Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

حدیث میں

Urdu · 3 min read

حدیث کی کتابوںمیں روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ان سے پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی مسئلہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں اس کا حکم نہ پاؤ تو پھر کیا کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں اللہ کے رسول کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم سنتِ رسول میں بھی اس کا حکم نہ پاؤ تو پھر کیا کرو گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور کوشش میں کوئی کمی نہیں کروں گا (أَجْتَهِدُ رَأْيِي، وَلَا آلُو)۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اس اللہ کا شکر ہے جس نے رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3592)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اجتہاد کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔

hadithQuotes a hadith

صحیح البخاری (کتاب الاعتصام بالکتا ب و السنۃ) اور صحیح مسلم (کتاب الاقضیۃ) میں عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم کسی معاملہ میں فیصلہ دے اور وہ اس کے لیے اجتہاد کرے اور اس کا فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہے۔ اور جب وہ فیصلہ دے اور وہ اجتہاد کرے، پھر وہ غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے (إِذَا ‌حَكَمَ ‌الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ ‌أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1716۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس حدیث رسول ؐ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کی اہمیت دین میں بہت زیادہ ہے۔ حتی کہ بالفرض یہ اندیشہ ہو کہ اجتہاد کرنے والا کہیں غلطی نہ کر جائے تب بھی اجتہاد کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ضروری علم اور حسن نیت اگر موجود ہو تو اس کے بعد آدمی کو حق ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مشہور صحابی ِرسول حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس معاملہ میں دینی نقطۂ نظر کو نہایت کھلے لفظوں میں بیان کیا ہے۔ الحافظ السخاوی نے اپنی کتاب ’’المقاصد‘‘ میں ان کا قول اس طرح نقل کیا ہے

other sourceWords of another person or source

’’إذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ فِي كِتَابِ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فِيهَا فَلْيَنْظُرْ فِيمَا ‌اجْتَمَعَ ‌عَلَيْهِ ‌الْمُسْلِمُونَ، وَإِلَّا فَلْيَجْتَهِدْ ‘‘(المقاصد الحسنۃ للسخاوی، اثر نمبر 1288)۔ یعنی،جب تم میں سے کسی شخص سے (شرعی معاملہ میں) سوال کیا جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ خدا کی کتاب میں اسے دیکھے۔ پھر اگر وہ اس میں نہ پائے تو وہ اسے خدا کے رسول کی سنت میں دیکھے۔ اگر وہ اس کو وہاں بھی نہ پائے تو جس رائے پر مسلمان جمع ہو گئے ہوں اس میں اسے دیکھے۔ اور اگر وہ اس میں بھی اسے نہ پائے تو اس کے بعد اس کو چاہیے کہ وہ خود اجتہاد کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content