← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
مسلمان اور جدید تحدیات
Urdu · 14 min
موجودہ زمانہ کے مسلمان سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ ان مسائل کے خلاف ان کی جدوجہد 19ویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کا عام ذہن یہ تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا اصل سبب مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہے۔ اگر مغرب کا سیاسی غلبہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد ہمارے تمام مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
ایشیا کے مسلمان سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسائل کا شکار ہیں، اس کے خلاف ان کی جدوجہد19 ویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کا عام ذہن یہ تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا اصل سبب مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہے۔ اگر مغرب کاسیاسی غلبہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد ہمارے مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ نشانہ پورا ہوگیا۔ اس کے بعد تمام مسلم علاقے مغرب کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہوگئے۔ مگر مسلمانوں کے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ وہ بدستور پوری شدت کے ساتھ آج بھی باقی ہیں۔
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کا غلبہ سادہ طورپرصرف سیاسی غلبہ نہ تھا۔ وہ دراصل جدید صنعتی تہذیب کا نتیجہ تھا۔ سیاسی غلبہ کے خاتمہ کے باوجود صنعتی تہذیب کی فاتحانہ حیثیت بدستور انھیں مغربی قوموں کو حاصل تھی، اس لیے ان کا غلبہ بھی بدستور جاری رہا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ براہ راست تھا ، اور اب یہ غلبہ بالواسطہ انداز میں ہے۔
ان منفی انجام کو دیکھنے کے بعد کچھ مسلم دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اصل کمی صنعتی پس ماندگی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس کمی کو دور کرنا ہوگا۔ ہمیں دوسری قوموں کی طرح ایک بڑی صنعتی طاقت بننا ہے۔ اس کے بغیر ہماری قسمت بدلنے والی نہیں۔
مگر یہ بھی ہمارے مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ کیوں کہ زمانہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ وہ مسلسل ترقی کررہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم صنعتی ترقی کی طرف بڑھنا شروع کریں تو ساری کوشش کے بعد جب ہم انڈسٹریل دور میں داخل ہوں گے تو، الون ٹافلر کے الفاظ میں، مغربی قومیں سپرانڈسٹریل دور میں داخل ہو چکی ہوں گی۔ اس طرح ہم بدستور پیچھے رہیں گے اور ہمارا اصل مسئلہ اس کے بعد بھی غیر حل شدہ پڑا رہے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آج مسلمان جس قسم کے مسائل سے دو چار ہیں۔ اور سیاسی، اقتصادی، صنعتی، تہذیبی اور ثقافتی سطح پر جو تحدیات ان کو درپیش ہیں، وہ کوئی نئی صورت حال نہیں ہے۔ اس قسم کے حالات کا تجربہ امتِ مسلمہ کی طویل تاریخ میں بار بار مختلف شکلوں میں پیش آتا رہا ہے۔ تاریخ مزید بتاتی ہے کہ ہر خطرہ یا ہر چیلنج سے گزرنے کے بعد امت پہلے سے زیادہ طاقت ور اور مستحکم ہوگئی ہے۔
اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے پہلے امت کو جب اس قسم کے مسائل اور تحدیات سے دو چار ہونا پڑا تو کیا صورت پیش آئی اور کس طرح اس کا مقابلہ کیا گیا۔ اس کا جواب تاریخ کی روشنی میں صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ کامیابی اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ حاصل کی گئی۔
تیرھویں صدی عیسوی کے وسط میں تاتاریوں نے عالم اسلام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔ وحشی اور خوں خوار تاتاریوں کی طاقت بظاہر ناقابل شکست بنی ہوئی تھی۔ مگر اس کے بعد اسلام کی دعوتی طاقت ظاہر ہوئی۔ اس نے تاتاری قوم کو مسخر کر لیا۔ ایک مستشرق نے اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The religion of the Mulims had conquered where their arms had failed.) p. 488(
آج مسلمانوں کو اسلام کی اسی دعوتی طاقت کو لے کر اٹھنا ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کے کام کو صحیح طور پر انجام دے سکیں تو یقینی طور پر ان کے حالات بدل جائیں گے۔ اس کے بعد وہی ہوگا جس کی خبر قرآن میں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر ہمارے دشمن نظر آتے ہیں وہ ہمارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے(41:34)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ کرنے کے مواقع غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایک طرف یہ ہوا ہے کہ مذاہب کے علمی مطالعہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب غیر معتبر ہیں۔ کسی بھی دوسرے مذہب کو تاریخی اعتباریت حاصل نہیں۔ جبکہ اسلام ہر علمی جانچ میں معتبر ثابت ہوا ہے۔ اس طرح گویا اسلام اس حیثیت میں ہے کہ وہ بلامقابلہ کامیابی حاصل کر سکے۔
جہاں تک انسانی ساخت کے ازموں کا تعلق ہے، وہ بھی سب کے سب ناکام ہو چکے ہیں، اس سلسلہ کا آخری فیصلہ کن واقعہ کمیونسٹ ایمپائر کا ٹوٹنا ہے۔ کمیونسٹ ایمپائر کی موجودگی میں دنیا اس غلط فہمی میں تھی کہ ہمارے پاس ایک آئیڈیالوجی موجود ہے۔ مگر1991 میں جب کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ کر گر گئی تو اس بھرم کا بھی خاتمہ ہوگیا اب ساری دنیا میں ایک فکری اور نظریاتی خلا(ideological vacuum) ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام پر کر سکتا ہے۔
اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھیں اور اس کے ذریعہ سے اقوام کی فکری تسخیر کرکے اسلام کی نئی تاریخ بنائیں۔
اب ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم خود اپنی تاریخ کے اس تجربہ کو نئے حالات میں دہرائیں جو بار بار اپنی کامیابی کو ثابت کر چکا ہے۔ یعنی ہم موجودہ مسائل اور تحدیات کا مقابلہ اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ کریں۔ مسلمان اپنی طویل تاریخ میں ہمیشہ دعوت کی طاقت سے فتح یاب ہوئے ہیں، اور آج بھی یقینی طور پر اسی کے ذریعہ وہ فتح یاب ہو سکتے ہیں۔
دعوت کی تسخیریت کا راز اس کی نفع بخشی کی صفت ہے۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کے لیے نافع ہو، اس کو لوگوں کے درمیان قبولیت اور جماؤ ملے۔ اسلام سب سے بڑی نفع بخش چیز ہے ۔وہ انسان کی تلاشِ حق کا جواب ہے، وہ انسان کو سچا نظریۂ حیات دیتا ہے۔ وہ انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے، وہ انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ وہ انسان کی اس شاہراہ کی دریافت کراتا ہے جس پر چل کر وہ دنیا سے لے کر آخرت تک محفوظ سفر طے کر سکے۔
بلاشبہ اس سے زیادہ نفع بخش اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔ اس لیے اس سے زیادہ قابلِ قبول چیز بھی انسان کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
اسلام کا یہ تسخیری پہلو ایک معلوم اور مشہور حقیقت ہے۔ اگر آپ کے پاس زیادہ تحقیقی مطالعہ کا موقع نہ ہو تو آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ آپ ریاض سے نکلنے والے عرب ہفت روزہ الدعوہ کو یا مکہ سے نکلنے والے اخبار العالم الاسلامی کو پڑھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے تقریباً ہرشمارہ میں اسلام کی دعوتی تسخیر کی خبریں موجود ہیں۔
مثال کے طور پر اسی مہینہ میں الدعوہ(ریاض) کے شمارہ12 اگست1993ء میں ایک خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی ہوئی ہے کہ900 شخص یعتنقون الاسلام۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چند مہینے میں جنوبی افریقہ میں تقریباً نو سو آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان میں سے چار مسیحی پادری ہیں۔
اسی طرح اسی مہینہ میں العالم الاسلامی(مکہ) کے شمارہ16-22 اگست1993 کے انگریزی حصہ میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کی سرخی یہ ہے
653 Embrace Islam in UAE
اس سرخی کے تحت چھپنے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ 1413ھ کے ایک سال کے دوران صرف عرب امارات میں بیرونی ملکوں کے جو لوگ دین اسلام میں داخل ہوئے ہیں ان کی مجموعی تعداد653 ہے۔
other sourceWords of another person or source
یہ دونوں خبریں صرف بطور مثال نقل کی گئی ہیں۔ ورنہ اس طرح کے دعوتی واقعات ہر روز دنیا کے ہر حصہ میں تقریباً تسلسل کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔
اسلامی دعوت کی اہمیت نظری طور پر بھی مسلّم ہے اور عملی تجربہ میں بھی اس کی افادیت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ دعوت کو باقاعدہ ملی پروگرام قرار دے کر اس کے لیے منظم اور منصوبہ بند عمل شروع کر دیا جائے۔
دعوتی طریق کار کی کامیابی جزئی طور پر آج بھی ظاہر ہو رہی ہے، جب کہ ابھی دعوت کا کام منظم طور پر اور قومی فیصلہ کے تحت انجام نہیں دیا جا رہا ہے۔ پچھلے سو سال میں بےشمار سیاسی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر اس سے ابھی تک کوئی حقیقی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ جب کہ اسی مدت میں دعوت نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کرکے انہیں اسلام کے دائرہ میں داخل کیا ہے۔
اسلام دین فطرت ہے۔ وہ واحد غیر محرف مذہب ہے۔ ہر قسم کی علمی صداقتیں اس کے حق میں جمع ہو چکی ہیں۔ ان چیزوں نے اسلام کو اپنی ذات میں ایک موثر طاقت بنا دیا ہے۔ چنانچہ ہر ملک میں اور دنیا کے ہر علاقہ میں لوگ برابر اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔