اب ہم ماضی سے گزر کر عصر حاضر میں آتے ہیں جو اپنی واضح صورت میں اٹھارویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ یہ نیا زمانہ اپنی غیر معمولی تبدیلیوں کی بنا پر مزید اضافہ کے ساتھ اجتہاد کا طالب تھا۔ چنانچہ علما نے بار بار اجتہاد کیا۔ اگرچہ دور حاضر میں علما کا اجتہاد اتنا موثر نہ ہو سکا جتنا کہ وہ دور حاضر سے پہلے تقریباً ہزار سال تک مفید اور موثر ثابت ہوا تھا۔ اس نئے دور کا اجتہاد کبھی تو اجتہادی خطا ثابت ہوا۔ اور کبھی ایسا ہوا کہ وہ اختلاف و نزاع کا شکار ہو گیا۔ اور عملاً امت کے اندر قبول عام حاصل نہ کر سکا۔ اس سلسلہ میں ہم یہاں چند مثالیں نقل کریں گے۔
اٹھارویں صدی کے آخر تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ مسلمان ساری دنیا میں مغربی قوموں کے مقابلہ میں مغلوب ہو چکے ہیں۔ 1770ء میں جنگِ چشمی (Battle of Cesme) میں عثمانی ترکوں کے طاقت ور بحری بیڑے کی تباہی اور پھر1799ء میں سلطان ٹیپو کی شہادت نے آخری طور پر اس مغلوبیت کو ثابت شدہ بنا دیا۔
اب سوال یہ تھاکہ کیا کیا جائے۔ اس وقت ساری دنیا کے مسلم ذہن صرف ایک بات سوچ سکے۔ اور وہ یہ تھی کہ مغربی قوموں کے خلاف مسلّح جنگ ۔ ہندستان اس وقت مغربی قوموں کی طاقت کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ چنانچہ 1806ء میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے یہ فتویٰ دیا کہ ہندستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان مغربی قوموں سے جنگ کر کے ان کا زور توڑیں اور انھیں مسلم دنیا سے نکلنے پر مجبور کر دیں۔ اس وقت یہ خیال تھا کہ ہندستان میں اگر مغربی استعمار کا خاتمہ ہو تو پوری مسلم دنیا سے اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس کے بعد ہندستان کے انگریز حکمرانوں سے خونین جنگ شروع ہوئی۔ یہ جنگ مختلف صورتوں میں تقریباً سو سال تک جاری رہی۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی ؒ کی جنگ اور 1857ء میں علما دیوبند کی جنگ ، اور اس طرح کی دوسری لڑائیاں اس کی مثال ہیں۔ انگریزوں سے براہ راست مسلّح ٹکراؤ جب ناکام ہو گیا تو علما نے بیرونی ملکوں (افغانستان، ترکی وغیرہ) کی مدد سے اس کو جاری رکھا جس کو ریشمی رومال کی تحریک کہا جاتا ہے۔ مگر وہ بھی مکمل طور پر ناکام رہا۔
مگر جیسا کہ معلوم ہے ، اس سو سالہ جنگ سے کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ مسلمانوں کی تباہی میں مزید بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ آخرکار 1920ء کے لگ بھگ زمانہ میں مہاتما گاندھی ظاہر ہوئے۔ انھوں نے متشددانہ جدوجہد (violent struggle) کے بجائے پرامن جدوجہد (peaceful struggle) کا نعرہ دیا۔ یہ نعرہ بیشتر علما کی سمجھ میں آگیا۔ مثلاً مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، وغیرہ۔ علما ہند کی 99 فیصد تعداد نے اس کو قبول کر لیا۔
یہ گویا سابق اجتہاد سے رجوع کرکے دوسرے اجتہاد کی طرف آنا تھا۔ یہ متشددانہ جہاد کو چھوڑ کر پرامن جہاد کے اصول کو اختیار کرنا تھا۔ تجربہ سے ثابت ہوا کہ پہلی رائے مجتہدانہ خطا تھی اور دوسری رائے مجتہدانہ صواب۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔