مذکورہ شرعی اصول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شریعت اہل اسلام کو قانع حال (status-quoist) بنا دینا چاہتی ہے۔ شریعت کے اس حکم کا مقصد دراصل نازک صورت حال میں اپنے عمل کے لیے نقطہ آغاز(starting point) حاصل کرنا ہے۔ نزاعی صورت حال میں اگر ردّعمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ البتہ عملی طور پر ٹھہراؤ (status-quoism) کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں اہل اسلام سامنے کی چٹان سے ٹکراتے رہیں گے۔ وہ آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ نہ پا سکیں گے۔
اس لیے شریعت نے اہل اسلام کو مذکورہ حکم دیا۔ یعنی وہ حالات کے ناموافق پہلو پر صبر کریں تاکہ وہ حالات کے موافق پہلو کو استعمال(avail) کر سکیں۔ یہ قانون قدرت ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کے لیے کچھ موافق پہلو اور کچھ ناموافق پہلو دونوں بیک وقت موجود ہوں۔ موافق پہلو کو استعمال کرنے کی واحد قیمت ناموافق پہلو کو برداشت کرنا ہے۔ مذکورہ شرعی حکم دراصل اسی قیمت کو ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔
زندگی کا سفر کبھی نقطہ اختتام سے شروع نہیں ہو سکتا۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہوگا، ابتدائی نقطہ سے شروع ہوگا۔ زندگی میں کامیاب سفر کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کو نقطہ آغاز مل جائے۔ صحیح نقطہ آغاز مل جانے کے بعد منزل پر پہنچنا اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا تاریک شام کے بعد روشن صبح کا نکلنا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.