دوسرے مذاہب کے لوگ نہایت آسانی سے ریفارم کے لیے راضی ہو جاتے ہیں، جب کہ اسلام کے علما ہمیشہ ریفارم کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ رائے قائم کر لی ہے اسلام ایک جامد مذہب ہے۔ اس لیے وہ اپنے اندر ریفارم کی اجازت نہیں دیتا۔
اصل یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ اور غیر محرف مذہب ہے، اور دوسرے مذاہب تبدیلیوں کے نتیجہ میں محرف ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کسی ریفارم کا محتاج نہیں، جب کہ دوسرے مذاہب کا معاملہ یہ ہے کہ ریفارم ان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔
مثال کے طور پر بعض مذاہب میں غیر شادی شدہ زندگی کو افضل زندگی بتایا جاتا ہے۔ یہ اصل مذہب میں تحریف ہے۔ اب چونکہ اس تحریف نے ان مذاہب کی نکاح کے بارے میں تعلیم کو غیر فطری بنا دیا ہے، اس لیے جب ان مذاہب میں ریفارم کی بات کہی جائے تو لوگ فوراً اس کو پسند کرتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کا مذہب ایک غیر فطری اور غیر عقلی تعلیم سے پاک ہو جائے گا۔
مگر اسلام میں اس طرح کی غیر فطری تعلیم موجود نہیں۔ اسلام چونکہ محفوظ مذہب ہے، اس لیے اس طرح کے اضافات بھی اس میں شامل نہ ہو سکے۔ اس معاملہ میں اسلام اور غیراسلام کا فرق محفوظ اور غیر محفوظ ہونے کی بنا پر ہے، نہ کہ جامد اور غیر جامد ہونے کی بنا پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔