← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
اسلام دور جدید میں
Urdu · 13 min
موجودہ زمانہ کے ماہرین علم الانسان عام طور پر مذہب کا مطالعہ ایک سماجی مظہر کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ بات اسلام کے لیے درست نہیں۔ اسلام سماجی حالات کی پیدوار نہیں ہے۔ اسلام ایک الہامی مذہب ہے۔ اور اس بنا پر وہ ابدی طور پر ایک مقدس مذہبی نظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لیے اس کی اس مخصوص نوعیت کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمانہ تو بدلتا رہتا ہے۔ پھر بدلے ہوئے زمانہ میں اسلام کا انطباق کس طرح ہوگا۔ اسلام کو تغیّر پذیر دنیا کے مطابق کس طرح بنایا جائے۔ اس کا جواب قرآن اور دوسرے مذاہب کی مقدس کتابوں، مثلاً بائبل، کا مطالعہ کرکے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح لاتعداد تفصیلات کا مجموعہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام زیادہ تر بنیادی قدروں کا مجموعہ ہے اور زمانی تبدیلی کا ٹکراؤ ہمیشہ تفصیلات کے ساتھ پیش آتا ہے، نہ کہ بنیادی اقدار کے ساتھ۔
مثلاً اسلام میں توحید کی تعلیم دی گئی ہے۔ اور توحید ایک اصول کی حیثیت سے بلاشبہ ایک ابدی حقیقت ہے۔ اسی طرح اسلام میں بعض سنگین سماجی جرائم کے لیے مانع سزا (deterrent punishment) کا قاعدہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس میں حالات کی تبدیلی سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ کم ازکم اب تک ایسا فرق حقیقی طور پر ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ آج بھی سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے مانع سزاؤں کے اصول کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں اصلاح (reform) کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ مگر یہ صرف غلط فہمی کی بنا پر ہے۔ اس سلسلہ میں جو مثالیں دی جاتی ہیں ان کا تعلق خود اسلام سے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے اضافہ سے ہے۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اپنے اضافے سے اسلام کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ خود اسلام میں اصلاح یا نظرثانی کی ضرورت اس سے ثابت نہیں ہوتی۔
مثلاً موجودہ زمانہ میں مسلم علما کے ایک طبقہ نے مغربی علوم کو پڑھنے کو غیر اسلامی قرار دیا۔ یہ ان علما کا غلط فیصلہ تھا۔ اس کا کوئی تعلق اسلام سے نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے۔
یہی معاملہ جمہوریت کا ہے۔ بعد کے زمانہ میں کچھ مسلم قوموں میں بادشاہت کا نظام قائم ہوگیا۔ آج بھی کئی مسلم ملکوں میں ایسا ہی سیاسی نظام پایا جاتا ہے۔ مگر وہ کسی بھی درجہ میں اسلامی تعلیمات کا نتیجہ نہیں۔ وہ ایک سیاسی بگاڑ ہے جو بعد کو مسلم ملکوں میں پیش آیا۔ اسلام کا اصل نمونہ وہ ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں قائم ہوا تھا۔ اور یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کے اس ابتدائی دور میں اعلیٰ ترین جمہوری نظام قائم تھا۔ جس کو قرآن میں شورائی نظام کہا گیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام ہی وہ نظام ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار بادشاہت کو ختم کرکے جمہوریت کی بنیاد پر سیاست کا نظام قائم کیا۔ اس تاریخی حقیقت کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصلاح کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے جو مثالیں پیش کی جاتی ہیں ان کا تعلق اسلام میں اصلاح سے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے عملی انحرافات میں اصلاح سے ہے۔ اس قسم کا عمل یقینی طور پر ضروری ہے۔ مگر ایسا کرنا زیادہ صحیح لفظوں میں، خارجی اور اجنبی اثرات سے اسلام کو پاک کرنا ہوگا نہ کہ خود اسلام کی اصلاح کرنا۔
تاہم زمانہ کی تبدیلی سے حقیقی اسلام کے لیے بھی بعض اوقات مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ مسائل ہیں جن کے لیے اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر یہاں اجتہاد سے مراد اسلام کے حکم کا دوبارہ انطباق (reapplication) ہے، نہ کہ اسلام کے اصل احکام میں تبدیلی یا اصلاح۔
مثلاً دور اول کے اسلام میں تاریخوں کے تعین کے لیے چاند کی رویت پر بنیاد رکھی گئی تھی۔ اب فلکیاتی مشاہدہ کے نئے علمی ذرائع دریافت ہونے کے بعد رصدگاہ کے ذریعہ کلنڈر کا تعین کیا جائے گا۔ تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا یہ اسلام کی اصلاح یا اس کو اَپ ڈیٹ کرنا نہیں ہوگا بلکہ وہ اسلام کے حکم کا ازسرنو انطباق ہوگا۔ اس قسم کی مثالوں سے اسلام میں نظرثانی کے نظریہ کو ثابت کرنا درست نہیں۔
عورت کے بارے میں اسلام کا جو حکم ہے اس کو اکثر اس سلسلہ میں بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ قدیم حالات کے زیر اثر اسلام میں عورت کا سماجی رتبہ کم کیا گیا تھا۔ اب نئے حالات میں ضرورت ہے کہ اسلام کی اس غلطی کو درست کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی کا کیس ہے۔ اس موضوع پر میں نے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے جو خاتون اسلام کے نام سے چھپ چکی ہے۔ خلاصہ یہ کہ عورت کے بارے میں اسلام کا جو حکم ہے اس کا تعلق ایک عملی ضرورت سے ہے، نہ کہ ایک جنس کو برتر اور دوسری جنس کو کم تر قرار دینے سے۔ اس معاملہ میں جدّت پسند حضرات کا نقطۂ نظر مختصر طور پرequal so equal ہے۔ جب کہ اسلام کا اصول اس معاملہ میں یہ ہے کہ
equal but different
اس معاملہ میں اسلام کی پوزیشن یہ ہے کہ جہاں تک عزت اور احترام کا سوال ہے، اس اعتبار سے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں۔ حقوق کے معاملہ میں بھی دونوں کے درمیان برابری کا اصول قائم کیا گیا ہے۔ تاہم عملی زندگی میں دونوں کا مقام عمل(workplace) بنیادی طورپر الگ الگ ہے۔ عورت کا مقام عمل بنیادی طور پر داخل(indoor) ہے اور مرد کا مقام عمل بنیادی طور پر خارج(outdoor) ہے۔
دونوں کے درمیان یہ تقسیم یقینی طور پر افضل اور غیر افضل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ حیاتیاتی فرق کی بنا پر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت پیدائشی طور پر نازک جنس ہے۔ اور مرد پیدائشی طور پر سخت جنس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے زندگی کے عملی انتظام میں دونوں کے لیے وہ کام دیا گیا ہے جو ان کی پیدائشی ساخت کے مطابق ہو۔ اس قسم کی تقسیم ایک عمومی عملی ضرورت ہے اور وہ ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ عورت اور عورت اور اسی طرح مرد اور مرد کے درمیان بھی اسی فطری فرق کی بنا پر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
اسی لیے اسلام میں زندگی کا عملی انتظام مقرر کرتے ہوئے دونوں کے لیے وہ کام دیا گیاہے جو ان کی پیدائشی ساخت کے مطابق ہو۔ اس تقسیم کا تعلق ہرگز قدامت پسندی سے نہیں ہے۔ وہ صرف فطرت کا اعتراف ہے۔ فطرت نے پیدائشی طورپر عورت اور مرد میں فرق رکھا ہے۔ یہ فطری فرق اتنا حتمی ہے کہ جن سماجوں میں اس تقسیم کو نظری طور پر تسلیم نہیں کیاگیا ہے وہاں بھی فطرت کے دباؤ کے تحت عملاً یہی تقسیم قائم ہے۔
مثلاً مغربی ملکوں میں عورت کو کامل آزادی دینے کے باوجود مذکورہ تقسیم کو ختم نہ کیا جا سکا۔ آج بھی وہاں کے تمام بڑے بڑے خارجی شعبوں میں مرد ہی کا غلبہ ہے۔ عورت کو نسبتاًصرف ہلکے شعبوں میں جگہ ملی ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عورت اپنی پیدائشی ساخت کی بنا پر کمپیوٹر کے نازک کی بورڈ پر تو انگلیاں چلا سکتی تھی مگر عورت کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ کمپیوٹر فیکٹری میں بھاری بھر کم اور مشقت والے کام کو بخوبی طور پر انجام دے سکے۔
قرآن میں کہا گیا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں اور کچھ آیتیں متشابہ ہیں(3:7)۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ مطلب نکالا ہے کہ قرآن کی بہت سی تعلیمات تمثیل اور استعارہ کی زبان میں ہیں اور ان کو حقیقی مفہوم دینے کے لیے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً چور کا ہاتھ کاٹ دو، کے قرآنی حکم کا مطلب ان کے نزدیک لفظی طور پر ہاتھ کاٹنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک مجازی اسلوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو چوری کرنے سے روک دو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
محکم اور متشابہ کے الفاظ سے یہ استدلال درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کی آیتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم کی آیتوں کا تعلق معلوم دنیا سے ہے اور دوسری قسم کی آیتوں کا تعلق غیبی دنیا سے۔
محکم آیتیں معلوم دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ چور کی سزا کا تعلق بھی اسی دنیا سے ہے۔ چنانچہ ایسی آیتوں میں قرآن براہ راست زبان میں کلام کرتا ہے۔
متشابہ آیتیں وہ ہیں جن کا تعلق غیبی دنیا سے ہے۔ یہاں قرآن نے تمثیل کا اسلوب اختیار کیا ہے۔ کیوں کہ ایسے امور کو براہ راست اسلوب میں بیان کرنا ممکن نہ تھا۔ مثلاً ’’خدا کا ہاتھ‘‘ کا لفظ جہاں آتا ہے وہ لفظی معنوں میں نہیں ہے۔ اس سے مراد ہاتھ والی صفت ہے۔ یعنی پکڑ کی طاقت۔
اسلام دراصل فطرت کا نظام ہے۔ فطرت کے جو اصول ساری کائنات میں ابدی طور پر چل رہے ہیں انھیں اصولوں کو انسانی زندگی میں چسپاں کرنے کا نام اسلام ہے۔ جس طرح عالم فطرت کے اصول ابدی ہیں اسی طرح اسلام کے اصول بھی ابدی ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔اسلام میں نظرثانی کی بات کرنا اتنا ہی غیر متعلق (irrelevant) ہے جتنا کہ قانون فطرت میں نظرثانی کا مطالبہ کرنا۔