برطانیہ میں مختلف نوعیت کے ڈیولپمنٹس ہوئے ہیں۔ جس میں آپ کی مدد درکار ہے۔ ایک تو یہاں الخلافہ کی مہم چل رہی ہے۔ اس کے افراد بہت زیادہ اکسٹریمسٹ واقع ہوئے ہیں۔ ان کی دو لیفلٹس فیکس کر رہا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ یہ ہمارے طلباء کو بھی یہی سکھاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انھیں کالجوں اور یونیورسٹیوں تک سے نکال دیا گیا ہے۔ (کچھ کیسوں میں) مزید برآں اب مسلم سوسائٹیز وغیرہ پر جو ہمارے طلباء آرگنائز کرتے ہیں پر بھی پابندیاں لگنی شروع ہوگئی ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں لوکل لوگوں کے اور داعیوں کے درمیانobstacle پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ لہٰذا گزارش ہے کہ ایک مضمون ایک چھوٹی بکلٹ یا پمفلٹ کی صورت میں شائع کروایا جائے جس کا عنوان ہو
Moral Code of Conduct for Muslims living in non-Muslim lands.
ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان لوگوں سے ڈائرکٹ کنفرنٹیشن (direct confrontation) ہو۔ لیکن اگر ہم اس کے ذریعہ مسلم عوام کو پیغام پہنچا سکیں تو بہت مناسب رہے گا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ صحابہ کرام حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ کیا اس پر کچھ مواد دستیاب ہے۔ کہ انھوں نے وہاں کس طرح زندگی گزاری۔
نوٹ الخلافہ کے لوگ اس پر زور دیتے ہیں کہ کافروں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست ہر گز نہ بنایا جائے۔ کیوں کہ قرآن میں اس ضمن میں واضح احکامات موجود ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ خارج از سیاق بات ہے ورنہ قرآن کریم میں تو ان لوگوں سے رشتہ داریاں کرنے کی بھی چھوٹ ہے۔ جیسے کہ سورہ مائدہ، آیت نمبر50۔ مزید برآں یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کا قانون، کسی بھی ملک کے قانون سے زیادہ احترام کا حامل ہے۔ لہٰذا ہمیں کار انشورنس وغیرہ نہیں کرانی چاہیے۔ کیوں کہ یہ غیر اسلامی ہے، وغیرہ۔
اس قسم کے کام ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے اچھے نتیجے نکلنے والے نہیں ہیں۔(شمشاد محمد خان، برمنگھم)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔