حدیث کی کتابوںمیں روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ان سے پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی مسئلہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں اس کا حکم نہ پاؤ تو پھر کیا کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں اللہ کے رسول کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم سنتِ رسول میں بھی اس کا حکم نہ پاؤ تو پھر کیا کرو گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور کوشش میں کوئی کمی نہیں کروں گا (أَجْتَهِدُ رَأْيِي، وَلَا آلُو)۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اس اللہ کا شکر ہے جس نے رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3592)۔
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اجتہاد کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔
صحیح البخاری (کتاب الاعتصام بالکتا ب و السنۃ) اور صحیح مسلم (کتاب الاقضیۃ) میں عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم کسی معاملہ میں فیصلہ دے اور وہ اس کے لیے اجتہاد کرے اور اس کا فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہے۔ اور جب وہ فیصلہ دے اور وہ اجتہاد کرے، پھر وہ غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے (إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1716۔
اس حدیث رسول ؐ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کی اہمیت دین میں بہت زیادہ ہے۔ حتی کہ بالفرض یہ اندیشہ ہو کہ اجتہاد کرنے والا کہیں غلطی نہ کر جائے تب بھی اجتہاد کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ضروری علم اور حسن نیت اگر موجود ہو تو اس کے بعد آدمی کو حق ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔
مشہور صحابی ِرسول حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس معاملہ میں دینی نقطۂ نظر کو نہایت کھلے لفظوں میں بیان کیا ہے۔ الحافظ السخاوی نے اپنی کتاب ’’المقاصد‘‘ میں ان کا قول اس طرح نقل کیا ہے
’’إذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ فِي كِتَابِ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فِيهَا فَلْيَنْظُرْ فِيمَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، وَإِلَّا فَلْيَجْتَهِدْ ‘‘(المقاصد الحسنۃ للسخاوی، اثر نمبر 1288)۔ یعنی،جب تم میں سے کسی شخص سے (شرعی معاملہ میں) سوال کیا جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ خدا کی کتاب میں اسے دیکھے۔ پھر اگر وہ اس میں نہ پائے تو وہ اسے خدا کے رسول کی سنت میں دیکھے۔ اگر وہ اس کو وہاں بھی نہ پائے تو جس رائے پر مسلمان جمع ہو گئے ہوں اس میں اسے دیکھے۔ اور اگر وہ اس میں بھی اسے نہ پائے تو اس کے بعد اس کو چاہیے کہ وہ خود اجتہاد کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔