← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
ایک سوال کا جواب
Urdu · 4 min
مقالہ نگار نے آخر میں لکھا ہے کہ میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ بہت سے ممتاز اور فکر مند ارباب علم ہیں جو اس کو ناممکن پاتے ہیں کہ وہ میرے مذہبی عقائد سے اتفاق کریں ، اگرچہ وہ اس موضوع کو انتہائی سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ لے رہے ہوتے ہیں۔ اور میں اس بات کا اقرار کروں گا کہ دنیا میں اتنی زیادہ برائیاں اور اتنی زیادہ مصیبتیں اس عقیدہ کے خلاف شہادت دیتی ہیں کہ یہاں کوئی قادر مطلق خدا ہے جو اپنی مخلوقات سے محبت کرتا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And I have to acknowledge that the existence of so much evil and suffering in the world counts against any vision of an all-powerful and loving God. )p.7)
میں کہوں گا کہ برائی ایک اضافی لفظ ہے۔ کوئی بظاہر برائی صرف اس وقت برائی ہے جب کہ اس کی توجیہ نہ کی جا سکتی ہو۔ ڈاکٹر ایک مریض کے جسم پر نشتر چلاتا ہے۔ جج ایک مجرم کو سولی پر چڑھانے کا حکم نافذ کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک ظلم ہے۔ مگر ہم اس کو برا نہیں کہتے۔ کیوں۔ صرف اس لیے کہ ہمارے پاس ڈاکٹراور جج کے فعل کی معقول توجیہ موجود ہے۔ یہی معاملہ اس برائی کا ہے جس کی طرف مقالہ نگار نے اشارہ کیا۔
پہلی بات یہ ہے کہ یہاں جو برائی ہے وہ صرف انسانی معاشرہ میں ہے ، ساری کائنات میں نہیں ہے۔ انسان کی محدود دنیا کو چھوڑ کر جو وسیع کائنات ہے ، وہ انتہائی معیاری ہے۔ وہ مکمل طور پر نقص اور خرابی سے پاک ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ انسانی دنیا میںکیوں برائی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کو جاننا ہو گا۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ ہی وہ واحد کسوٹی ہے جس پر جانچ کر اس کی نوعیت کو متعین کیا جا سکتا ہے۔
خدا کا تخلیقی منصوبہ جو اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بتایا ہے ، وہ یہ ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں ا نسان کو آزمائش (ٹسٹ) کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسی آزمائش کے ریکارڈ کے مطابق ہر آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آزمائش کی اس مصلحت ہی کی بنا پر آدمی کو یہاں آزادی دی گئی ہے۔ اگر آدمی کو آزادی نہ دی جائے تو آزمائش کی بات بالکل بے معنی ہو جائے۔
مذکورہ برائی دراصل اسی آزادی کی قیمت ہے۔ خدا ان انسانوں کا انتخاب کرنا چاہتا ہے جو آزادی پانے کے باوجود بااصول اور پابند زندگی (disciplined life) گزاریں۔ ایسے انسانوں کے انتخاب کے لیے بہرحال آزادی کا ماحول بنانا ہو گا۔ اگرچہ آزادی کے اس ماحول کی بنا پر کچھ لوگ ظلم بھی کریں گے۔ مگر یہ ایک ناگزیر قیمت ہے جس کو دیےبغیر وہ تخلیقی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا جس سے بہتر تخلیقی منصوبہ اس دنیا کے لیے قابل تصور نہیں۔
موجودہ دنیا صرف اس وقت بے معنی دکھائی دیتی ہے جب کہ اس کو آخرت کے بغیر ایک مستقل دنیاکے طور پر دیکھا جائے۔ مگر جب ہم موجودہ دنیاکو آخرت کی دنیا سے ملا کر دیکھتے ہیں تو سارا معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اب وہ انتہائی بامعنی بھی ہو جاتی ہے اور انتہائی قابل قدر بھی۔