اجتہاد کے لفظی معنی ہیں ، کسی کام میں اپنی پوری طاقت صرف کرنا۔ اجتہاد میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ لسان العرب میں ہے بَذَلَ وُسْعَه، جدَّ فِيهِ وَبَالَغَ(لسان العرب، جلد3، صفحہ134)۔ یعنی، اپنی پوری طاقت لگا دی۔ کوشش کی اور اس میں آخری حد تک پہنچ گیا۔ انگریزی میں کہیں گے
To struggle, to do one’s best.
اجتہاد کا لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے — وہ ممکن کوشش جو ایک ایسے معاملہ میں شریعت کا حکم جاننے کے لیے صرف کی جائے جس کے بارے میں کتاب و سنت میں کوئی نص واردنہ ہوئی ہو(اسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِي مَعْرِفَةِ الْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ فِي أَمْرٍ لَمْ يَرِدْ فِيهِ نَصٌّ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّة)۔
Ijtihad is to find Islamic answers to those questions which are not covered directly by Qur’an and Sunnah.
یہ اجتہاد اسلام کی تعلیمات میں کسی ریفارم کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اسلام کی ازسر نو تشریح کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ اسلام کے ناقابل تغیر اصولوں کو زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات پر دوبارہ منطبق کیا جائے
It is to re-apply an unchanging principle of Islam to the changing situation of the time.
قرآن میںاس اجتہاد کی اصل خود قرآن و سنت میں موجودہے۔ قرآن میں امن اور خوف کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب اس قسم کی کوئی غیر معمولی بات پہنچے تو تحقیق کے بغیر اس کو پھیلانے مت لگو۔ بلکہ اس کو رسول اور اصحاب امر کے پاس لے آؤ۔ تاکہ جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس کی حقیقت کو جانیں (لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ) اور اس کی صحیح شرعی حیثیت متعین کریں (4:83)۔
یہاں قرآن میں الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ کا لفظ آیا ہے۔ القرطبی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے وَالِاسْتِنْبَاطُ فِي اللُّغَةِ الِاسْتِخْرَاجُ، وَهُوَ يَدُلُّ عَلَى الِاجْتِهَادِ إِذَا عُدِمَ النص والإجماع (الجامع لاحکام القرآن، جلد5، صفحہ 392)۔یعنی، استنباط کے معنی استخراج کے ہیں۔ اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی معاملہ میں جب نص اور اجماع موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جانا چاہیے۔
امام رازی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آئے تو ا س کی بابت نص کے بجائے استنباط کے ذریعہ شرعی حکم معلوم کرنا جائز ہے۔ اور یہ کہ اس قسم کا استنباط (یا اجتہاد) بھی ایک حجت شرعی کی حیثیت رکھتا ہے (الِاسْتِنْبَاطُ حُجَّةٌ) تفسیر الرازی، جلد10، صفحہ154۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔