← Fikr-e-IslamiFikr-e-Islami
ایک جامعہ اسلامیہ کی ضرورت
Urdu · 8 min
موجودہ زمانہ انسانی تاریخ کا بالکل نیا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں انسانی تاریخ روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں داخل ہوئی۔ یہ خود دور اول میں آنے والے اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ تھا۔ اور فیصلہ کی یہ بنیاد جو نئے زمانہ نے فراہم کی وہ عین ہمارے حق میں تھی۔ مگر دور جدید کے مسلم رہنما نہ اس انقلاب کو سمجھے اور نہ وہ اس کو استعمال کر سکے۔
یہ انقلابی دور جب آیا تو اس کے بعد تمام قوموں کے لیے نئے مسائل پیدا ہوئے۔ مگر دنیا کی ہر قوم نے جلد یا بدیر اس کے مقابلہ میں اپنا موقف متعین کر لیا۔ اس عموم میں صرف ایک استثنا تھا اور وہ مسلمانوں کا تھا۔ مسلمان دنیا کی واحد ملت ہیں جو بیسویں صدی کے آخر میں بھی جدید دور کے مقابلہ میں اپنے موقف کا واضح تعین کرنے میں ناکام رہے ۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ جب نیا زمانہ آیا تو دوسری قومیں اس کے دھارے میں شامل ہو گئیں۔ اس بنا پر دوسری قوموں میں کثیر تعداد میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو اپنے روایتی علوم میں مہارت کے ساتھ عصری معلومات اور عصری زبان سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے یہاں یہ صورت حال ہے کہ ایسے افراد صرف شاذ کے درجہ میں ہیں جو دونوں قسم کے علوم میں دستگاہ رکھتے ہوں ، اور الشاذ کالمعدوم (کمیاب چیز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے)۔
اس مسئلہ کے حل کی تدبیر موجودہ حالات میں صرف یہ ہے کہ ملت میں کثیر تعداد میں ایسے افراد پیدا کیے جائیں جو دونوں طرف کی گہری معلومات کے حامل ہوں۔ جو ایک طرف دین کی روح اور دین کے نظام سے پوری واقفیت رکھتے ہوں۔ اوردوسری طرف جدید افکار پر بھی ان کی گہری نظر ہو۔ ایسے ہی لوگ اس مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہوں گے جو دور جدید میں ملت کی صحیح رہنمائی کے لیے ضروری ہے۔
موجودہ حالات میں اس کی قابل عمل صورت یہ ہے کہ اعلیٰ اہتمام کے ساتھ ایک ایسا مرکزی ادارہ قائم کیا جائے جہاں فارغ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو۔ اس میں ایک طرف مدارس دینیہ کے فارغین کو رکھ کر انھیں انگریزی اور دوسری عالمی زبانیں پڑھائی جائیں۔ انھیں جدید افکار کا منظم مطالعہ کرایا جائے۔ انھیں دور جدید کاعالم بنایا جائے۔
دوسری طرف اس ادارہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم پائے ہوئے لوگوں کی منتخب تعداد کو لایا جائے۔ یہاں ان کو دینی ماحول میں رکھ کر انھیں عربی زبان اور دوسری اسلامی زبانیں پڑھائی جائیں۔ دینی علوم کی مختلف شاخوں کا انھیں براہ راست مطالعہ کرایا جائے۔
یہ کورس د و سال یا اس سے زیادہ کا ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد اصلاً دونوں قسم کے نوجوانوں میں د وطرفہ مطالعہ کی استعداد پیدا کرنا ہو گا۔ تاکہ ادارہ سے فراغت کے بعد وہ اپنے دہرا علمی سفر کو جاری رکھ سکیں۔ ایک طرف علما جدید موضوعات سے آشنا ہوں۔ دوسری طرف سیکولر اداروں میں پڑھے ہوئے لوگ دینی شعبوں میں معلومات اور واقفیت بہم پہنچائیں۔
ایک حدیث الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ صحیح البخاری ، صحیح مسلم دونوں میں آئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ علم کبھی نہیں مٹے گا ، بلکہ علم کے حاملین دنیا سے چلے جائیں گے۔ اور دوسرے لوگ ان کی جگہ نہیں لیں گے۔ اس وقت بے علم افراد لوگوں کے رہنما بن جائیں گے۔ لوگ ان سے مسائل دریافت کریں گے۔ وہ اپنی بے خبری کی بنا پر غلط فتوے دیں گے۔ اس طرح خود بھی بھٹکیں گے اور دوسروں کو بھی بھٹکائیں گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 100؛ صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2673) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل کمی ہمیشہ لائق اہل علم کی ہوتی ہے۔ اہلیت رکھنے والے افراد معاملات کو سنوارتے ہیں ، اور نااہل افراد معاملات کو بگاڑ دیتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن و حدیث میں ایک طرف علم دین سیکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری طرف ایک حدیث میں ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ زمانہ کی بصیرت رکھنے والا ہو (أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ) صحیح ابن حبان،حدیث نمبر361۔اس میں کوئی شک نہیں کہ معاملات میں اسلامی رہنمائی دینے کے لیے بیک وقت دو قسم کے علم کی ضرورت ہے۔ ایک طرف قرآن و سنت پر گہری نظر ، اور دوسری طرف پیش آمدہ حالات سے گہری واقفیت۔ موجودہ زمانہ میں جو المیہ پیش آیا ہے وہ یہ کہ ہمارے یہاں اہل علم کی تو کثرت ہے۔ مگر یہ وہ لوگ ہیں جن کا علم یک طرفہ ہے۔ انھوں نے یا تو دینی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، یا صرف سیکولر علوم کو پڑھا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو مختلف مسائل پیدا ہوئے ہیں وہ دراصل اسی علمی و فکری کمی کا نتیجہ ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں یہ ہماری سخت ترین ضرورت ہے کہ ایسے صاحب علم افراد تیار کیے جائیں جو دونوں پہلوؤں کے بارے میں قابل اعتماد واقفیت رکھتے ہوں۔ تاکہ وہ قرآن کے الفاظ میں ، استنباط کی ذمہ داری ادا کر سکیں (4:83)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ ادارہ یا جامعہ اسلامیہ کے مقصد کے بارے میں یہی صحیح ترین لفظ ہے۔اس کا مقصد اہل استنباط تیار کرنا ہے۔ یعنی ایسے افراد جو اپنی دوطرفہ معلومات کی بنا پر اجتہادی اوصاف کے حامل ہوں، وہ ملت کو مجتہدانہ رہنمائی دے سکیں۔ ملت اسلامی کے لیے نیا اور بہتر مستقبل پیدا کرنے کے سلسلہ میں آج کرنے کا اصل کام یہی ہے۔