Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

اسلامک ایکٹوزم

Urdu · 12 min

اسلام ایک طریق زندگی(way of life) ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی نہ صرف اسلام پر عمل کرے بلکہ وہ دوسروں تک بھی اسے پہنچائے۔ اس اعتبار سے اسلام ایک شخصی رویہ ہونے کے ساتھ ایک عالمی مشن بھی بن جاتا ہے۔

اسلام کو پھیلانے کا طریقہ کیا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلامک ایکٹوزم کیا ہے۔ اسلامک ایکٹوزم دراصل دعوہ ایکٹوزم ہے۔ یعنی ٹکراؤ(confrontation) سے مکمل طور پر اعراض کرتے ہوئے سختی کے ساتھ صرف ترغیب(persuasion) کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا۔ اسلامک ایکٹوزم کا یہ تصور واضح طور پر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔

قرآن میں یہ اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے  فَذَكِّرْ إِنَّما أَنْتَ مُذَكِّرٌ ۔ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ(88:21-22)۔ یعنی، پس تم ان کو نصیحت کرو، تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم ان کے اوپر داروغہ نہیں ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کی ذمہ داری یا اسلامی مشن کا نشانہ لوگوں کے اوپر اسلامی سسٹم کا عملی نفاذ نہیں ہے۔ بلکہ پرامن حدود میں رہتے ہوئے لوگوں کو اسلام سے باخبر کرنا ہے۔ داعیٔ اسلام کی ذمہ داری صرف پیغام کو پہنچانا ہے، اس کے بعد یہ مدعو کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو مانے یا وہ اس کا انکار کر دے۔

یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے  مَا ‌خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ ‌أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3560)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو اَمر میں سے ایک اَمر کا انتخاب کرنا ہوتا تھا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے تھے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ معاملات میں ہمیشہ آدمی کے سامنے دو انتخاب(آپشن) ہوتے ہیں۔ ایک آسان انتخاب(easier option) اور دوسرا مشکل انتخاب(harder option) حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا مشکل انتخاب کو چھوڑ کر آسان انتخاب(easier option) کو لے لینا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اجتماعی معاملات میں یہ واضح ہے کہ ترغیب(persuasion) کا طریقہ مقابلۃً آسان آپشن ہے اور ٹکراؤ کا طریقہ ہمیشہ مشکل آپشن۔ یہ سہل پسندی نہیں ہے۔ یہ دراصل ناقابل عمل کو چھوڑ کر اس کو اختیار کرنا ہے جو قابلِ عمل اورsustainable ہو۔ اس لیے اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ ہر معاملہ میں صرف وہی کورس اختیار کیا جائے جو مقابلۃً آسان ہو۔

موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ پرامن طریقہ (peaceful method) کو اختیار کرتے ہوئے کام کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مگر جہاں تک تشدد کا سوال ہے تو اس کا استعمال کسی کے لیے بھی جائز نہیں۔ اس لحاظ سے زمانہ کے معروف پرامن ذرائع کے دائرہ میں رہتے ہوئے کام کرنا اسلامی طریقہ ہوگا اور متشددانہ ذرائع کو استعمال کرنا یقینی طور پر غیر اسلامی طریقہ قرار پائے گا۔

جہاں تک خلافت یا اسلام کے سیاسی نظام کا سوال ہے، وہ ایک مشروط حکم ہے، نہ کہ مطلق حکم۔ اس کے قیام کے لیے تشدد یا جنگ کا طریقہ اختیار کرنا کسی بھی طرح اسلام میں جائز نہیں۔ کیو ںکہ جب بھی ایسا کیا جائے گا تو موجودہ (existing) نظام سے عملی ٹکراؤ پیش آجائے گا۔ اور قائم شدہ نظام ایسی تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کرے گا۔ اس طرح جو چیز پہلے چھوٹا شر (lesser evil)کے درجہ میں تھی وہ زیادہ بڑا شر(greater evil) کی سطح تک پہنچ جائے گی۔ مزید یہ کہ عملی ٹکراؤ پیش آنے کے نتیجہ میں پرامن دائرہ میں کام کرنے کے مواقع بھی برباد ہو جائیں گے۔ ایسا ہر اقدام قرآن کے الفاظ میں فساد فی الارض(2:205) قرار پائے گا۔ وہ ایک جرم ہوگا ،نہ کہ کوئی اسلامی عمل۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام کا سیاسی نظام ہمیشہ عوام کی مرضی سے قائم ہوتا ہے، نہ کہ عوام کے اوپر بہ جبر اس کو نافذ کرنے سے۔ جبری نفاذ(imposition) نہ تو ممکن ہے اور نہ مطلوب۔

قرآن کے مطابق، دوسروں کے خلاف جنگ کا آغاز کرنا کسی بھی حال میں جائز نہیں(9:13)۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لیے ہے، نہ کہ جارحیت کے لیے(2:190)۔ مزید یہ کہ اگر کوئی گروہ جنگ چھیڑنا چاہے تب بھی آخری حد تک اس سے اعراض کی کوشش کی جائے گی۔ اسلام میں دفاعی جنگ بھی اسی وقت ہے جب کہ فریق ثانی نے عملی جارحیت کرکے دوسرا کوئی انتخاب (option) ہمارے لیے باقی ہی نہ رکھا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمان خواہ کسی مسلم ملک میں ہوں یا غیر مسلم ملک میں، دونوں حالتوں میں انھیں ملک کے دستور اور قانون کا پابند رہنا چاہیے۔ دستور اور قانون کی خلاف ورزی کرنا یا اسلام کے نام پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونا کسی بھی حال میں مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ قانون کی حد ہی ہمارے عمل کی حد بھی ہے۔ جہاں قانونی اجازت کی حد آجائے، اس کے بعد ہمارے لیے صبر ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور قانون شکنی۔

جو مسلمان غیر مسلم ملکوں میں رہتے ہیں، یعنی ان ملکوں میں جہاں کی اکثریت غیر مسلم ہے اور وہاں ان کی مرضی کا سیاسی نظام قائم ہے، وہاں مسلمان کی حیثیت مُعاہد کی ہے، خواہ دونوں کے درمیان لفظی معاہدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ وہاں بسنے والے مسلمانوں کے لیے ملکی قوانین و ضوابط کی پابندی لازمی طور پر ضروری ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کی خلاف ورزی ان مسلمانوں کے لیے جائز نہیں۔

ان غیر مسلم ملکوں کا ہر جگہ اپنا ایک دستور اور قانونی نظام ہے۔ یہ دستوراور قانون کسی چیز کو جائز(lawful) اور کسی چیز کو ناجائز(unlawful) قرار دیتا ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان کسی ایسے ملک میں داخل ہوتا ہے تو اپنے آپ ہی وہ اس ملک کے قانونی نظام کے تحت آ جاتا ہے۔ ایسے مسلمان اور ایسے ملک کے درمیان اپنے آپ ایک خاموش معاہدہ قائم ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ مذکورہ مسلمان اس ملکی نظام کا مکمل طور پر لفظی اور معنوی پابند رہے گا۔ کسی بھی حال میں وہ اس کی کھلی یا چھپی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

ایسی حالت میں کسی غیر مسلم ملک میں بسنے والے مسلمان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ مذکورہ ملک کے قانون کی مکمل پابندی کرکے وہاں رہے، یا اگر اس کو اس سے اختلاف ہے تو خاموشی کے ساتھ ملک کو چھوڑ کر وہاں سے باہر چلا جائے۔ تیسرا انتخاب(option) یعنی ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں مقیم رہنا، یقینی طور پر ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ ایسا عمل سراسر ناجائز ہے۔ جو لوگ اس قسم کا تیسرا انتخاب اختیار کریں وہ اسلامی اصول کے مطابق مجرم ہیں۔ اور وہ بلاشبہ خدا کے یہاں سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔

ملکی نظام کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں اگر نظام سے ٹکراؤ پیش آئے تو وہ دفاع کا مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک مجرمانہ فعل ہوگا۔ ایسے موقع پر شریعت کا حکم یہ ہے کہ مسلمان یک طرفہ واپسی کے ذریعہ ٹکراؤ کی حالت کو ختم کر دیں نہ کہ اس کو دفاع قرار دے کر نظام کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں۔

خلاصہ یہ کہ اسلامک ایکٹوزم صرف وہی ہے جو دعوت کی راہ سے اور دعوت کے اسلوب میں چلائی جائے۔ دعوت کے اسلوب میں کی جانے والی جدوجہد ہی کو اس دنیا میں اللہ کی نصرت ملتی ہے۔ اس لیے صرف وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتی ہے۔ دوسرے اسلوب کی کوئی جدوجہد خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی، خواہ اس کا نام اسلامی اور قرآنی جدوجہد ہی کیوں نہ رکھ دیا گیا ہو۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان کا مشن شہادت حق ہے۔ اور جو لوگ شہادت حق کے لیے اٹھیں انھیں کو خدا کی نصرت و حمایت ملے گی(22:78)۔ پھر جب خدا نے مسلمان کی فتح و نصرت کو دعوت و شہادت سے جوڑ دیا ہو تو کہیں اور سے ہم کس طرح اسے پا سکتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ ان لوگوں کا مدد گار ہوتا ہے جو اللہ کے راستہ پر چلیں اور اللہ کا مقرر کیا ہوا راستہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دعوت کے اصول پر جدوجہد۔

ایک قائم شدہ حکومت کے بارے میں اگر کسی کا احساس ہو کہ اس کا نظام اس کی پسند کے مطابق نہیں ہے، اور وہ پرامن دعوہ ورک بھی کرنا نہیں چاہتا تو ایسی حالت میں اس کے اوپر جہاد نہیں ہے بلکہ ہجرت ہے۔ اس کے لیے ہر گز جائز نہیں کہ وہ اپنی ناپسندیدگی کو عذر بنا کر مذکورہ نظا م کے خلاف لڑائی چھیڑ دے۔ اس کے بجائے اس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضروری حد تک اس نظام سے علیحدہ کر لے۔

اس ہجرت یا علیحدگی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک میدانی ہجرت اور دوسری مکانی ہجرت۔ میدانی ہجرت یہ ہے کہ ایسا آدمی سیاست کے میدان سے ہٹ کر غیر سیاسی دائرہ میں اپنے لیے کوئی مشغولیت تلاش کر لے۔ اور مکانی ہجرت یہ ہے کہ وہ اس ملک کو چھوڑ کر اس کے باہر کسی اور مقام پر چلا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content