← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
تعبیر کا مسئلہ
Urdu · 6 min
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام میں یہ جائز نہیں کہ حکمرانوں کو اقتدار سے بےدخل کرنے کے لیے ان کے خلاف جنگ برپا کی جائے تو ایسا کیوں ہے کہ آج ساری دنیا میں مسلمان اسی قسم کے سیاسی ہنگامے برپا کیے ہوئے ہیں۔ اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے ان مسلم مفکرین پر ہے جنہوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی۔ انھوں نے مسلمانوں کو یہ نشانہ دیا کہ وہ تمام مخالف طاقتوں سے لڑ کر ساری نیا میں اسلام کا اقتدار قائم کریں۔
حدیث کے الفاظ میں، اسلامی دعوت کا نشانہ یہ تھا کہ قلب انسانی کو بدلا جائے (مسنداحمد، حدیث نمبر 18374)۔ مگر اس تعبیر نے انتہائی غلط طور پر نظام سیاسی کی تبدیلی کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنا دیا۔ اور اس غلط تعبیر نے ایک ناجائز کام کو اسلام کا اعلیٰ وارفع مطلوب قرار دے دیا۔ چنانچہ اب تمام لوگ ارباب اقتدار سے اپنا سر ٹکرا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ فکر انسانی میں کبھی ایسا بگاڑ بھی آ سکتا ہے کہ لوگ سراسر ایک عبث کام کریں اور بطورخود یہ سمجھیں کہ وہ بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں (18:103-104)۔یہی موجودہ زمانہ میں ان نام نہاد انقلابی مسلمانوں کا حال ہے۔ نااہل رہنماؤں کی تزئین کے نتیجہ میں ان کا فکر اس طرح بگڑ گیا ہے کہ اب انھیں اسلام کا اصل دعوتی کام کمتر دکھائی دیتا ہے، اور وہ کام انھیں بڑا دکھائی دیتا ہے جس کو بطور خود انھوں نے اسلامی انقلاب کا نام دے رکھا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ موجودہ مسلم نسلوں کے ذہن کو درست کیا جائے۔ ان کے اندر انقلابی فکر کے بجائے اصلاحی فکر پیدا کیا جائے۔ ان کے اندر سیاست رخی سوچ کی جگہ آخرت رخی سوچ لائی جائے۔ ان کو نام نہاد انقلابی فکر کے بجائے سچے ربانی فکر پر کھڑا کیا جائے۔
اسلام کی تعبیر موجودہ زمانہ میں تین طریقوں سے کی گئی ہے۔ یہ تینوں تعبیرات مختصر انداز میں حسب ذیل ہیں
1۔ پیغمبر دنیا میں خلیفۃ اللہ بن کر آئے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ خداکے باغیوں کو زیر کرکے خدا کی دنیا میں خدا کے قانون کی حکومت قائم کریں۔
2۔ خدا نے پیغمبروں کو اس لیے بھیجا تاکہ وہ حیات انسانی کے بارے میں خدا کے منصوبہ سے لوگوں کو آگاہ کر دیں۔ یعنی یہ منصوبہ کہ موجودہ دنیا آزمائش گاہ ہے۔ کوی شخص اس دنیا میں جیسا عمل کرے گا اسی کے مطابق وہ آئندہ آنے والی ابدی دنیا میں سزا یا انعام پائے گا۔
3۔ تیسرا نقطۂ نظر تطبیقی نقطۂ نظر ہے۔ اس کے مطابق، مذکورہ دونوں تعبیر میں صرف ترتیب کا فرق ہے۔ دوسرا نظریہ اسلامی دعوت کے آغاز کو بتاتا ہے اور پہلا نظریہ اسلامی دعوت کے اختتام کو بتا رہا ہے۔
مگر قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں سے صرف دوسرا نقطۂ نظر صحیح ہے۔ تمام متعلق نصوص سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ پہلے اور تیسرے نقطہ نظر کے لیے قرآن و سنت میں کوئی براہ راست نص موجود نہیں۔ ان حضرات کا استدلال صرف استنباط پر قائم ہے، اور اسلامی دعوت کا نشانہ متعین کرنے کے لیے استنباطی دلیل ہر گز کافی نہیں ہو سکتی۔
اسلامی دعوت اصلاً یہی ہے کہ تخلیق کے خدائی منصوبہ سے لوگوں کو باخبر کیا جائے۔ اور اس کی بنیاد پر افراد کے اندر ذہنی انقلاب لانے کی کوشش کی جائے۔ اصل دعوتی عمل یہی ہے۔ تاہم ہر اجتماعی عمل کے بہت سے ضمنی نتائج ہوتے ہیں، اسی طرح دعوتی عمل کے بھی ضمنی اور اضافی نتائج ہیں۔ انھیں اضافی نتائج میں سے ایک اہل ایمان کی حکومت قائم ہونا ہے۔ تاہم حکومت اسلامی کا قیام اسلامی دعوت کا براہ راست نشانہ نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر منحصر ہے۔ اللہ اپنے مصالح کے تحت کبھی ایک کے حق میں اور کبھی دوسرے کے حق میں استخلاف فی الارض کا فیصلہ کرتا ہے۔
اس موضوع کی مزید تفصیل راقم الحروف کی حسب ذیل کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے— تعبیر کی غلطی، الاسلام، دین کامل، راہ عمل، احیاء اسلام وغیرہ۔