مذکورہ بات کے سلسلہ میں اکثر مسلم دانشوریہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بات جو آپ کہہ رہے ہیں، یہ تو مسیحی نقطہ نظر ہے جو انفعالیت پر قائم ہے۔ اسلام تو ایک انقلابی دین ہے جو فعالیت میں یقین رکھتا ہے۔ مگر یہ کچھ افراد کی محض ذاتی ریزننگ ہے۔ ہم نے جو بات کہی ہے وہ قرآن و حدیث کے حوالے سے کہی ہے۔ وہ مکمل طور پر شرعی نصوص پر مبنی ہے۔ جب کہ معترض حضرات کی بات تمام تر ذاتی ریزننگ پر مبنی ہے۔ اور کسی کی ذاتی ریزننگ شرعی نصوص کا بدل نہیں بن سکتی۔
مسلم دانشوروں میں ایک بالکل بے بنیاد خیال یہ پھیلا ہوا ہے کہ اسلام ایک ارتقا یافتہ مذہب ہے، اور دوسرے مذاہب غیر ارتقا یافتہ مذاہب ہیں۔ حالانکہ یہ بات صریح اسلامی نصوص کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق ہر پیغمبر کو ایک ہی دین دیا گیا۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں غیر محرف اور محرف کا فرق ہے، نہ کہ ارتقائی اور غیر ارتقائی کا۔
مثال کے طور پر مسلم خطبا اکثر حضرت مسیح کے اس قول کا استخفاف کرتے ہیں کہ پس جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو(متی،22:21)۔ حالانکہ یہ مخصوص حالات کے اعتبار سے ایک حکیمانہ ہدایت ہے اور وہ خود اسلام میں عین اسی طرح موجود ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے جس کو بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں
إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا. قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔یعنی، میرے بعد تم لوگ(حکمرانوں میں) خود غرضی اور منکر چیزیں دیکھوں گے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، پھر اس وقت کے لیے آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ان کو ان کا حق ادا کرو اور اللہ سے اپنا حق مانگو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔