خلافِ راشدہ کے بعد بھی برابر اجتہاد کا سلسلہ جاری رہا۔ انھیں میں سے ایک نمایاں مثال وہ ہے جو امام حسین بن علی کے بعد سامنے آئی۔ امام حسین نے 61ھ میں بنوامیہ کے حکمراں یزید بن معاویہ کے خلاف خروج کیا۔ ان کی بابت مؤرخین یہ الفاظ لکھتے ہیں رَفَضَ مُبَايَعَةَ يَزِيدَ وَدَعَا إِلَى تَبْدِيلِ الحُكْمِ الاِسْتِبْدَادِيِّ الفَرْدِيِّ۔ یعنی، انھوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کیا اور اس کی شخصی اور استبدادی حکومت کو ختم کرنے کی تحریک چلائی ۔ جیسا کہ معلوم ہے، کربلا کے میدان میں امام حسین کے قافلہ اور یزید کی فوج کے درمیان مسلّح ٹکراؤ ہوا۔ اس میں امام حسین اور ان کے بیشتر ساتھی شہید ہو گئے۔ مزید یہ کہ حکمرانوں کے مظالم پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئے ۔
اپنے ظاہر کے اعتبار سے امام حسین کا یہ اقدام ایک اچھے مقصد کے لیے تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ظالمانہ نظام حکومت ختم ہو اور اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام حکومت قائم ہو جائے۔ مگر باعتبار نتیجہ وہ الٹا (counter-productive) ثابت ہوا۔
اس طرح کے تجربات کے بعد فقہ میں ایک مستقل اصول بنایا گیا جس کو تَرْكُ المَصْلَحَةِ لِمَفْسَدَةٍ أرْجَحَ مِنْهَا کہا جاتا ہے۔ یعنی، ایک درست کام بھی اس وقت نہ کرنا جب کہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلنے والا ہو۔ اس اصول کے تحت علما نے اس پر اتفاق کر لیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف ہرگز خروج (بغاوت )نہ کیا جائے۔
ابن کثیر (م 774ھ) نے اس مسئلہ پر مفصل بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام اگر فاسق ہو تو محض فسق کی بنا پر اس کو معزول نہیں کیا جائے گا۔ اور اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہو گا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں فتنے بھڑکتے ہیں (وَالْإِمَامُ إِذَا فَسَقَ لَا يُعْزَلُ بِمُجَرَّدِ ذَلِكَ، وَلَا يَجُوزُ الْخُرُوجُ عَلَيْهِ؛ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ إِثَارَةِ الْفِتْنَةِ)البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، جلد8، صفحہ223-224۔
النووی (م 676ھ) نے صحیح مسلم (کتاب الفتن) کی شرح میں اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مسلم حکمراں اگر منکرات کا ارتکاب کرے تو اس کو صرف قولی نصیحت کی جا سکتی ہے۔ اور جہاں تک حکمراں سے بغاوت اور جنگ کا تعلق ہے تو وہ اجماع مسلمین کے تحت حرام ہے ، خواہ وہ فاسق ہوں ، خواہ وہ ظالم ہوں (وَأَمَّا الْخُرُوجُ عَلَيْهِمْ وَقِتَالُهُمْ فَحَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانُوا فَسَقَةً ظَالِمِينَ) شرح النووی علی مسلم، جلد12، صفحہ 229۔
اس قسم کا فیصلہ واضح طور پر ایک اجتہادکاواقعہ ہے۔ اسی اجتہاد پر عمل کرنے کی وجہ سے علما امت نے ساری تاریخ میں دوبارہ کبھی مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج نہیں کیا۔ حکمراں کی غلط روش پر انھوں نے قولی نصیحت تو کی، مگر کبھی ان کے خلاف عملی بغاوت منظم نہیں کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔