زمانۂ رسالت میں اجتہاد
اجتہاد کا لفظ عام طور پر تقلید کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں ۔ اجتہاد دراصل جمود کا ضد ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ لوگ ذہنی جمود کی حالت میں رہیں۔ تخلیقی فکر ان کے اندر پایا نہ جاتا ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن متحرک ہو۔ وہ تخلیقی انداز سے مسائل پر سوچتے ہوں۔ ذہنی جمود کی حالت میں اجتہاد کا عمل رک جاتاہے۔ اور ذہنی بیداری کی حالت میں اجتہاد کا عمل جاری رہتا ہے۔
اجتہاد کا عمل دوراول میں زمانۂ رسالتؐ ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ اور اس وقت سے آج تک وہ کسی توقف کے بغیر مسلسل جاری ہے۔ اس عمل میں مختلف اوقات میں کمی بیشی تو ہوئی۔ مگر خود اجتہاد کا عمل کبھی موقوف نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر کوئی اس کو روکنا چاہے تب بھی خود اپنے زور پر وہ لوگوں کے درمیان جاری ہو جائے گا۔
زمانۂ رسالت میں اجتہاد کی ایک مثال یہ ہے کہ غزوۂ احزاب کے بعد 5ھ میں آپؐ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمائی۔ یہ روانگی غالباً ظہر کی نماز کے بعد ہوئی تھی۔ ان کو روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)، لَا تُصَلُّوا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى تَأْ تُوا بَنِي قُرَيْظَةَ (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 252)۔ ان دونوں روایتوں کا لفظی مطلب یہ ہے کہ تم لوگ عصر کی نماز صرف اس وقت پڑھنا جب کہ تم بنی قریظہ کے علاقہ میں پہنچ جاؤ۔
اس کے مطابق لوگ اپنے اونٹوں پر روانہ ہو گئے۔ مگر ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ سورج ڈوبنے کے قریب آ گیا۔ اب ان میں اختلاف پیدا ہوا، کچھ لوگوں نے کہا کہ بنو قریظہ تک پہنچتے پہنچتے عصر کی نمازکا وقت ختم ہو جائے گا ، اس لیے ہم کو درمیان ہی میں نماز پڑھ لینا چاہیے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں، ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ کیوں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے کہ عصر کی نماز تم لوگ بنو قریظہ کی بستی میں پہنچنے سے پہلے مت پڑھنا۔
چنانچہ کچھ لوگوں نے اپنی رائے کے مطابق درمیان میں عصر کی نماز ادا کر لی۔ اور کچھ لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ بنو قریظہ کے علاقہ میں پہنچ گئے اس وقت انھوں نے عصر کی نماز پڑھی۔ اگرچہ وہاں پہنچ کر عصر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد جب رسول اللہ ؐ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے دونوں ہی کے عمل کی تصدیق فرمائی۔
علما نے اس واقعہ پر کافی بحث کی ہے۔ محقق علما کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے درمیان میں نماز پڑھی وہ اگرچہ بظاہر قول رسول کی خلاف ورزی تھی ، مگر یہ ان کا اجتہاد تھا اور ان کا اجتہاد درست تھا۔ کیونکہ انھوں نے اس حقیقت کو جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تیزی سے سفر کرکے جلد منزل پر پہنچو۔ آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نماز دیر کر کے پڑھو(اِنَّهُمۡ فَهِمُوا أَنَّ الْمُرَادَ إِنَّمَا هُوَ تَعْجِيلُ السَّيْرِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، لَا تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ) البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، جلد6، صفحہ75۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔