قرآن میں حکم دیا گیا ہے اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگ پکارتے ہیں تم ان چیزوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ لوگ اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو مزین کر دیا ہے(6:108)۔
اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے عمل کو نتیجہ رخی (result-oriented) عمل ہونا چاہیے۔ ہر اقدام سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اگر نتیجہ غیر مطلوب نکلنے والا ہو تو اقدام سے پرہیز کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو عمل الٹا نتیجہ والا(counter-productive) ثابت ہو، وہ عمل اسلام میں جائز نہیں۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیسے کوئی شخص اپنے باپ کو گالی دے گا، آپ نے فرمایا کہ تم کسی شخص کے باپ کو گالی دو گے پھر وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ تم کسی کی ماں کو گالی دو گے پھر وہ تمہاری ماں کو گالی دے گا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5973)۔
اسی بنا پر فقہ میں ایک مستقل مسئلہ بنا ہے جس کو تَركُ المَصلَحَةِ لمَفسَدَةِ أرجَحُ مِنْهَا کہا جاتا ہے۔ یعنی، ایک بظاہر مطلوب کام کو اس لیے چھوڑ دینا کہ اس کے کرنے سے زیادہ بڑا بگاڑ پیدا ہوگا(تفسیر ابن کثیر، جلد2، صفحہ164)۔
اس شرعی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے وہ تمام اقدامات غیر اسلامی قرار پاتے ہیں جن کو جہاد کے نام پر شروع کیا گیا۔ کیونکہ ان اقدامات کا نتیجہ زبردست تباہی کی صورت میں نکلا۔ اقدام جہاد سے پہلے مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا وہ بھی ان سے کھویا گیا اور مزید کوئی چیز انھیں حاصل نہ ہو سکی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔