← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
اخری بات
Urdu · 5 min
آخری بات
قرآن سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے مسائل و مشکلات کا واحد حل یہ ہے کہ وہ ان قوموں کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام کریں جن کی طرف سے یہ مسائل اور مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تحدیات اقوام کا مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ کارگر تدبیر دعوت اقوام ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی حسب ذیل آیت ایک فیصلہ کن رہنما کی حیثیت رکھتی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یا أَ یُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(5:67)۔ یعنی، اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی یہ آیت واضح طور پرثابت کرتی ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ امتِ محمدی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ جب وہ قوموں کے اوپر دعوت کا کام کرے تو وہ ان کے مظالم سے پوری طرح محفوظ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جب قرآن میں یہ واضح رہنمائی موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ عصر حاضر کے مسلمان مشکلات و مسائل کا شکار ہونے کے باوجود، دعوت الی اللہ کی منصوص تدبیر کے لیے متحرک نہ ہو سکے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے صبر نہ کر سکنا۔ صبر دعوت الی اللہ کی واحد لازمی قیمت ہے۔ جو لوگ صبر کی قیمت ادا نہ کر سکیں وہ دعوت الی اللہ کا کام بھی نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَلَنَصْبِرَنَّ عَلى مَا آذَيْتُمُونا وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ (14:12)۔ یعنی، اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے اس پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات پیغمبروں نے اپنی مخاطب قوموں سے اس وقت کہی جب کی ان کی قوم ان کی مخالف ہوگئی اور ان پر زیادتیاں کرنے لگی۔ یہ زیادتی اور اذیت دیگر اقوام کی طرف سے ہمیشہ داعی حق کو پیش آتی ہے۔ مگر داعی کو ان تمام زیادتیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کی مثبت نفسیات بھنگ نہ ہونے پائے، تاکہ وہ مخاطبین کی زیادتیوں کو یکطرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے ان کے اوپر دعوت کے عمل کو جاری رکھے۔
اس آیت میں توکل سے مراد اللہ کے اس بتائے ہوئے طریقہ پر یقین کرنا ہے۔ یعنی داعی پوری طرح اس بات پر متوکل ہو جائے کہ وہ مخاطبین کے ظلم کے خلاف براہ راست کوئی کارروائی نہ کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا جو کام ان کے اوپر انجام دے گا۔ وہ پیغام الٰہی کی پیغام رسانی کے ساتھ اس کے قومی مسائل کا بھی یقینی حل بن جائے گا۔
آج اہل اسلام کو اسی توکل علی اللہ کا ثبوت دینا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں اس توکل کا ثبوت دے دیں تو اس کے بعد ان کے تمام مسائل اس طرح حل ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
یہ مقالہ الملتقی الاسلامی الاول لدول آسیا (کولمبو) میں27 اگست1993ء کو پڑھا گیا۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کی وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلامیۃ کے تحت کی گئی۔