← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
غیر مسلم حکمراں کا معاملہ
Urdu · 10 min
جہاں تک مسلم حکمراں کا معاملہ ہے، اس کے خلاف خروج کی حرمت صریح احادیث سے ثابت ہے۔ اسی لیے تمام علما نے اس پر اتفاق کیا ہے، جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حکمراں اگر غیر مسلم ہو تو اس کے بارے میں شریعت اسلامی کا حکم کیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں شریعت کا اصولِ قیاس ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اصول فقہ میں یہ بات مسلّم ہے کہ شرعی احکام کے ماخذ چار ہیں— قرآن، سنت، اجماع اور قیاس، زیر بحث معاملہ میں قیاس کے اصول میں ہمارے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔
فقہ کی تمام اہم کتابوں میں قیاس پر بحث کی گئی ہے۔ شرعی قیاس کیا ہے، اس کو اصول فقہ کی کسی بھی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔
فنی اصطلاحات سے قطعِ نظر،سادہ طور پر قیاس کی تعریف یہ ہوگی کہ وہ اشتراکِ علت کی بنیاد پر کسی چیز کے بارے میں دوسری چیز کے مماثل حکم ثابت کرنے کا نام ہے(إثْبَاتُ مِثْلُ حُكْمٍ مَعْلُومٍ فِي مَعْلُومٍ آخَرَ لِاشْتِرَاكِهِمَا فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ )منہاج الوصول للبیضاوی مع شرحہ نہایۃ السول، بیروت، 1999،صفحہ 303۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیضاوی کے مذکورہ الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے دکتور صلاح الدین زیدان نے لکھا ہے کہ جب حکم کی علت میں مماثلت پائی جائے تو نتیجۃً حکم میں بھی مماثلت ہوگی (التَّمَاثُلُ فِی عِلَّۃِ الْحُکْمِ یُؤَدِّی اِلَی التَّمَاثُلِ فِی الْحُکْمِ ) الدکتور صلاح الدین زیدان، حجیۃ القیاس، صفحہ23۔
other sourceWords of another person or source
مثال کے طور پر شراب کے بارے میں یہ حکم ثابت ہے کہ وہ حرام ہے لیکن کھجور سے تیار کی گئی نبیذ کا حکم صراحۃً قرآن یا حدیث میں موجود نہیں۔ مگر فقہا نے اس کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ نبیذ اور شراب میں ایک قدرِ مشترک پائی جاتی ہے اور وہ ہے دونوں کا مُسکر یعنی نشہ آور ہونا۔ اب چونکہ اس قدرِ مشترک کی بناپر شریعت نے شراب کو حرام ٹھہرایا ہے لہٰذا نبیذ اور کھانے پینے کی وہ ساری چیزیں جو مسکر (نشہ آور) ہیں ان کا حکم بھی وہی ہوگا جو شراب کا حکم ہے۔
اس اصولِ قیاس کو سامنے رکھ کر مذکورہ معاملہ پر غور کیجئے تو جو بات سامنے آئے گی، وہ یہ ہے کہ— پیغمبر اسلام نے صراحت کے ساتھ غیر عادل مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) سے منع فرمایا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس قسم کا اقدام زیادہ بڑا نقصان (بدامنی اور جان و مال کی تباہی) پیدا کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معلوم ہوا کہ اس ممانعت کی اصل علت شدید تر برائی کا پیدا ہونا ہے۔ یہ شدید تر برائی اس وقت بھی پوری طرح ظہور میں آئے گی جب کہ حکمراں غیر مسلم ہو۔ گویا دونوں جگہ علت کا اشتراک پایا جا رہا ہے۔ اور جب علت مشترک ہے تو شرعی اصول کے مطابق حکم بھی مشترک ہوگا۔
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت میں جس طرح غیر عادل مسلم حکمراں کے خلاف بغاوت ناجائز ہے اسی طرح غیر مسلم حکمراں کے خلاف بھی بغاوت ناجائز ہے خواہ وہ لوگوں کو غیر عادل کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اس خاص مسئلہ میں مسلم حکمراں اور غیر مسلم حکمراں کا فرق محض اضافی ہے۔ کیونکہ حکمراں کے خلاف خروج کی ممانعت اس لیے نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ یہ ممانعت صرف اس لیے ہے کہ اس قسم کا فعل زیادہ بڑا شر پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ ایسا اقدام عملی طور پر الٹے نتیجہ والا(counter-productive)ثابت ہوگا۔ اٹھنے والا اپنے خیال کے مطابق تو ظلم کو ختم کرنے کے لیے اٹھے گا۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے عظیم تر ظلم ظہور میں آئے گا۔
ایسا ہونا بالکل یقینی ہے۔ کیوں کہ حکمراں کسی معاشرے کا وہ عنصر ہے جس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں۔ جب اس کے وجود کو چیلنج کیا جائے گا تو لازماًوہ اپنے وجود کی حفاظت کے لیے اپنی ان طاقتوں کو استعمال کرے گا۔ اس کے بعد تشدد، خوں ریزی، اموال کی تباہی، امن و امان کا غارت ہو جانا جیسے یقینی نتائج رونما ہوں گے۔ چھوٹی برائی کودور کرنے کی کوشش میں زیادہ بڑی برائی پیدا ہو جائے گی۔
گویا یہاں حکم کی جو علت ہے وہ حکمراں کا مسلم ہونا نہیں ہے بلکہ حکمراں کا اس پوزیشن میں ہونا ہے کہ وہ خروج کا عمل پیش آنے کے بعد پورے معاشرے کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گا۔ سیاسی خروج کی حرمت کا سبب حاکم کا مسلمان ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل سبب ترتب فتنہ ہے۔ اور قیاس شرعی کے مطابق، جب علت مشترکہ ہے تو حکم بھی مشترک ہو جائے گا۔ یعنی غیر مسلم حکمراں کے خلاف خروج بھی اسی طرح ناجائز قرار پائے گا جس طرح مسلم حکمراں کے خلاف خروج ناجائز ہے، کیوں کہ باعتبار انجام دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حکمراں کے خلاف خروج اس وقت تک جائز نہیں جب تک اقامت صلاۃ میں وہ کوئی رکاوٹ نہ ڈال رہے ہوں۔ اس حدیث میں’’صلاۃ‘‘ کی اجازت کا ذکر دراصل مذہبی آزادی کی علامت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کو جب تک عبادت اور قول و عمل کی آزادی حاصل ہے، ان کو اپنے حکمراں کے خلاف سیاسی معزولی کی تحریک چلانا جائز نہیں، خواہ حکمراں مسلم ہو یا غیر مسلم۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں تمام غیر مسلم حکومتوں میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اینٹی ایسٹبلشمنٹ سیاست کے سوا وہ ہر مذہبی سرگرمی کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ ایسی حالت میں ان ملکوں میں سیاسی حکمرانوں کے خلاف تحریکیں چلانا سراسر ناجائز فعل ہے۔ اس قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی، خواہ وہ اسلام کے نام پر کی جائے، یقینی طور پر وہ غیر اسلامی قرار پائے گی۔
مذکورہ احادیث اور شرعی حکم کے مطالعہ سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک حکمراں کے اندر اگر غلطی یا نا انصافی دکھائی دے تو اصلاً جس چیز کا جواز ہوگا وہ قولی نکیر ہے۔ یعنی لفظی تنقید کی صورت میں اظہار رائے۔ اور وہ بھی عوامی تقریر کی صورت میں نہیں بلکہ تنہائی کی ملاقات میں، جیسا کہ بزرگ صحابی عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اگر تم کو ضرور ہی کچھ کہنا ہو تو ایسی مجلس میں کہو جس میں صرف تم ہو اور وہ (فَإِنْ كُنْتَ وَلَا بُدَّ فَاعِلًا، فَفِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ) سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 746۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں کئی ایسے غیر مسلم ملک ہیں جن کے بارے میں مسلم پریس روزانہ ظلم و زیادتی کی داستان سناتا رہتا ہے۔ یہ طریقہ شریعت کے مطابق تطفیف ہے، اور تطفیف کو قرآن میں نہایت برا فعل بتایا گیا ہے(83:1)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان غیر مسلم ملکوں میں ظلم و زیادتی کے واقعات کب شروع ہوئے۔ جب آپ اس اعتبار سے جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ مسلمانوں کے سیاسی جہاد کے بعد کے واقعات ہیں، نہ کہ پہلے کے واقعات۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کو پوری طرح مذہبی آزادی حاصل تھی۔ وہ امن کے ساتھ وہاں زندگی گزار رہے تھے۔ مگر جب وہاں جہاد کے نام پر’’گن کلچر‘‘ کو فروغ دیا گیا تو اس کے بعد وہاں کے حکمرانوں نے بھی تشدد کا جواب تشدد سے دینا شروع کیا۔ ایسی حالت میں ان مظالم کی اصل ذمہ داری ان انتہا پسند مسلم لیڈروں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی مخالفانہ کارروائیوں سے اس کا سبب بنے۔ حدیث میں ہے کہ الْفِتْنَةُ نَائِمَةُ لَعَنَ اللهُ مَنْ أَيقَظَهَا (کنز العمال، حدیث نمبر 30891)۔ فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پراللہ کی لعنت ہے جو اس کو جگائے۔ اس حدیث کے مطابق، اصل مجرم موقظِ فتنہ ہے، نہ کہ صاحبِ فتنہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it