو مذکورہ حکم دیا۔ یعنی وہ حالات کے ناموافق پہلو پر صبر کریں تاکہ وہ حالات کے موافق پہلو کو استعمال(avail) کر سکیں۔ یہ قانون قدرت ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کے لیے کچھ موافق پہلو اور کچھ ناموافق پہلو دونوں بیک وقت موجود ہوں۔ موافق پہلو کو استعمال کرنے کی واحد قیمت ناموافق پہلو کو برداشت کرنا ہے۔ مذکورہ شرعی حکم دراصل اسی قیمت کو ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔

زندگی کا سفر کبھی نقطہ اختتام سے شروع نہیں ہو سکتا۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہوگا، ابتدائی نقطہ سے شروع ہوگا۔ زندگی میں کامیاب سفر کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کو نقطہ آغاز مل جائے۔ صحیح نقطہ آغاز مل جانے کے بعد منزل پر پہنچنا اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نکلنا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.