← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
عقیدہ اور استدلال
Urdu · 27 min
مانچسٹر کالج، آکسفورڈ (انگلینڈ) سے ایک جرنل نکلتا ہے۔ اس کا نام فیتھ اینڈ ریزن (Faith and Reason) ہے۔ اس کے شمارہ نمبر 134(1992ء) میں ڈاکٹر پال بیڈھم (Paul Badham) کا ایک مقالہ شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے ایمان اور عقلیت کے درمیان تعلق
The Relationship between Faith and Reason
پروفیسر بیڈھم نے اپنا یہ مقالہ نومبر 1991ء میں ماسکو کی ایک فلسفیانہ کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ ان کی بابت مذکورہ جرنل میں یہ الفاظ درج ہیں
other sourceWords of another person or source
Dr. Paul Badham is a Professor of Theology and Religious Studies at St. David's College, Lampeter, in the University of Wales. His paper in this issue had been presented at a Conference of the Institute of Philosophy of the Russian Academy of Science in Moscow in November 1991.
اس مقالہ کا مکمل اردو ترجمہ اسلام اور عصر جدید (نئی دہلی) کے شمارہ اپریل 1992ء میں چھپ چکا ہے۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر سید جمال الدین صاحب کے قلم سے ہے۔ میرے سامنے اصل انگریزی جرنل کا مذکورہ شمارہ ہے۔
پروفیسر بیڈھم کا یہ مقالہ اپنے موضوع پر ایک فکر انگیز مقالہ کہا جا سکتا ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ اس کا مطالعہ کیا جائے۔ تاہم پروفیسر موصوف نے بعض باتیں ایسی کہی ہیں جن سے راقم الحروف کو اتفاق نہیں۔ انھوں نے اپنے مقالہ میں یہ لکھا ہے کہ فلسفیانہ قطعیت (philosophical certainty) کو مذہبی ایقان (religious certitude) کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مذہبی فلاسفر کی حیثیت سے میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ ایمان کو کبھی بھی سائنسی علم والی قطعیت کے درجہ پر نہیں رکھا جا سکتا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
As a philospher of religion I feel compelled to acknowledge that faith could never be placed on the same level of certainty as scientific knowledge. (p.6)
مگر اس کے برعکس،میرا احساس یہ ہے کہ ایمان و عقیدہ کو اسی قطعیت کے درجہ میں مانا جا سکتا ہے جس درجہ میں سائنسی نظریات کو مانا جاتاہے۔ کم از کم بیسویں صدی میں اب دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔
اصل یہ ہے کہ علم حقائق دو قسم کی چیزوں پرمشتمل ہے۔ ایک وہ جس کو برٹرینڈرسل نے چیزوں کا علم (knowledge of things) کہا ہے اور دوسرا وہ جس کو وہ حقیقتوں کا علم (knowledge of truths) کہتا ہے۔ یہ دوگانہ تقسیم مذہب میں بھی ہے اورسائنس میں بھی۔ مثلاً جو علماءِ سائنس حیاتیاتی ارتقاء کو سائنسی حقیقت کہتے ہیں ان کے نزدیک اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے مختلف انواع (species) کے جسمانی مظاہرہ کا معاملہ۔ اور دوسرا ہے وہ قانونِ ارتقاء جو انواع کی تبدیلیوں کے درمیان مخفی طور پر جاری رہتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک ارتقائی عالم جب انواع حیات کے جسمانی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے تو گویا کہ وہ ’’اشیاء ‘‘ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جب وہ ارتقائی قانون کا مطالعہ کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے موضوع کے اس پہلو کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں ’’حقیقت‘‘ کہا گیا ہے۔
ہر ارتقائی عالم جانتا ہے کہ دونوں پہلوؤں کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں جہاں تک اشیاء یا شواہد ارتقاء کے مطالعہ کا تعلق ہے ، اس کے سلسلہ میں براہ راست دلائل قابل حصول ہیں۔ مثال کے طور پر متحجرات (fossils) جو کھدائی کے ذریعہ زمین کی تہوں سے کثرت سے برآمد کیے گئے ہیں ، ان کا مطالعہ مشاہداتی سطح پر ممکن ہے۔
اس کے برعکس، حقائق یا قانون ارتقاء کے معاملہ میں موضوعی شواہد نہ ہونے کی وجہ سے اس پر براہِ راست استدلال ممکن نہیں۔ مثلاً ارتقائی عمل کے دوران اشکال میں اچانک تبدیلیوں (mutations) کا نظریہ، جو تمام ترقیاسات پر مبنی ہے، نہ کہ براہ راست مشاہدات پر۔ اس دوسرے معاملہ میں خارجی تغیر تو دکھائی دیتا ہے ، مگر قانونِ تغیر بالکل نظر نہیں آتا۔ اسی لیے ہر عالم ارتقاء موضوع کے اس دوسرے پہلو میں بالواسطہ استدلال سے کام لیتا ہے جس کو علم منطق میں استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔
تبدیلی کا یہ نظریہ ارتقاء کی بنیاد ہے۔ تاہم اس معاملہ کے دو حصے ہیں۔ اس کاایک جزء مشاہدہ میں آتا ہے۔ مگر اس کا دوسرا جزء مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ ہے۔ وہ صرف استنباط کے اصول سے کام لے کر فلسفۂ ارتقاء میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ ایک عام واقعہ ہے کہ انسان یا جانور سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب ایک ہی قسم کے نہیں ہوتے۔ ان میں مختلف اعتبار سے کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس حیاتیاتی مظہر کا سائنسی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ رحم مادر میں بچہ کے جینز کے اندر اچانک طور پر خودبخود تبدیلیاں (spontaneous changes) پیدا ہوتی ہیں۔ یہی تبدیلیاں ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بچوں میں فرق کا سبب ہیں۔
اولاد میں ایک دوسرے کے درمیان یہ فرق ایک مشاہداتی واقعہ ہے۔ مگر اس کے بعد اس مشاہدہ کی بنیاد پر جو ارتقائی فلسفہ بنایا گیا ہے وہ خود مکمل طور پر ناقابلِ مشاہدہ ہے اور صرف قیاسی استنباط کے ذریعہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ گویا اشیاء ارتقاء قابل مشاہدہ ہیں اور حقائق ارتقاء ناقابل مشاہدہ۔
یہاں ارتقائی عالم یہ کرتاہے کہ ایک سرے پروہ ایک بکری کو رکھتا ہے اور دوسرے سرے پر ایک زرافہ کو۔ اس کے بعد وہ فاسل کے کچھ درمیانی نمونوں کو لے کر یہ نظریہ بناتا ہے کہ ابتدائی بکری کے کئی بچوں میں سے ایک بچہ کی گردن اتفاقاً کچھ لمبی تھی۔ اس کے بعد اس لمبی گردن والی بکری کی اولاد ہوئی تو اس میں گردن کی یہ لمبائی کچھ اور بڑھ گئی۔ اسی طرح کروڑوں سال کے دوران گردن کی یہ لمبائی نسل در نسل جمع ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ابتدائی بکری کی اگلی اولاد آخر کار زرافہ جیسا جانور بن گئی۔ اسی نظریہ کے تحت چارلس ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع میں لکھا ہے کہ مجھ کو یہ بات تقریباً یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ایک معمولی کھردار چوپایہ زرافہ جیسے جانور میں تبدیل ہو سکتا ہے
quoted sourceQuoted from another author or source
…it seems to me almost certain that an ordinary hoofed quadruped might be converted into a giraffe. )p.169(
other sourceWords of another person or source
اس معاملہ میں بکری کی اولاد میں فرق ہونا بذات خود ایک معلوم واقعہ ہے۔ مگر اس فرق کا کروڑوں سال تک نسل در نسل جمع ہوتے ہوئے اس کا زرافہ بن جانا ، مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ اور ناقابل تجربہ ہے۔ وہ صرف ایک نوع اور دوسری نوع میں مماثلت اورفاسلز کے مشاہدہ کی بنیاد پر استنباط کے ذریعہ اخذ کیا گیا ہے۔ نہ کہ براہ راست طور پر خود ایک نوع سے دوسری نوع کے ارتقائی مشاہدہ کے ذریعہ۔
ٹھیک یہی معاملہ مذہب کے موضوع کا بھی ہے۔ مذہب کے مطالعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ اس کی تاریخ، اس کی شخصیات ، اس کے احکام اور اس کے رسوم و رواج کا مطالعہ کریں۔ یہ مذکورہ تقسیم کے مطابق گویا اشیاء مذہب کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس پہلو سے مذہب میں بھی موضوعی معلومات دستیاب ہیں۔ اس لیے یہاں مذہب کا مطالعہ بھی ٹھیک اسی طرح براہ راست شواہد کی بنیاد پرکیا جا سکتا ہے جس طرح حیاتیاتی ارتقاء کے حصہ اول میں کیاجاتا ہے۔
مذہب کے مطالعہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو عام طور پر غیبیات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ وہ عقائد ہیں جو ہماری محسوس دنیا سے ماورا ہیں۔ یعنی خدا اور فرشتوں کا وجود ، وحی کی حقیقت، جنت اور دوزخ کا عقیدہ وغیرہ۔ مذہب کے اس دوسرے پہلو میں براہ راست شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس لیے اس اعتبار سے مذہب کامطالعہ اس منطقی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا جس کو شواہد کی بنیاد پر استنباط کہا جاتا ہے۔ یعنی وہی منطقی اصول جس کو علما ارتقاء اپنے نظریہ کے دوسرے پہلو کے مطالعہ میں استعمال کرتے ہیں۔
اس تجزیہ کی روشنی میں دیکھئے تو مذہب اورسائنس دونوں کا معاملہ بالکل یکساں ہے۔ دونوں ہی میں دو الگ الگ حصے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جو علمی قطعیت (scientific certainty) پر قائم ہے اورجس میں براہ راست استدلال ممکن ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو علمی استنباط (scientific inference) پر مبنی ہے اور جس کو ثابت کرنے کے لیے صرف بالواسطہ استدلال کا اصول استعمال کیا جاتا ہے۔ اس علمی تقسیم کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو دونوں میں کوئی فرق نظرنہیں آئے گا۔
پروفیسر بیڈھم کا غیر ضروری احساس کمتری اس لیے ہے کہ وہ مذکورہ فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے کو گڈمڈ کر رہے ہیں۔ اور غیر صحیح تقابل کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ وہ سائنس کے پہلے جزء کا مقابلہ مذہب کے دوسرے جزء سے کر رہے ہیں اور مذ ہب کے دوسرے جزء کو سائنس کے پہلے جزء کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ اس غیر صحیح تقابل نے وہ صورت پیدا کی ہے جو ان کے مقالہ میں نظر آتی ہے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
اگر پروفیسر موصوف سائنس کے پہلے جزء کا مقابلہ مذہب کے پہلے جزء سے کریں اور اسی طرح سائنس کے دوسرے جزء کو مذہب کے دوسرے جزء کی روشنی میں دیکھیں تو ان کا احساس کمتری ختم ہو جائے۔ وہ یہ محسوس کرنے لگیں کہ خالص اصولی اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ سائنس کے دونوں اجزاء میں دو الگ الگ طرز استدلال استعمال کیا جاتا ہے۔ سائنس کے پہلے جزء میں جو استدلال مستعمل ہے وہ مذہب کے بھی پہلے جزء میں قابل حصول ہے۔ اسی طرح سائنس کے دوسرے جزء میں جو استدلال استعمال ہوتا ہے وہی مذہب کے دوسرے جزء میں بھی عین ممکن ہے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف برٹرینڈرسل جیسے شخص نے کیا ہے جو فلسفۂ الحاد کا امام سمجھا جاتا ہے۔ برٹرینڈرسل کی ایک کتاب ہے جس کانام ہے میں عیسائی کیوں نہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Why I am not a Christian?
اس کتاب کے آغاز میں برٹرینڈرسل نے اس پر بحث کی ہے کہ معقول استدلال کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ میرا ذاتی عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب بدھ ازم ، ہندوازم، مسیحیت اور اسلام غلط اور بے حقیقت ہیں۔ منطقی طور پر ان کی معقولیت کو ثابت کرنا ممکن نہیں۔ جو لوگ مذہب کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اس کو اپنی قومی روایات کے زور پر اختیار کیے ہوئے ہیں، نہ کہ دلائل کے زور پر۔
other sourceWords of another person or source
تاہم برٹرینڈرسل نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل مذہب کے دلائل میں سے ایک دلیل ایسی ہے جو خالص منطقی یا غیر علمی نہیں۔ میری مراد اس چیز سے ہے جس کو نظم سے استدلال کہا جاتا ہے۔ تاہم اس دلیل کو ڈارون نے رد کر دیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
There is one of these arguments which is not purely logical. I mean the argument from design. This argument, however, was destroyed by Darwin.
برٹرینڈرسل کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے وجود پر اس طرح استدلال کیا جاتاہے کہ دنیا میں جب نظم ہے تو ضروری ہے کہ اس کا ایک ناظم ہو۔ یعنی جب ڈیزائن ہے تو ڈیزائنر کا ہونا بھی لازمی ہے۔ برٹرینڈرسل اعتراف کرتاہے کہ یہ طریق استدلال اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی طریق استدلال ہے جس کو سائنسی نظریات کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس اعتراف کے باوجود برٹرینڈرسل یہ کہہ کر اس کو قبول نہیں کرتا کہ ڈارونزم نے اس کو رد کر دیا ہے۔
other sourceWords of another person or source
مگر یہ سراسر ایک بے بنیاد بات ہے۔ کیوں کہ ڈارون کے نظریہ کا تعلق خالق (creator) کے وجود سے نہیں ہے بلکہ خالق کی تخلیق (creation) کے عمل سے ہے۔ ڈارونزم کا خلاصہ یہ ہے کہ مختلف انواع جو دنیا میں دکھائی دیتی ہیں وہ الگ الگ تخلیق نہیں کی گئی ہیں بلکہ ایک ہی نوع لمبے ارتقائی عمل کے درمیان مختلف انواع میں تبدیل ہو گئی۔
ظاہر ہے کہ اس نظریہ کا کوئی تعلق خدا کے وجود یا عدم وجود سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق عملِ تخلیق سے ہے، نہ کہ کار سازِ تخلیق سے۔ یعنی پہلے اگر یہ عقیدہ تھا کہ خدا نے ہر ہر نوع کو الگ الگ پیدا کیاہے تو اس کو ماننے کی صورت میں اب یہ عقیدہ ہو جائے گا کہ خدا نے ایک ابتدائی نوع ایسی پیدا کی جس کے اندر امکانی طور پر بے شمار انواع میں تقسیم ہونے کی صلاحیت تھی۔ اور پھر اس نے اس کے موافق کائنات میں ایک نہایت محکم فطری پراسس جاری کر دیا۔ اس طرح لمبے پراسس کے دوران ابتدائی نوع اپنے امکانات (potential) کو ظاہر کرتی ہوئی بے شمار انواع میں تبدیل ہو گئی۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیںکہ نظریۂ ارتقاء ذات خدا وندی کا مطالعہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف اس بات کا مطالعہ ہے کہ خدا نے اپنی قدرت کو کس طرح عالم کائنات میں ظاہر کیا ہے۔ چنانچہ خود ڈارون نے اپنی مشہور کتاب اصل الانواع (Origin of Species)کے آخرمیں یہ الفاظ درج کیے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زندگی کے اس نقطۂ نظر میں بڑی عظمت ہے کہ اپنی مختلف طاقتوں کے ساتھ ابتداءً خالق نے زندگی کو ایک یا کئی شکلوںمیں وجود دیا۔ اوراس اثناء میں جب کہ یہ سیارہ کشش ثقل کے مقرر قانون کے تحت گردش کر رہا تھا ، اتنے زیادہ سادہ آغاز سے لاتعداد انتہائی خوبصورت اور عجیب صورتیں بن کر تیار ہو گئیں
There is grandeur in this view of life, with its several power, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one;and that, whilst this planet has gone cycling on according to the fixed law of gravity, from so simple a beginning endless forms most beautiful and most wonderful have been, and are being evolved. )p.408(
حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں جو نئے عالمی حقائق دریافت ہوئے ہیں انھوں نے منطق کی دنیا میں ایک انقلاب عظیم برپا کر دیا ہے۔ اب مذہبی استدلال اور علمی استدلال (scientific argument) کا وہ فرق ختم ہو چکا ہے جو بیسویں صدی سے پہلے خلاف واقعہ طور پر فرض کر لیا گیا تھا۔ اب استدلال کے اعتبار سے سائنس کا معاملہ بھی ٹھیک اسی مقام پر پہنچ چکا ہے جو پہلے صرف مذہب کے لیے سمجھا جاتا تھا۔
نیوٹن (1727-1642) نے خصوصی طور پر نظام شمسی کا مطالعہ کیا۔ اس نے سورج کے گرد سیاروں کی گردش کے قوانین معلوم کیے۔ اس کا یہ مطالعہ زیادہ تر آسمانی اجرام (astronomical bodies) تک محدود تھا۔ اس کو دوسرے لفظوں میں عالم کبیر (macro-world) کا مطالعہ کہہ سکتے ہیں۔ عالم کبیرمیں یہ ممکن ہوتا ہے کہ چیزوں کو دیکھا اور ناپا اور تولا جا سکے۔ اس بنا پر فوری تاثر کے تحت بہت سے لوگوں کا یہ ذہن بن گیا کہ حقیقت قابل مشاہدہ ہے اور صحیح اور جائز استدلال وہی ہے جو مشاہداتی دلائل پر مبنی ہو۔ اسی تصور کے تحت وہ فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پازیٹیوزم (positivism) کہا جاتا ہے۔
مگر بیسیویں صدی کے رُبع اول میں وہ حقائق دریافت ہوئے جنھوں نے مذکورہ ابتدائی نظریات کا جڑ سے خاتمہ کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالم ظاہر کے اندر زیادہ بڑے پیمانے پر ایک عالم غیر ظاہر موجود ہے۔ اس عالم غیر ظاہر کو سمجھنا یا اس پر دلیل قائم کرنا صرف بالواسطہ انداز میں ممکن ہے۔ یعنی کسی چیز کے اثرات (effects) کو دیکھ کر اس چیز کی موجودگی کا علم حاصل کرنا۔
اس انکشاف نے سارے معاملہ کو بدل دیا۔ انسانی علم کی رسائی جب تک عالم کبیر تک محدود تھی وہ مذکورہ غلط فہمی میں مبتلا رہا۔ مگر جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو علمی صورتحال اپنے آپ بدل گئی۔
اب معلوم ہوا کہ براہ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آ رہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباط یا بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابل عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں رانٹجن (Wilhelm Conrad Rontgen) نے 1895ء میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثر (effect) ظاہر ہو رہا ہے جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابل مشاہدہ شعاع (invisible radiation) ہے جو 186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانٹجن نے اس کا نام ایکسرے (X-rays) رکھ دیا۔( انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، جلد19، صفحہ1058)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیسویں صدی میں اکسریز جیسی بہت سی چیزیں دریافت ہوئیں جو براہ راست انسانی مشاہدہ میں نہیں آ رہی تھیں۔ تاہم ان کے اثرات جو علم میں آئے ان کی بنا پر ان کے وجود سے انکار کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ ان جدید تحقیقات کے نتیجہ میں جس طرح علم کے دوسرے شعبوں میں تبدیلیاں ہوئیں ، اسی طرح اس نے علم منطق میں بھی تبدیلیاں کیں۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ کیوں کہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا، وغیرہ ۔
موجودہ زمانہ میں معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول (valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید دریافت شدہ نظریات ثابت کیے جا رہے تھے ، عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقائد بھی پوری طرح ثابت ہو رہے تھے۔ اس کے بعد وہ استدلالی فرق ختم ہو گیا جو پہلے دونوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔